بنیادی صفحہ -> اداریہ،کالم -> ڈاکٹر عافیہ کی رہائی

ڈاکٹر عافیہ کی رہائی

(ابن نیاز)
برسوں بعد کوئی اچھی، خوشگوار اور خوشی کی خبر سننے کو ملی۔ نہ صرف مجھے بلکہ پاک وطن کے پیارے باسیوں کو بھی اس خبر کا اور اس کے رد عمل کا بھی انتظار تھا۔ ڈاکٹر عافیہ صدیقی جو کہ تعلیمی لحاظ سے بھی پاکستان کے سرمایہ تھیں اور ہیں۔ اور ساتھ ہی اس وطن کی ایک ایسی مظلوم بیٹی پر جس پر اپنوں نے غائبانہ ظلم ڈھائے اورغیروں نے ان کی برداشت کی ساری حدیں کراس کر دیں۔ قرآن پاک میں ارشاد باری ہے کہ اللہ ّٰہ کسی کو بھی اس کی استطاعت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا۔ اس میں صفر فیصد بھی شک نہیں ہے۔ میں ڈاکٹر صاحبہ کی ہی مثال دوں گا۔ غیر انسانی سلوک ان سے ہم لوگوں کی نظر میں ان کی برداشت سے باہر تھا۔ لیکن اللہ پاک نے اس ظلم اور برداشت کے نتیجے میں ان کو اجر عظیم سے نوازنا ہے۔ اور یہ کہ انھوں نے اس ظلم کو برداشت بھی کیا۔ ورنہ تو پہلے دن ہی وہ ، استغفراللہ، دنیا سے گزر چکی ہوتیں۔ وہ صرف پاکستان کی ہی نہیں بلکہ اسلام کی بھی بیٹی تھیں۔ اس کا ثبوت ان کی گرفتاری ہے۔ انھیں اس بنیاد پر ہی گرفتار کیا گیا تھا کہ وہ افغان طالبان زخمیوں کی مدد کرتی تھیں۔ پھر طالبان ہی کی وجہ سے انھوں نے تین ہٹے کٹے امریکی سپاہیوں سے ان کی بندوقیں چھین کر ان کو گولیوں سے بھون ڈالا تھا۔ اس بات پر ایک گانے کے بول یاد آرہے ہیں۔ ۔ میں روو¿ں یا ہنسوں، کروں میں کیا کروں۔ ۔ ۔ ایک دھان پان سے نازک سی خاتون اور امریکن سپاہی وہ بھی تین۔ کیا نسبت ہے؟
سترہ سال کہنے کو تو معمولی سے لگتے ہیں لیکن ایک مکمل نسل جوان ہو جاتی ہے۔ ڈاکٹر عافیہ کے بچے بھی آج جوانی کی حدوں کو چھو رہے ہیں۔ جب ان کو بھی یہ خبر ملی ہو گی تو ان کے خون نے اب اس لحاظ سے جوش مارا ہو گا کہ بھلے ان کی والدہ ان پر اپنی ممتا نچھاور نہ کر سکیں لیکن وہ تو ان کی خدمت کرکے اللہ کی رضا حاصل کر سکتے ہیں۔ ان کے پاﺅں کو چوم کر اپنی جنت کما سکتے ہیں۔ اللہ ان کو توفیق دے اور استقامت دے۔ سترہ سال میں ایک جرنیل کی غلطی سیاستدانوں سے نہ سدھاری جا سکی۔ یہاں تک بھی سننے میں آیا تھا کہ پاکستان کی حکومت صرف ایک خط امریکہ کو لکھ دے کہ ڈاکٹر عافیہ کو انسانی بنیادوں پر رہا کیا جائے تو امریکہ اس کے لیے بھی تیار تھا۔ لیکن کسی کو جرا¿ت نہ ہوئی۔ وہ طالبان کے لیے کام کرتی تھیں یا نہیں لیکن آج ان کی رہائی کا سہرا انہی کے سر جاتا ہے۔ امریکہ سے مذاکرات کے دوران دیگر مطالبات کے ساتھ انھوں ے یہ مطالبہ بھی امریکہ کے سامنے رکھا کہ ان کی محسنہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو بھی فوری بنیادوں پر رہا کیا جائے۔ امریکہ تو افغانستان میںاپنی پھنسی ہوئی فوج کسی بھی صورت میں نکالنا چاہتا ہے۔ اس کو یہ مطالبہ بھی ماننا تھا۔
ڈاکٹر عافیہ کی رہائی کے حوالے سے اس وقت جو خبریں گردش کر رہی ہیں وہ متضاد تاریخوں کی ہیں۔ کوئی ۶۱ مارچ کہہ رہا ہے تو کوئی ۹۱ مارچ۔ جب کہ ان کی بہن ڈاکٹر فوزیہ نے حرف زار پروگرام میں اوریا مقبول جان صاحب سے بات کرتے ہوئے افسوس کا اظہار کیا ۔ انھوں نے کہا کہ ڈاکٹر عافیہ نے حکومت کو اور عمران خان صاحب کو جنوری میں ایک خط لکھا تھا۔ جس میں ڈاکٹر صاحبہ نے رہائی کے لیے کوششوں کی درخواست کی تھی۔ لیکن افسوس، اچھے معاملے میں تو یوٹرن کی سمجھ آتی ہے کہ جب پہلے کچھ کہا ہو اور وہ فیصلہ غلط ہو تو بعد میں یو ٹرن لے کر اچھا فیصلہ کیا جا سکتا ہے۔ اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ لیکن ایک اچھا فیصلے سے یوٹرن کیوں لیا جاتا ہے، یہ کوئی بتائے گا کہ کس کس کو سمجھ آتی ہے؟ کسی کو بھی یقینا نہیں سمجھ آتی۔تو جب الیکشن سے پہلے مختلف جلسوں میں اعلان کرتے تھے کہ ڈاکٹر عافیہ کو وہ واپس لائیں گے اور ضرور لائیں گے۔ تو کرسی سنبھالنے کے بعد یہ ایکشن کیوں نہیں لیا گیا۔ اس میں مشکل تو کوئی نہیں تھے۔ وزارت خارجہ نے ہی سارے کام کرنے تھے اور اپنی پالیسی تیز کرنی تھی۔ کچھ امریکہ کی مان کر ان سے یہ بات منوانی تھی۔ لیکن بھلا ہو ہمارے کرپٹ سیاستدانوں کا جن کا آقا اور مائی باپ امریکہ ہے، ان کی آشیرباد سے وہ مختلف وزارتوں تک پہنچتے ہیں تو وہ کیسے امریکہ سے درخوست کر سکتے تھے؟
جو ہوا سو ہوا۔ اب خدا خدا کرکے ڈاکٹر عافیہ ، ابھی تک کی خبروں کے مطابق واپس لائی جا رہی ہیں۔ اللہ کرے کہ یہ خبریں سچی ثابت ہوں اور وہ خیر و عافت اپنے اہل و عیال تک پہنچیں۔ معلوم نہیں ان کی صحت کیسی ہو گی کہ جو خبریں جیل میں ان کے ساتھ کیے گئے سلوک کے حوالے سے ہم سنتے تھے، وہ بہت بھیانک ہوتی تھیں۔ اللہ ان کو اپنے حفظ و امان میں رکھے ۔
**********

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*