احساس پروگرام ،مسائل اورحل

احساس پروگرام ،مسائل اورحل
علی جان
ایشین ڈویلپمنٹ بینک کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 29.5 %لوگ غربت کی لکیرسے نیچے زندگی گزاررہے ہیں اصل میں انہی لوگوں کیلئے یہ پروگرام ہوتے ہیں مگربیچ میں کرپشن اور رشوت کے بھوکے بھیڑیے ان کے حق کھا کرڈکار بھی نہیںمارتے۔پاکستان میں کوروناوباکی وجہ سے حکومت وقت نے احساس پروگرام کے تحت ہرماہ غریب اورسفیدپوش طبقہ کو 12.000دینے کااعلان کیاہے تاکہ گھروں کے کرائے اوراشن میں کچھ مددہوسکے اورکسی کے آگے ہاتھ نہ پھیلاناپڑے ۔پوری دنیاکی طرح پاکستان بھی کوروناسے جنگ جیتنے کیلئے تیارکھڑاہے اسی لیے عالمی بنک نے پاکستان کوایک ارب ڈالرامدادی رقم فراہم کرے گاجس میں بیس کروڑکی فراہمی ہوچکی ہے اورصحت کے شعبہ میں 15کروڑاوراحساس پروگرام پر5کروڑ مختص کیے جائیں گے احساس پروگرام کے تحت یہ رقم ایک کروڑبیس لاکھ لوگوں میں تقسیم کی جائے گی۔وزیراعظم کی معاون خصوصہی ثانیہ نشترجوغریب طبقہ کیلئے براہ راست موثراقدامات کررہی ہیں وہ یقنیاً قابل رشک ہیں ۔مجھے یادپڑتاہے جب احساس پروگرام کے موقع پراعلان کیاتھاکہ جومنتخب نمائندے ہیں ان کے پاس اپنے علاقے میں اثرورسوخ بڑھانے کاسنہری موقع ہے ایسے کٹھن حالات ہیں جہاں مل جل کرکام کرناچاہیے وہاں بھی سیاست کھیلی جارہی ہے جوکہ غیرمنصفانہ رویے کوجنم دینے کے علاوہ کچھ نہیںراقم کی معلومات کے مطابق 6کروڑبائیس لاکھ پچاس ہزارلوگوںکے پیغامات موصول ہوچکے ہیں اورمتعددایسے لوگ ہیں جوبارہامستفیدہورہے ہیں جیساکہ بے نظیرانکم سپورٹ پروگرام میں پہلے سے شامل ہیں ایسے میں پھرسے سفیدپوش مستحقین کے امداد سے محروم رہنے کے خدشات ہیں حکومت کوٹیکنالوجی سے کام لیتے ہوئے ایسے سفیدپوش لوگوں کی مددکرنی چاہیے جوکسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلاتے مگررہتے کرائے کے گھروں میں ہیں ۔اگرہرماہ گیس اوربجلی کے بل گھروں تک پہنچ سکتے ہیں تو پیسے کیوں نہیںآج کل ہرایک کے پاس فون ہے اس کے ذریعے بھی پیسہ کی ترسیل ہوسکتی تھی کچھ لوگوںکاتوخیال ہے کہ بے نظیرانکم سپورٹ پروگرام والارقم ترسیل طریقہ درست تھا توقارائین آپکوبتاتاچلوں کہ پاکستان میں ۱یک کروڑبیس لاکھ افراد بے روزگار گھرپربیٹھے ہیں جن میں اسی لاکھ 80,00000کے قریب خواتین ہیں جن کیلئے BISPسپورٹ کا کام کرتی ہے تاکہ وہ اپنا کوئی کاروبار کرکے سراٹھاکرجئیں ناکہ قسط آنے کا انتظارکرتے رہیں اور بھکاریوں سی زندگی گزارتے رہیں ۔ BISPبے نظیرکی شہادت 2007کے بعدجب آصف زرداری کی مشاورت سے یوسف رضا گیلانی نے شروع کیا ۔2008میں ابتدائی طورپراس کا بجٹ 44ملین تھا پھرپیپلزپارٹی نے نواز شریف دورمیں 221ملین تک لے جانے میں کامیاب ہوئی۔فرنچائزاونرریٹیلرز(دکانداروں )کو165روپے کی سم دیتا ہے جوسینکڑوں کی تعدادمیں ہوتی ہیں اوروہی سمیں لوگوںکوفری دینے کوکہتے ہیں جس سے دکاندارکو 13%نقصان اٹھانا پڑتاہے ریٹیلربھی مجبورہوتاہے کیونکہ اگروہ تھوڑا نقصان نہ کرے گا تواسکی ڈیوائس بلیک لسٹ کردیںگے جس کی وجہ سے فرنچائز تو ایماندار بن جاتی ہے مگرریٹیلرکولوگ بے ایمان بناتے رہتے ہیں جب قسط آتی ہے تو 4834یا اس سے کم وبیش ہوتے ہیں جس میں سے ریٹیلرنے 200فی کس فرنچائزاونرکو دیناہوتا ہے جس کی وجہ سے وہ اپنا حصہ بھی نکالتا ہے عام طورپردکاندار300کٹوتی کرتے ہیں اور کارڈ اونرکو 4500پکڑادیے جاتے ہیں اگرریٹیلرسے 1500خواتین بھی رقم نکلوائے تو4,50000بنتے ہیں جن میں 3لاکھ فرنچائز کا حصہ ہوتا ہے اور 1,50000ہوتاہے جس میں اس طرح فرنچائزاورریٹیلرسالانہ مل کرکم از کم 1800000روپے بلیک منی بنالیتے ہیں جنہیں کوئی پوچھنے والا نہیں ہوتا۔اس دوران کئی موقع دیکھنے کوملتے ہیں کہ دکانداراوں کو پولیس گرفتارکرلیتی ہے مگرمجال جو فرنچائز والوں کوہاتھ لگائیں جس کی وجہ سے یہ ریٹیلراپنے ہی علاقے میں بدنام ہوکررہ جاتے ہیں اور واپس آنے پرہرآدمی کو بنا مطلب کے جواب و اپنے حق میں صفائی دینی پڑتی ہے قسطوں کے اختتام پر فرنچائزاونراپنا حصہ لے کر پُھرہوجاتے ہیں انہیں ریٹلرکے دکھ دردسے کوئی غرض نہیں ہوتی انہیں صرف اپنے پیسے سے مطلب ہوتا ہے چاہے وہ ریٹیلراپنا منافع دے کرہی کیوں نہ رہا ہوا ہو۔کچھ ریٹیلرزنے تو پولیس سے بچنے کیلئے صحافت کی آڑلے رکھی ہے جنہیں پولیس مڑکربھی نہیں دیکھتی حالانکہ ایسے لوگوں نے صحافت کی آبروپرداغ لگانے میں کثرنہیں اٹھارکھی ہوتی۔میرے بس میں آئے تو ایسے لوگوں کو بیچ چوراہے میں گولی مروا دوں جنہوں نے اس مقدس پیشہ کو بدنام کرکے رکھا ہوا ہے یہ کرپٹ لوگ انہی غریبوں اور بیوﺅاں کے پیسوں سے ہرسال نئی گاڑی لیتے ہیں اور قسط لینے کیلئے آنے پر دھتکارتے بھی انہی کوہیں حکومت نے اس پروگرام کو بندتونہیں کیا مگراس کیلئے کوئی پالیسی بنائے تاکہ جن عورتوں کے ساتھ نارواسلوک ہوتاہے اور جن کے بلاوجہ پیسے کٹوتی ہوتے ہیں ان کو ان کا حق دیا جائے اور ریٹیلرز کو ڈائریکٹ رابطے نمبرزاورڈیوائسز دی جائیں تاکہ وہ لوگوں کو انکا حق پورہ امانت بطوردے سکیں اگروہ بلیک میل نہ ہوں گے تو شایدوہ صرف اپنا حق لیں ناکہ لوگوں کا حق مارکر انکی جیب پرڈاکہ ڈالیں تاکہ اس پراجیکٹ کامستحق لوگ فائدہ اٹھائیں نہ کے کرپٹ لوگ اپنے بینک بیلنس بناتے رہیں۔سننے میں آرہاتھاکہ احساس پروگرام شفاف پروگرام ہے مگرافسو س کے ساتھ کہناپڑرہاہے کہ اتناشفاف پروگرام ہونے کے باوجود موجودسیاسی کارندوں کے آشیرباد سے 500سے 2000تک کی کٹوتیاں ہورہی ہیں کئی جگہوں پر انگوٹھالگواکررقم نہ دیناکمیشن خوروں کے خلاف صرف مقدمات درج کروانے کی خبریں سامنے آرہی ہیں روز خبروں میں سنائی دیتاہے کہ فلاں روپے تقسیم کیے گئے ہیں اتنی رقوم تقسیم کی جاچکی ہیں کئی ایسے مراکز دیکھنے اورسننے کوملے جنہیں سن کردل افسردہ ہوگیاکہ وہاں پربدنظمی،دھکم پیل ،بڑے بزرگوں کااحترام نہ کرناعملے اورسیکورٹی کی طرف سے گالیاں،دھکے اورملتان کے ایک مرکز پردھکم پیل کی وجہ سے ایک عورت کی موت کابھی سنائی دیاجسے سن کرکوروناسے نہیں غربت سے ڈرلگنے لگا۔قارائین نادراریکارڈکے مطابق رقم کی تقسیم کے امدادی منصوبے میں ایسے لوگوں کوشامل کیاگیاہے جن خاندانوںمیں میاں یابیوی میں سے کسی ایک کے نام پرایک یازائد موٹرسائیکل یاگاڑی رجسٹرڈ نہ ہو،پی ٹی سی ایل یاموبائل بل ماہانہ ایک ہزارسے کم آتاہو،تین یازائدافرادکا شناختی کارڈ ایگزیکٹوفیس سے نہ بناہو،اگرکسی نے بیرون ملک سفرکیاہے تواس کانام بھی امدادی منصوبے میں شامل نہیں کیاجائے گا۔میں ایک مثال دیناچاہتاہوں جسے یقیناً میرے قارائین مستفیدہونگے اگرایک گھرمیں 5بیٹے اور1بیٹی ہے تووہ سب مل کر6ماہ میں رقم جمع کرکے اپنے باپ کوعمرہ کرائیں تویقنیاً وہ 6ماہ کی رقم جمع کرنے والے امیرنہ ہونگے مگرحکومت کواس سے کیاغرض اس کے علاوہ اگرکوئی باہرکے ملک گیاہے مثال کے طورپرکوئی صحافی یااین جی اوکانمائندہ ہواسے اداہ بھیجے گانہ کے وہ اپنے پیسے لگاکے جائے گاتواس میں اس کا قصورہوگیاکہ اس نے باہرکے ملک جانے کی گستاخی کی ہے جس کی سزااس کے سمیت پورے خاندان کودی جارہی ہے ۔ہمارے ملک میں کوروناریلیف فنڈجمع ہورہاہے مگرافسوس کی بات ہے کہ کوئی سیاسی ،تاجر،گلوکار،اداکارکسی نے خاطرخواہ امدادنہیں کی مگرایک انڈیاہے جس کے سیاستدانوں اور اداکاروںنے کروڑوںاربوں کی امدادکرکے اپنے ملک کوسپورٹ کیا مگرہمارے سیاستدان صرف گھپلے کرناجانتے ہیں اورفنکاربے کاربنے ہوئے ہیں ۔آخرمیں صرف اتناعرض کروں گاکہ اس مشکل وقت میں بلیک مارکیٹنگ،منافع خوری ،گراں فروشی ،بھتہ خوری اورزخیرہ اندوزی کوچھوڑکرمستحق لوگوں کی امدادکرنی چاہیے تاکہ آخرت کے وقت اپنے اللہ کے حضورسرخروہوسکیں۔