بنیادی صفحہ -> اہم خبریں -> حکومت کی کارکردگی سے آئی ایم ایف ناخوش

حکومت کی کارکردگی سے آئی ایم ایف ناخوش

لاہور(ویب ڈیسک) آئی ایم ایف اور حکومت کے درمیان ٹیکس وصولیوں کے اہداف میں کمی، انفورسمنٹ و ایڈمنسٹریٹو اقدامات سمیت دیگر پالیسی سطح کے اقدامات کے بارے میں اتفاق نہ ہوسکا جس پر آئی ایم ایف کی ٹیم نے اپنے دورے میں توسیع کردی۔

تفصیلات کے مطابق آئی ایم ایف جائزہ مشن کے ساتھ پالیسی سطح کے مذاکرات کا اہم دور ہوا جس میں مشیر خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ، گورنر اسٹیٹ بینک آف پاکستان رضا باقر اور سیکریٹری خزانہ نوید کامران بلوچ شریک ہوئے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان ٹیکس وصولیوں کے اہداف میں کمی، انفورسمنٹ و ایڈمنسٹریٹواقدامات سمیت دیگر پالیسی سطح کے اقدامات بارے اتفاق نہیں ہوسکا تاہم آئندہ مالی سال کے بجٹ میں 280 ارب روپے کی ٹیکس چھوٹ و مراعات ختم کرنے پر اتفاق ہوگیا ہے۔ وزارت خزانہ ذرائع کا کہنا ہے آئی ایم ایف جائزہ مشن کے ساتھ اقتصادی اہداف سمیت دیگر اہم معاملات پر تفصیلی تبادلہ خیال ہوا اور اس ضمن میں آئی ایم ایف کا وفد مزید چند روز پاکستان میں قیام کرے گا۔

ذرائع کا کہنا ہے آئی ایم ایف جائزہ مشن کی جانب سے متعدد تجاویز دی گئی ہیں جن پر فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی طرف سے ورکنگ کی جارہی ہے جسے آئی ایم ایف کے ساتھ شیئر کیا جائے گا۔ آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ ٹیکس وصولیوں کا ہدف حاصل ہونا مشکل ہے تاہم حکومتی اقدامات کے ذریعے ٹیکس وصولیوں کو بڑھایا جائے گا اور نئے ٹیکسز آئندہ بجٹ میں لگائیں گے، رواں مالی سال کے دوران انفورسمنٹ کو بہتر بناکر اور پالیسی سطح کے اقدامات اٹھا کر اضافی ریونیو اکٹھا کرنے کی کوشش کی جائے گی جب کہ اگلے بجٹ میں ٹیکس استثنی ختم کی جائیں گے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*