بھاگ کو پانی دو

بھاگ کو پانی دو
انجینئر مظہر خان پہوڑ
آج سے کوئی دو سال پہلے مجھے شکار پور سندھ میں ایک بہت ہی شفیق انسان اور پہوڑ قوم کے تاریخ دان ڈاکٹر غازی غلام حسین پہوڑ مرحوم (اللہ اُن کو غریق ِ رحمت کرے) سے ملاقات کا موقع ملا بیمار ہونے کے باوجود انہوں نے مجھے ویلکم کیا اور جتنے دن مَیں نے شکارپور قیام کیا میری بیٹوں کی طرح خدمت کی۔ پاﺅں فریکچر ہونے کے باوجود میرے ساتھ چل کر تمام قریبی لوگوں سے متعارف کروایا جن میں پی پی رہنما آغا مختیار خان پہوڑ،پی پی کے سرگرم کارکن بھائی زاہد حسین پہوڑ اور پیارے بھائی عبدلحمید پہوڑ شامل تھے۔ جو آج بھی کسی نہ کسی واسطے سے میرے ساتھ منسلک ہیں۔ شکار پور اور سندھ کی دیہی علاقوں کی محرومیاں دیکھ کر مجھے شدید دکھ ہوا جس پر جتنا لکھا جائے کم ہے۔ لیکن اُن کی ایک دہاتی روایت دیکھ کر مجھے بہت خوشی ہوئی وہ یہ کہ کام کاج سے فراغت کے بعد شام کو سارے گاﺅں والے اور اڑوس پڑوس سے آکر لوگ گاﺅں کے باہر بنے ڈھابوں پر اکھٹے ہو جاتے ہیں۔چارپائیوں اور موڑھوں پر بیٹھے گپیں ہانکتے دکھ سکھ بانٹتے ہیں۔ روز شام ہوتے ہیں ہی ایسے لگتا ہے جیسے گاﺅں میں کوئی میلا لگ گیا ہے۔ وہاں لوگوں کو چائے، پکوڑے سموسے، حلوہ اور جلیبیی جیسی کھانے پینے کی چیزیں پیش کی جاتی ہیں۔ لیکن یہ سارے ڈھابے گاوئں کے باہر والی سائڈ پر موجود ہوتے ہیں جس سے فیملی سسٹم زرا بھر بھی متاثر نہیں ہوتا۔ ٹی وی، موبا?ل، فیس بک کے باوجود سوشل کنٹیکٹ کی یہ روایت میرے لیے کافی متاثرکن اور قابل تعریف تھی۔
آگلے دن شکار پور جیکب آباد ڈیرہ مراد جمالی اور اُس سے آگے بھاگ ناڑی بلوچستان بھائی طا?ب امیر پہوڑ کے انکل کی نماز جنازہ میں شرکت کے لیے روانہ ہوئے تو جوں ہی ڈیراہ مراد جمالی سے آگے نکلے تو تاحد ِ نگاہ بنجر میدان ہی میدان نظر آنے لگ گئے۔ گاڑی دو تین گھنٹے سڑک پر بھاگتی رہی اور ٹرین کی پٹڑی، ایف سی کی چیک پوسٹس اور بنجر میدان کے علاوہ کچھ نظر نہ آیا۔ کہیں کوئی ایک آدھ پودا نظر آتا جہاں بارش کا پانی تھوڑا بہت رک سکتا تھا ورنہ چٹیل میدان تاحد ِ نگاہ تک پھیلا ہوا تھا۔ سر باہر نکالے بنجر زمین دیکھتے ہوئے سوچ رہا تھا کہ اگر یہاں پانی میسر ہوتا تو یہ زمین سونا اُگلتی۔ سبزے سے قدرت کو مزید خوبصورت بناتی خوراک اور ملکی وسائل میں اضافہ کرتی۔ گاڑی اُسی طرح بنجر میدان کو چیرتی ہوئی منزل کی جانب رواں داوں تھی۔ رستے میں کوئی ایک آدھ کمرہ نظر آیا یا پھر زیر تعمیر مسجد کے سامنے کھڑے چندہ مانگنے والے طلبا ورنہ وہی چٹیل میدان۔ ہماری منزل بھاگ ناڑی(بلوچستان) ایک گاﺅں نما قصبہ تھی۔ کافی سفر طے کرنے کے بعد جس میں اب ہم داخل ہو رہے تھے۔ داخلی راستے کے بلکل قریب اور گا?ں کے باہر ایک تالاب نظر آیا جسے دیکھ کر مجھے شدید دکھ ہوا وہاں اُس تالاب سے جانور، پرندے بھی پانی ہی رہے تھے اور کچھ نقاب پوش عورتیں بھی گھڑے بھر کر لے جا رہی تھیں۔ کچھ لوگ گدھوں اور خچروں پر وہی تالاب کا گدلا پانی گھروں کو سپلائی کر رہے تھے نتھارنے کے بعد جس سے لوگ اپنی پیاس بجھاتے ہیں۔ بھاگ نامی گاﺅں پہنچے تو محترم بزرگ حاجی حمزہ خان اور اُن کے صاحبزادے سرفراز پہوڑ نے ریسیو کیا۔ بھاگ گاﺅں میں زیادہ تر گھر کچے تھے اور ہر طرف دھول ہی دھول اُڑ رہی تھی۔ حاجی حمزہ خان کی رہنما?ی میں فوتگی والے گھر پہنچے تو تعزیت کے لیے آئے سب لوگ بلوچی کلچر میں ملبوس تھے اور مَیں ویسٹ کلچر کا غلام درمیان میں بلکل الگ تھلگ پینٹ شرٹ میں موجود تھا۔ فوتگی پر آئے جب سب لوگوں کو وہی تالاب والا گدلا پانی پینے کو دیا جا رہا تھا تو مَیں نے پانی پلانے والے بھائی کو اشارہ کیا تو مجھے دیکھ کر وہاں موجود ایک بھائی نے کہا کہ آپ یہ پانی نہ پیئں باہر سے آئے مہمانوں کے لیے منرل واٹر موجود ہے۔ منع کرنے کے باوجود اور بوٹل واٹر آنے تک مَیں نے جان بوجھ کے وہی گدلا پانی لیا اور پی گیا تاکہ مجھے بھی پتہ چلے محرومی کیا ہوتی ہے۔ پانی پیتے ہوئے مَیں اللہ سے یہ التجا کر رہا تھا کہ اے اللہ مجھے اتنی طاقت دے کہ مَیں انسانی وسائل پر قابض حکمرانوں، جگے اور جاگیرداروں کے گریبان پکڑ کر اُن کو اِسی تالاب کا گندا پانی پلاﺅں تاکہ اُن کو احساس ہو سکے کہ لوگ کتنی کربناک زندگی گزرنے پر مجبور ہیں۔
خیر بھاگناڑی کے ابتر حالات اور بلوچستان کی حکومت کی لاپرواہی دیکھ کر چند نوجوان وفا مراد سومرو اور طائب امیر پہوڑ کی قیادت میں ایک تحریک شروع کی۔ جس کا سپریم کورٹ نے نوٹس لیا اور پی ایچ ڈی اور حکومت بلوچستان کو طلب کیا لیکن اتنا ہونے کے باوجود بھاگ ناڑی کے پینے کے پانی کا مسئلہ حل نہیں ہوا تو سماجی ورکرز نے تحریک کو مزید آگے لے کر بھاگ ناڑی300 کلو میٹر دارالحکومت بلوچستان کوئٹہ پیدل مارچ کیا لیکن حکومت بلوچستان کے اندھے اور بہرے حکمرانوں کے کانوں میں جوں تک نہ رینگی۔ نوجوانوں نے حکومت ِ بلوچستان کو 15 دن کا ایلٹی میٹم دیا اگر مسئلہ حل نہ ہوا تو تادم مرگ بھوک ہڑتال کریں گے لیکن حکومت نے اپنی روایات برقرار رکھتے ہوئے کوئی اقدام نہ کیا۔ 15 دن پورے ہونے کے بعد تحریک کے جوانوں نے پریس کلب کوئٹہ کے سامنے تادم مرگ بھوک ہڑتال کا کیمپ لگایا۔ پانچویں دن حکومت بلوچستان کی ایک ٹیم کے ساتھ مذاکرات ہوئے اور عرصہ دراز کے بعد حکومت نے کام شروع کر دیا جوکہ ابھی تکمیل کے مراحل میں ہے لیکن ابھی تک بھاگناڑی کے باسی جانور پرندے اُسی تالاب کا گندہ پانی پینے پر مجبور ہیں اور حکمران طبقہ نیسلے، قرشی اور پیپسی کے بوٹل واٹر میں بھی کیڑے نکال رہی ہے۔”غربت اور بھوک و افلاس قدرتی نہیں جاگیرداروں،مکاروں اور لوٹیروں کی دوسروں کے رزق پر ڈاکہ زنی کی بدولت ہے“