بنیادی صفحہ -> دلچسپ و عجیب -> بیوی سے معافی منانگنے کا دلچسپ اور انوکھا طریقہ
بیوی
بیوی

بیوی سے معافی منانگنے کا دلچسپ اور انوکھا طریقہ

لاہور(ویب ڈیسک) بیوی کی ناراضگی تو عام سی بات ہے مگر اس کو منانے کیلئے عوام کو کیا کچھ نہیں کرنا پڑتا اور حل ہی میں رپورٹ بھی جاری کی گئی ہے کہ جیون ساتھی سے بچھڑنے کا صدمہ انسان کی موت کی وجہ بن سکتا ہے ۔اب وجہ یہ ہے کہ ناراض بیوی کومنایا کیسے جائیں ؟ ایسا ہی کچھ انوکھا واقع ہیوسٹن ، ٹیکساس سے تعلق رکھنے والے جوز ایل ٹورس نامی شخص کو پیش آیا ۔جس میں شوہر نے اپنی شریک حیات کا بھروسہ دوبارہ سے قائم کرنے کیلئے ٹورس نے اپنی چھاتی پر مستقل طور پر معافی اور اعتراف نامہ گدوالیا۔ٹورس کا کہنا ہے کہ ایسا اس نے اپنی بیوی کے اعتماد کو دوبارہ سے جیتنے کیلئے کیا ہے۔وہ اپنی شادی شدہ زندگی بہت تکلیف دہ ہو جانے پر شرمندہ ہے۔
ذرائع کے مطابق :معافی نامے میں ٹورس نے اپنے جھوٹے اور دوغلے ہونے کا اعتراف بھی کیا ہے۔اب ٹورس نے بیوی کو منانے کیلئے غلط طریقہ اختیار کیا یا صحیح یہ ایک الگ بحث ہے لیکن ٹورس کی گ±دی ہوئی چھاتی کی تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد سے ایک الگ بحث چھڑ گئی ہے۔یہ بحث ہے درست املے اور ہجوں کی۔گدائی کرنے والا آرٹسٹ املے اور ہجوں کا ماہر نہیں تھا اسی وجہ سے انٹرنیٹ پر کئی لوگوں نے تحریر میں غلطیوں کی نشاندہی اس آرٹسٹ کے انسٹا گرام اکاونٹ ‘ٹیٹوز بائی جارج ‘ پر بھی کی ہے۔جیسے کہ deceiver اور disrespectful کا املا۔جواب میں آرٹسٹ نے اپنا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ انگریزی ان کی مادری زبان نہیں ہے اور تحریر کی درستگی کیلئے وہ اپنے کلائنٹ سے ایک سے زائد مرتبہ چیک کرواتے ہیں۔آرٹسٹ کے مطابق اپنے کلائنٹ کی چھاتی پر گدائی کرنے سے پہلے کئی مرتبہ پوچھا تھا کہ واقعی وہ یہ کروانا چاہتا ہے یا اس کے بارے میں ایک بار اور سوچنا چاہے گا لیکن اس کا کلائنٹ اس کام کیلئے ذہنی طور پر تیار ہو کر آیا تھا۔انسٹا گرام پر جاری ہونے والی گ±دی ہوئی چھاتی کی یہ تصویر فوری طور پر سوشل میڈیا کے دیگر پلیٹ فارمز پر بھی وائرل ہوگئی۔ابھی تک یہ سامنے نہیں آسکا کہ یہ گدی ہوئی تحریر دیکھنے اور پڑھنے کے بعد ٹوررس کی بیوی کا کیا رد عمل تھا، آیا اعتماد بحال ہوا یا اس سے مزید کسی گڑبڑ کا رستہ کھل گیا۔کچھ لوگوں کا تو یہ خیال ہے کہ اگر ٹورس اتنا سب کچھ کرنے کے بجائے اپنی بیوی کو جی بھر کر شاپنگ ہی کروادیتا تو شاید یہ معاملہ آسانی سے حل ہو سکتا تھا۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*