بنیادی صفحہ -> اداریہ،کالم -> کیا عورت ہونا جرم ہے؟

کیا عورت ہونا جرم ہے؟

کیا عورت ہونا جرم ہے؟
حافظ ابن یوسف
میں نے جب سے ہوش سنبھالا ہے اپنے اردگرد اپنی ماں کو پایا ہے ماں کی محبت کو دیکھ کر میں بخوبی اندازہ کر سکتا ہوں کہ وہ میرے پیدا ہونے سے اب تک مجھ پر کتنی عنایتیں کر چکی ہیں
مجھے کبھی عورت ذات پر بہت پیار آتا ہے کتنی معصوم اور بھولی ہوتی ہے۔۔۔ ہر دکھ،تکلیف کتنی آسانی سے سہہ لیتی ہے اور صابر اتنی کہ میں نے خود کو کبھی اتنا صابر نا پایا خود کو کیا کسی بھی مرد کو بھی۔۔۔عورت ہر روپ میں سراپا محبت اور شفقت ہے ماں،، بہن، بیٹی، بیوی۔۔۔ ہر رشتہ میں عورت جان نثار ہوتی ہے۔۔ اور جان نثار ایسی جسکی کوئی مثال نہیں۔۔
بے شک اللہ نے اسے بظاہر کمزور بنایا ہے لیکن وہ مرد سے زیادہ مضبوط ہوتی ہے۔۔۔ لیکن پھر بھی ایک عورت کو ہی ہمیشہ سمجھوتہ کرنے کا کیوں کہا جاتا ہے۔۔۔۔ تعلیم میں غربت میں ہر رشتے کو نبھانے میں دوسروں کی باتوں سننے میں۔۔ کیوں کہا جاتا ہے اسے سمجھوتہ کرنے کو؟؟
کیوں کہ اللہ نے اسے بہت صابر بنایا ہے اور مرد اس جیسا صبر نہیں کر سکتا کبھی بھی نہیں کر سکتا۔۔
جب میری بیٹی ہوگی میں اسے زحمت نہیں سمجھوں گا کیونکہ اللہ نے اسے رحمت بنا کر بھیجا ہے میرے لئے وہ ہمارے گھر میں اللہ کی ایک نعمت بن کر آئے گی۔۔۔ ٹھیک ہے بیٹا بھی ہونا چاہئے لیکن وہ صرف دنیا میں فائدہ دے سکتا ہے لیکن بیٹی دنیا اور آخرت دونوں میں میری بخشش اور سکون کا سامان بنے گی۔۔۔
میں ضرور اپنی بیٹی کی پرورش کرکے اسے ایک مثالی بیٹی بناؤنگا اور پھر سب دیکھیں گے بیٹی کوئی منہ کی کالک نہیں جسے پیدا ہوتے ہی مار دیا جائے۔۔ میری بیٹی میری بیوی میری بہن میری ماں میرے سر کا تاج ہیں اگر وہ نہیں ہیں تو کوئی مجھے مرد نہیں کہے گا مرد تو وہی ہوتا ہے جو عورت کی حفاظت کرے اسے اچھی زندگی فراہم کرے میں بھی یہی کرونگا تاکہ میرے اردگرد کے مرد سیکھیں کہ عورت اللہ کا نایاب تحفہ ہے ہر مرد کے لئے۔۔۔۔۔ اور ہر مرد کو سیکھنا چاہیے عورت کی عزت کرنا ایک عورت کو محبت سے زیادہ عزت کی چاہیے۔
بیٹی وہ ہستی ہے جو کبھی بھی اپنے باپ کا سر نیچا نہیں ہونے دیتی،ماں، بہن،بیٹی اور بیوی ہی ہے جو ہر وقت ماں، باپ،بھائی اور شوہر کی خدمت کرتی رہتی ہے !!! میری گاڑی کی چابی تولانا۔۔۔جی بابا۔۔۔۔ ابھی لائی۔۔بیٹی: چائے بنا کر لاو مجھے باہر جانا ہے۔۔جی ابھی لائی بابا۔۔۔
بہو۔۔۔ او بہو (سسر نے اواز دی) میری دوائیاں کہاں ہیں؟جی وہ آپ کے روم میں رکھ دی تھیں اور پانی کا گلاس بھی۔۔ ابھی آپکے لئے کھانا لگا رہی ہوں۔۔۔امی جی۔۔۔۔ امی جی (بیٹے نے آواز دی)
میرے شوز کہاں ہیں؟؟ مل نہیں رہے۔۔ مجھ کھیلنے جانا ہے۔بیٹا وہیں تو رکھے تھے۔ اچھا بیٹھ، میں لاتی ہوں۔۔امی جی۔۔۔۔ نیا والا جوڑا کہاں ہے میرا!! الماری میں نہیں ہے۔۔بیٹا وہ صبح دھویا تھا۔۔ اچھا چل سوکھ گیا ہوگا تو میں استری کر کے لاتی ہوں۔۔۔بیگم۔۔۔۔ بیگم (میاں نے آواز دی) جلدی سے چائے کا انتظام کرو میرے کچھ دوست آرہے ہیں اور ساتھ میں کچھ کھانے کیلئے بھی بنا دینا۔۔۔اور سنو میری لال والی شرٹ بھی ریڈی کر دو۔۔اور۔۔۔۔ اور سنو وہ جو امپوٹڈ والی پرفیوم آئی تھی میرے لیے باہر سے وہ بھی پکڑا دو مجھے۔۔ (صوفے پر بیٹھے بیٹھے آڈر جاری کیا)جی ابھی لائی۔۔۔مریم۔۔۔۔ مریممالکن نے آواز دی)برتن دھو لیے تو صحن میں پوچھا مار دیو اچھے سے۔۔۔ بازار سے سبزی لانا مت بھولنا اور چھوٹو کے کپڑے درزی کو دئے تھے واپسی پر لیتے آنا۔۔۔مِس جی۔۔۔۔ (کلاس میں بیٹے بچے نے ٹیچر کو آواز دی)وہ پہلا والا لفظ کیا لکھا ہے؟ اور میم یہ سوال سمجھ نہیں آیا۔۔۔ پھر سے سمجھائیں۔۔اچھا ابھی سمجھاتی ہوں۔۔۔یوں ہی صبح سے خدمتیں شروع ہوتیں ہیں اور رات گئے تک جاری رہتی ہیں۔۔۔ ابھی تھکاوٹ کی وجہ سے کمر سیدھی نہیں ہو پاتی کے پھر صبح کا الارم بج اٹھتا ہے۔ وہ بیچاری عورت بیل کی طرح پھر سے جی ابھی لائی۔۔ جی جو حکم۔۔۔ جی کہنے کیلئے تیار کھڑی نظر آتی ہے۔۔اوپر بیان کیے گئے تمام کردار عورت ہی کے کء روپ ہیں جسے بدقسمتی سے نظرانداز کر دیا جاتا ہے صرف اس وجہ سے کہ وہ کمزور ہے۔۔۔۔ اپنا حق لے نہیں سکتی۔۔۔ مانگ نہیں سکتی۔۔۔صبح اٹھتے ہی ناشتہ تیار ملنا۔۔۔ کپڑے استری ملنے۔۔۔ چائے بنی ملنی۔۔۔ جوتے پالش ملنے۔۔۔۔ گھر صاف ستھرا نظر آنا یہ سب مشین کا کام تو نہیں۔۔۔ نا ہی آسمانی فرشتے میرے یا آپ کے گھر آکر یہ سب کچھ کر جاتے ہیں۔۔۔ بلکہ یہ سب ایک جیتے جاگتے انسان کا کیا دھرا ہے مگر بدلے میں اسے کیا دیا جاتا ہے!!!! کچھ نہیں سوائے طعنوں کے۔۔لکھ لیجیے شاید کہ آپکے دل میں یہ بات اتر جائے۔۔۔
وہ لوگ جو ماوں بہنوں بیٹیوں بہووں کو صرف اس وجہ سے اپنی زبان کی تیزی دکھاتے ہیں کہ وہ ایک ” عورت ذات ” ہیں تو پھر مجھے کہنے دو ہو سکتا ہے بات ذرہ سخت ہو جائے مگر حق کا تقاضا یہی ہے کہ بات کہ دی جائے۔۔” مانا کہ ہمارے آباو اجداد نے جنگیں لڑیں اسلام کی خاطر۔۔۔۔ بچے قربان کئے اسلام کی خاطر۔۔۔۔ اسلام کا جھنڈا جگہ جگہ لہرایا۔۔۔۔خلافت کا تاج پہنایا گیا۔۔۔ سینے پر تیر کھائے۔۔۔۔ جسم نیزوں سے چھلنی کروائے۔۔۔ دعوت دین کی خاطر پیدل چلے۔۔۔۔ گھر بار چھوڑا۔۔۔۔ چلو مان لیا مردوں نے نعرہ تکبیر بلند آواز سے لگایا ہوگا مگر یہ سب بعد میں۔۔ ان سب کا دوسرا نمبر کیونکہ میرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر سب سے پہلے ایمان لانے والی ایک عورت (ام المومنین حضرت خدیجہ رضی اللہ عنھا) تھیں۔۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر پہلی وحی کے بعد گھبراہٹ اور خوف کی سی ملی جلی کیفیت آن پڑی تو وہاں کوئی مرد نہیں تھا تسلی دینے کو۔۔۔ ایک عورت تھی۔۔ ہاں بعد میں بیشک مردوں کی لائن لگی ہو اس سے کوئی غرض نہیں۔۔تو اگر تمہارے پاس عورت کو عزت دینے کیلئے اور کوئی وجہ نا ہو۔۔۔۔۔ ساری دلیلیں ماند پڑ جائیں تو صرف اتنا سوچ لینا جس نبی سے محبت کا دم بھرتے ہو اسے سب سے پہلے تسلی اور حوصلہ دینے والی یہ عورت ذات ہی تھی۔
جب اسی بیٹی، بیوی اور ماں کو بھائی، باپ،شوہر یا بیٹے کی ضرورت ہوتی ہے تو اسے برا کیوں سمجھا جاتا ہے۔۔۔۔۔۔؟؟لکھنے کو تو ایک نہیں سینکڑوں نہیں بلکہ ہزاروں گھروں کی داستانیں ایسی ہیں جہاں بیٹی کو معیوب سمجھا جاتا ہے،بیٹی محنت مزدوری کر کے باپ،بھائی،شوہر اور بیٹے کو کھلائے تو اسے اچھا سمجھا جاتا ہے اگر یہی بیٹی اپنا حق مانگے تو اسے ہی برا کیوں سمجھا ھجاتا ہے۔۔۔؟ میرا یہ سوال ہر اس مرد سے ہے جو اپنی ماں، بہن،بیٹی اور بیوی کے ساتھ ایسا رویہ اختیار کرتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*