بنیادی صفحہ -> اداریہ،کالم -> کتنی حقیقت،کتنا افسانہ

کتنی حقیقت،کتنا افسانہ

کتنی حقیقت،کتنا افسانہ
الیاس محمد حسین
امریکہ میں جب ایک قیدی کو پھانسی کی سزا سنائی گئی تو وہاں کے کچھ سائنس دانوں نے سوچا کہ کیوں نا اس قیدی پر کچھ تجربہ کیا جائے. تب قیدی کو بتایا گیا کہ ہم تمہیں پھانسی دے کر نہیں ماریں گے بلکہ زہریلا کوبرا ڈسا کر ماریں گے اور اس کے سامنے بڑا سا زہریلا کوبرا (سانپ)لے آئے پھراس کے بعد قیدی کی آنکھیں بند کرکے اس کو کرسی سے باندھ دیا گیا اور اس کو سانپ نہیں بلکہ دو سیفٹی پِن چبھائی گئی… اور حیرت کی بات یہ تھی کہ قیدی خوفناک اندازمیں تڑپا اور اس کی کچھ سیکنڈ میں ہی موت ہوگئی اس کا پوسٹ مارٹم کیاگیا تو یہ انکشاف ہوا کہ قیدی کے جسم میں سانپ کے زہر جیسا ہی زہر ہی موجود ہے سائنس دا ن حیران رہ گئے قیدی کے جسم میں یہ زہر کہاں سے آیا؟جس نے اس قیدی کی جان لے لی تحقیق کرنے پر معلوم ہوا کہ. وہ زہر اس کے جسم نے ہی صدمے میں جاری کیا تھا کیونکہ جب قیدی کو کامن پن چبھوئی گئی قیدی کو یقین تھا کہ اسے سانپ نے ڈس لیاہے اسی احساس نے اس کی جان لے لی اسی لئے سائنس دانوں کا کہنا سچ ہے کہ ہمارے ہر عمل سے مثبت یا منفی توانائی بنتی ہے اور وہ ہمارے جسم میں اسی کے مطابق ہارمونس تیار کرتی ہے… 75 فیصد بیماریوں کی وجہ منفی سوچ ہی ہوا کرتی ہے آج انسان خود ہی اپنی منفی سوچ سے خود کو ختم کررہا ہے. اپنی سوچ ہمیشہ مثبت رکھیں اور سدا خوش رہیں کیونکہ درحقیقت انسان کی اور اس کی اوقات کچھ بھی نہیں انسان جو تکبر،نخوت،لالچ کا پتلا ہے میڈیکل سائنس اس بارے جو کہتی ہے وہ ہوشرباہے،انسان کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں یہ بات باعث ِ عبرت ہے کہ تدفین کے ایک دن بعد یعنی ٹھیک 24 گھنٹے بعد انسان کی آنتوں میں ایسے کیڑوں کا گروہ سرگرم عمل ہو جاتا ہے جو مردے کے پاخانہ کے راستے سے نکلنا شروع ہو جاتا ہے، ساتھ نا قابل برداشت بدبو پھیلنا شروع کرتا ہے جوکہ در اصل اپنے ہم پیشہ کیڑوں کو دعوت دیتے ہیں یہ اعلان ہوتے ہی بچھو اور تمام کیڑے مکوڑے انسان کے جسم کی طرف حرکت کرنا شروع کر دیتے ہیں اور انسان کا گوشت کھانا شرو ع کر دیتے ہیں۔ تدفین کے 3 دن بعد سب سے پہلے ناک کی حالت تبدیل ہونا شرو ع ہو جاتی ہے۔ 6 دن بعد ناخن گرنا شرو ع ہو جاتے ہیں۔ 9 دن کے بعد بال گرنا شرو ع ہو جاتے ہیں۔ انسان کے جسم پر کوئی بال نہیں رہتا اور پیٹ پھولنا شروع ہو جاتا ہے۔ 17 دن بعد پیٹ پھٹ جاتا ہے اور دیگر اجزاء باہر آنا شرو ع ہو جاتے ہیں۔ 60 دن بعد مردے کے جسم سے سارا گوشت ختم ہو جاتا ہے۔ انسان کے جسم پر بوٹی کا ایک ٹکڑا باقی نہیں رہتا۔ 90 دن بعد تمام ہڈیاں ایک دوسرے سے جدا ہونا شرو ع ہو جاتی ہیں۔ ایک سال بعد ہڈیاں بوسیدہ ہو جاتی ہیں اور بالآخر جس انسان کو دفنایا گیا تھا اس کا وجود ختم ہو جاتا ہے۔۔ تو یہ ہے غرور، تکبر، حرص، لالچ، گھمنڈ، دشمنی، حسد، بغض، جلن، عزت، وقار، نام، عہدہ، بادشاہی کا منطقی انجام توپھر انسان کی اکڑ،رعب دبدبہ یہ سب کہاں جاتا ہے؟ یقینا سب کچھ خاک میں مل جاتا ہے۔ اسی لئے کہا گیا ہے انسان کی حیثیت ہی کیا ہے؟ مٹی سے بنا ہے، مٹی میں دفن ہو کر مٹی ہو جاتا ہے۔ پانچ یا چھ فٹ کا انسان قبر میں جا کر بے نام و نشان ہو جاتا ہے۔ دنیا میں اکڑ کر چلنے والا، اپنے آپ کو طاقت ور سمجھنے والا دوسروں کو حقیر سمجھنے والا، دنیا پر حکومت کرنے والا،،، قبر میں آتے ہی اس کی حیثیت، صرف “مٹی” رہ جاتی ہے۔۔۔! لہٰذا انسان کو اپنی ابدی اور ہمیشہ کی زندگی کو خوبصورت اور پرسکون بنانے کے لئے ہرلمحہ فکر کرنی چاہیے، اللہ کو یاد کرنا چاہئے، ہر نیک عمل اور عبادت میں اخلاص پیدا کرنا چاہیے آخرت میں نیکیاں ہی کام آئیں گی جس کے لئے ہر انسان کو کوشش کرنی چاہیے حسد،تکبر اور دنیا کی محبت سے بچنا بھی نیکی ہے بس یہ ذہن میں رکھیں انسان کی کتنی حقیقت ہے فسانہ جتنا چاہوں بنالو۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*