بنیادی صفحہ -> پاکستان کی خبریں -> موٹرسائیکل کے بعد گاڑیوں کی قیمت میں بھی اضافہ کردیا گیا

موٹرسائیکل کے بعد گاڑیوں کی قیمت میں بھی اضافہ کردیا گیا

لاہور(ویب ڈیسک)‌: ہنڈا سوک اور ٹُیوٹا گرانڈی گاڑی کی قیمت میں اضافہ ہوگیا ہے۔ ان گاڑیوں پر ڈیوٹی میں اضافے کے باعث ان کی قیمتوں میں 2 لاکھ 80 ہزار روپے بڑھادئیے گئے ہیں۔ ان ماڈلز کی قیمتوں میں اضافہ سپلیمنٹری بجٹ میں کیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق :‌فنانس سپلیمنٹری ترمیمی بل 2019 میں حکومت نے مقامی تیار کردہ گاڑیوں پر 10 فیصد فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی تجویز دی تھی۔ ان میں وہ گاڑیاں شامل تھیں جو 1800 سی سی یا اس سے زائد ہوں۔ تاہم اب اس میں ترمیم کرکے 1700 سی سی یا اس سے زائد سی سی کی گاڑیاں شامل کرلی گئی ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہنڈا سوک 1799 سی سی اور ٹیوٹا الٹس گرینڈی 1798 سی سی کی قیمتوں میں 10 فیصد اضافہ ہوگا۔ ہنڈا کی ویب سائٹ کے مطابق اب اس گاڑی کی قیمت 28 لاکھ روپے تک پہنچ گئی ہے۔ اس کے علاوہ ضمنی فنانس بل میں ایک اور ترمیم کی گئی ہے جس کے تحت نان فائلرز بھی مقامی تیار کردہ گاڑیاں خرید سکیں گے۔ یہ فیصلہ اس وقت کیا گیا ہے جب نان فائلرز کو 1300 سی سی کی نئی گاڑیاں خریدنے کی اجازت مل گئی ہے۔ آٹو سیکٹر کے لیے کی گئی یہ ترامیم مقامی سطح پر گاڑیاں بنانے والے اداروں کے لیے خوش آئند ہیں۔ پاکستان کے تین بڑے گاڑیاں بنانے والے ادارے، پاک سوزوکی موٹرز کمپنی لمیٹیڈ، کرولا گاڑیاں بنانے والے انڈس موٹرز اور ہنڈا کار کمپنی کے 6 لاکھ 98 ہزار شئیرز میں 5 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ انٹر مارکیٹ سیکورٹیز کی رپورٹ کے مطابق نان فائلر کو نئی گاڑیاں خریدنے کی اجازت ملنے کا سب سے زیادہ فائدہ انڈس موٹرز کو ہوگا کیوں کہ ان کی تمام گاڑیاں 1300 سی سی سے زائد ہیں۔ ملک میں انڈس موٹرز کے 30 فیصد صارفین نان فائلرز ہیں۔ ہنڈا کمپنی کے 10 فیصد صارفین نان فائلرز ہیں۔ روپے کی قدر میں کمی کے باعث پچھلے 12 ماہ میں گاڑیاں بنانے کے مقامی اداروں نے 25 فیصد تک قیمتوں میں اضافہ کیا ہے۔ ان گاڑیوں میں لگنے والے 70 فیصد پارٹس بیرون ملک سے منگوائے جاتے ہیں اور ان کی ادائیگی ڈالرز میں کی جاتی ہے۔

پی ٹی آئی حکومت کو اقتدار میں آنے کے بعد تجارتی خسارے سمیت بجٹ خسارے کا بھی سامنا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ پاکستان میں آنے والے ہر ایک ڈالر کے بعد 2 ڈالر خرچ ہوجاتے ہیں۔ اس کے علاوہ، حکومتی اخراجات ریوینو سے بڑھ چکے ہیں اور سالانہ 2 ٹریلین ڈالر کا نقصان ہورہا ہے- جب بات آٹو سیکٹر کی ہوتی ہے تو حکومت نے کئی ترامیم کی ہیں جن میں نان فائلرز پر پابندی اور ٹیکسز میں اضافہ شامل ہیں۔ ان ترامیم کا مقصد ٹیکس ریوینو میں اضافہ تھا اور مزید لوگوں کو ٹیکس نیٹ میں لانا تھا۔ حالیہ ترمیم کے بعد حکومت نے بیرون ملک سے لائی گئی لگژری گاڑیوں پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی میں 20 فیصد سے بڑھا کر 25 فیصد کی ، ان میں 1800 سی سی گاڑیاں شامل ہیں۔ 3000 سی سی کی گاڑیوں پر ڈیوٹی میں 30 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*