سعودی عرب کا محدود حاجیوں کے ساتھ حج کا اعلان

سعودی عرب کا محدود حاجیوں کے ساتھ حج کا اعلان

سعودی عرب کا محدود حاجیوں کے ساتھ حج کا اعلان

ؓٓبادشاہ خان
صبح فجر کی نماز کے بعد جب موبائل پر واٹس ایپ پیغامات پڑھنا شروع کئے تو سعودی عرب کے پاکستان میں سفارت خانے کے میڈیا ڈائریکٹر علی خالد کا پیغام حج کے عنوان سے نظر آیا، فورا اسے پڑھنا شروع کیا، جس میں سعودی عرب کی حکومت نے اس بار حج میں محدود حاجیوں کے ساتھ کرنے کا کہا تھا، وجوہات وہی ہیں، عالمی وبا کرونا اور اس کے نتیجے میں ہونے والی اموات و نقصانات جس کی وجہ سے دنیا بھر میں لاک ڈاون کی صورت حال رہی ہے، خیر سعودی عرب کے سرکاری بیان کے مطابق سعودی عرب کی حکومت نے رواں برس کورونا وائرس کے پیش نظر حج کے شرکا کی تعداد محدود رکھنے اور صرف سلطنت میں مقیم افراد کو حج کرنے کی اجازت دینے کا اعلان کیا ہے۔22 جون کی شب سعودی وزارت حج و عمرہ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ’دنیا کے 180 سے زائد ممالک میں کورونا وائرس کی وبا کے پھیلاؤ کے پیش نظر محدود تعداد میں سلطنت میں مقیم مختلف ممالک کے شہریوں کو حج کا موقع دیا جائے گا۔‘ سعودی عرب کی وزارت خارجہ کی جانب سے ٹوئٹر پر بھی سعودی وزارت حج و عمرہ کے اس فیصلے کے متعلق آگاہ کیا گیا۔سعودی وزارت حج و عمرہ نے بیان میں مزید کہا کہ ’کورونا وائرس کے باعث دنیا بھر میں پانچ لاکھ کے قریب اموات ہو چکی ہیں اور 70 لاکھ سے زائد افراد اس وائرس سے متاثر ہیں۔ کورونا کی وبا اور روزانہ عالمی سطح پر اس وائرس کے متاثرین کی تعداد میں اضافے کے پیش نظر یہ طے کیا گیا ہے کہ رواں برس 1441ھ کے حج میں سعودی سلطنت میں مقیم مختلف ممالک کے عازمین کو محدود تعداد میں شریک کیا جائے گا۔‘
اس اعلان سے دنیا بھر میں موجود عازمین حج میں مایوسی پھیل گئی،لیکن سوال یہ ہے کہ وبا ء کے وقت اپنے علاقوں میں رہنا بھی سنت ہے، اور اس حوالے سے مزید تفصیلات اگر درکار ہوں تو اپنے مقامی مسجد کے عالم صاحب یا دیگر علماء سے رائے لیں، پریشان ہونے کی ضرورت نہیں،اگر اللہ نے آپ کی مقدر میں حج بیت اللہ لکھا ہے، تو آپ اس سے محروم نہیں ہوسکتے، اس سال نہ سہی اگلے برس ان شاء اللہ تیاری کریں، کرونا کی وجہ سے حاجیوں کی تعداد محدود کرنا اور سعودی عرب میں مقیم افراد کے ذریعے حج کے فریضے کو مکمل کرنا خوش آئند ہے، شکر کریں خدا خدا کرکے مساجد کھولیں ہیں، توبہ استغفار کا ورد جاری رکھیں، اللہ کی ناراضگی دور کرنے کے لئے توبہ اور رجوع الہ اللہ کا وقت ہے، فتنوں کے اس دور میں سورہ کہف کی تلاوت کو معمول بنائیں،اللہ ضرورموقع دے گا، پریشان مت ہوں اس سال نہ سہی اگلے برس سہی، بس مانگنے کا سلسلہ بند نہیں ہونا چاہی ہے۔
ایک بات اورعام مسلمانوں کو ایک بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ تاریخ میں متعدد بار طواف کعبہ رکا، اس میں سب سے مشہور واقعہ 317 ہجری میں فتنہء قرامطہ کا ظہور تھا، یہ وہ خطرناک گروہ تھا جو حج کو جاہلیت کے زمانے کا عمل قرار دیتے تھے، انھوں نے تقریبا دس سال تک مسلمانوں کو حج کا فریضہ ادا کرنے سے روکے رکھا، کعبہ کی دیواروں پر حجاج کا قتل عام کیا اور حجر اسود کو چوری کر کے لے گئے جو کہ بیس سال بعد ان سے بازیاب کرایا گیا۔1814 عیسوی میں طاعون کی وجہ سے حج روک دیا گیا۔1883 میں ہیضہ کی وباء پھوٹنے کی وجہ سے حج روک دیا گیا۔1979 عیسوی میں جھیمان العتیبی نے جب حرم مکی پر قبضہ کیا تو دو ہفتوں تک طواف کعبہ نہ ہوسکا اور مسجد الحرام میں نماز ادا نہ کی جا سکی۔اور 2017 عیسوی میں بے پناہ ہجوم کے باعث طواف رک گیا۔اس کے علاوہ شدید بارش اور سیلاب کے باعث متعدد دفعہ طواف کعبہ رکا رہا۔یہ سب واقعات کن کے سبب اور کن حکومتوں کے دوران پیش آئے یہ آپ تاریخ سے استفادہ کرکے یا گوگل کر کے با آسانی دیکھ سکتے ہیں لیکن ان واقعات کے دوران بھی زمین کی نقل و حرکت بند نہیں ہوئی اور نہ چاند سورج اور دیگر اجرام فلکی ٹوٹ کر گر پڑے لہذا ڈر اور خوف کی فضا پیدا کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔حالیہ کورونا وبا کے دوران سعودی حکومت نے انسانوں کی فلاح کی خاطر مطاف کا ایریا خالی کروا کر کئی بارصفائی ستھرائی کی اور جراثیم کش ادویات کا چھڑکاؤ کیا، لیکن پہلی اور دوسری منزل پر طواف کا عمل جاری رہا اس لئے سعودی حکومت کو لعن طعن کرنے کے بجائے امت مسلمہ کو اللہ سے اس آفت سے پناہ مانگنے اور توبہ و استغفار کرنے کی ضرورت ہے۔کیونکہ وہی“اللہ”ایک واحد مشکل کشا ہے، جس کے حضور سب حاجت روائی کے لئے پیش ہوتے ہیں۔ اللہ ہماری مشکلیں حل کرے اور ضرورتیں پوری فرمائے۔ہر چیز کے لئے اللہ کے پاس ایک وقت معین ہے، وہ جب چاہے گا قیامت بھی قائم کر دے گا لیکن طواف کعبہ کے رکنے سے اس کا مشروط ہونا ثابت نہیں، اور اگر انسانی طواف رک بھی جاتا ہے تو دیگر مخلوقات کا طواف جاری رہتا ہے۔اور آخری بات یہ جرثومہ حیاتیاتی جنگ کا حصہ بھی ہوسکتا ہے، ایسا اب خود مغربی ریسرچر کہنے پر مجبور ہیں، فری میسن کی خفیہ تنظیم اور اس کے آلہ کار ادارے اس وائرس کے بعد دنیا بھر میں سرگرم نظر آئے، خود کئی بار عالمی ادارے صحت ڈبیلو ایچ او نے بیانات بدلے، لیکن تاحال اس کا حل نہیں سامنے آیا، اس کرونا وائرس کے اچانک نمودار ہونے سے یورپ ،امریکہ سمیت چین سمیت کئی ممالک کی معیشت پر براہ راست اثر پڑا ہے، اور اس کے اثرات بلکہ آفٹر شاکس جاری ہیں، کئی ممالک کے اسٹاک ایکسچنج متاثر ہوئے ہیں،، اگر یہ لیبارٹری میں تیار کردہ وائرس ہے تو پھر بہت جلد اس وائرس کا اینٹی وائرس بھی سامنے آجائے گا، اور یا مقاصد پورے کے بعد اچانک غائب ہوجائے گا، بہر حال گھبرانے کی ضرورت نہیں، احتیاط اور صبر کا دامن ضروری ہے، لیکن سوال وہی ہے کہ کیا پاکستانی صحت کے ادارے اور وفاقی حکومت سمیت صوبائی حکومتیں اس وباء سے نمٹنے میں ناکام کیوں ہیں؟۔اللہ اس وباء سے سب کی حفاظت فرمائے۔