بنیادی صفحہ -> اداریہ،کالم -> شررررررر کی آواز

شررررررر کی آواز

شررررررر کی آواز
عمران امین
اگر تاریخ اُٹھا کر دیکھیں تو معلوم ھوتا ھے کہ عرب ایک بکھری اُور وحشی قوم تھی جو اپنے سے طاقتور مقابل کے سامنے سرنگوں ھو جاتی مگر فتنہ اور فساد کا کھیل مسلسل جاری رہتا۔ذ اتی اور انفرادی بنیادوں پر شروع ھونے والے جھگڑے ایک لمبی اور نہ ختم ھونے والی قبائلی جنگ میں بدل جاتے۔ امیر کے لیے ”لاقانون“ کا سبق اور غریب کے لیے قانون کی سنگینیاں اور تلخیاں تھیں۔ جو مار دے وہ سکندر اور جو مر جائے وہ بندر۔ چاروں سمت ایک طوفان بد تمیزی اور لوٹ مار کا بازار سرگرم تھا۔حاکم اور محکوم کا مکروہ کھیل صدیوں سے جاری تھا۔”جس کی لاٹھی،اُس کی بھینس“ کا راج تھا۔آگ اور خون کا کھیل کھیلا جارہاتھا۔علم و حکمت کی جگہ جہل و ظلم نے لے لی تھی۔ اگر علم کہیں تھا بھی تو اہل علم تضادات و تعصبات کے سبب اُس سے لوگوں کو گمراہ کرنے اور اُن کا استحصال کرنے کا کام لے رہے تھے۔انسان اپنے مقام انسانیت سے نیچے گر چکا تھا جس کے نتیجے میں وہ اپنے مقصد حیات بھی بھول چکا تھا۔نہ اُس کو حقوق اللہ کا شعور تھا اُور نہ حقوق العباد کا۔عبادات کی جگہ رسوم اور زہد کی جگہ ریا کاری نے لے لی تھی۔تقلید پرستی کا عام رواج تھا اُور اس سبب انسان نے عقل وشعور سے کام لینا چھوڑ دیا اُور اُس میں حیوانی عنصر غالب آ گیا تھا۔چونکہ پیشواء شرک و بُت پرستی کے علمبردار تھے لہذا اُن کے ماننے والوں کا گُم راہ ھونا لازمی تھا اور یہ گمراہی عالمگیر تھی۔اس دُور کی پیشوائیت نے لوگوں کا استحصال کرنے کی خاطر طرح طرح کی غلط اور بُری رسمو ں اُوررواجوں کو معاشرے میں عام کر دیا تھا۔تاکہ اُن کی حاکمیت اور مفادات سلامت رہیں۔شخصیت پرستی اُور بُت پرستی زمانے کا دستور بن گیا تھااس شرک اور بت پرستی کی وجہ سے انسان ایک تو کئی قلبی بیماریوں کا شکار ھو گیا تھا،دوسرے اُس کی اپنی شخصیت پارہ پارہ ھو چکی تھی۔جس کے نتیجے میں اُس کی شخصیت کی نشوونما رُک گئی تھی اُوردوسرا اُس کا دل طمانیت سے محروم ھو کرخوف و خزن کا شکار ھو گیا تھا اور اجتماعی طور پر وہ تضادات کا شکار بھی ھو گیا تھا۔اگرہم آج کے دُور کی بات کریں تو کہنا پڑتا ھے کہ پھر سے غموں کا موسم آیا ھے اور دل پھر سے پریشان ھے۔ حادثے کچھ اس طرح سے زندگی میں آرہے ھیں کہ پتا ہی نہیں چلتا کہ کس پر ماتم کریں اُ ورکس کو بھول جائیں۔رُت جگوں کی بہار ھے اورخواب بکھر نے کا وقت ھے۔ رات کی تاریکی اپنی شدت میں اضافہ کر رہی ھے۔ لوگوں کے دل ا فسردہ اُ ور غمگین ھیں۔فیصلے کی گھڑی ھے اور قاضی لمبی تان کر سُو رہا ھے۔جب جاگتا ھے تو آدھ کھلی آنکھوں سے فیصلے کرتا ھے۔ عجب اُصول ھیں ا س دنیا کے، جو جیتا وہ توجیتا ہی ھے مگر جو ہارا وہ بھی جیتا ھے۔طبل مسلسل بج رہا ھے ُاور جنگ ہنوزجاری ھے مگر اس ماحول میں ایک دھیمی پڑتی صدا چار سو گونج رہی ھے”ابھی ریاست مدینہ کا سفر بہت دُور ھے“۔
سب لوگ بستی میں ڈر رہے تھے
پوجا،پتھر کی بھی کر رہے تھے
تبدیل کرنا،وہ چاہتے تھے
سب کچھ،مگر ڈر سے مر رہے تھے
ہمارے مُلک کا بھی عجب ماحول ھے۔کہنے کو تو ایک اسلامی مملکت ھے مگر اس اسلامی ملک کے افراد کا کردار اس قدر بھیانک ھے کہ اگر کوئی قانون کی بات کرے تو مارکیٹ بند کر دو،بازار بند کر دو،ٹرانسپورٹرز ہڑتال کر دیں،ڈاکٹرز کا احتجاج شروع ھو جائے،سرکاری اداروں کے ملازمین قلم چھوڑ مہم کا شکار ھو جائیں،اساتذہ سڑکوں پر آجائیں،فیکٹری مالکان ہڑتال کا مظاہرہ کر یں اورمُلک میں مصنوعی کساد بازاری اور منافع خوری کا بازار گرم ھو جائے۔ہمارے مُلک میں ابن آدم کی حالت بڑی قابل رحم ھے۔اس کم نصیب کے دامن میں روحانی اقدار حیات کا جو تھوڑا سا اثاثہ تھا وہ بھی اس نے لُٹا دیا ھے۔حد تو یہ ھے کہ آج سمندر کی مچھلیاں، پانی میں شاداں و فرحاں تیر رہی ھیں مگر پاکستانی قوم مجبور و مقہور ھو کر اپنی زندگی کے ایام بڑی تلخی سے گزار رہی ھے۔وجہ صرف یہ ھے کہ مادی ترقی کو ہی سب کچھ جان لیا۔حق و صداقت،ایثار و قربانی،محبت و شفقت،عدل و انصاف جیسی اقدار حیات کو اپنانے کی بجائے اس قوم کے افراد نے سرکشی،نفس پرستی،خود غرضی،عداوت اور ظلم و ستم کو اپنا شعار بنا لیا ھے۔
پارسا بھی بھٹک گئے اکثر۔۔
کچھ کشش تو ھے گناہوں میں
اسی گلے سڑے نظام حکومت میں جہاں ہر محکمہ ایک ناسور بن چکا ھے وہاں ایک عرصے سے ایک ایسے ادارے کی بات مسلسل کی جارہی ھے جو آزاد اُور خود مختارادارے کی حیثیت سے اپنے فرائض سرانجام دے رہا ھے۔ وھاں سے ایک تازہ فیصلہ آیا ھے جس کے مطابق ایک بااثر اور طاقتوربیمار قیدی کو اپنا علاج باہر سے کروانے کی اجازت دے دی گئی ھے۔ایک ایسے مجرم کو یہ سہولت فراہم کی گئی ھے کہ جس کو ہماری سپریم کورٹ سیسلین مافیا،گاڈ فادر اور جھوٹا قرار دے چکی ھے۔پانامہ کیس کی جے آئی ٹی ٹیم آج اپنے سر پیٹ کر رھ گئی ھوگی کہ کس محنت سے والیم اکٹھے کیے اور اب اتنی آسانی سے سہولت فراہم کر دی گئی۔اس طرح کے فیصلے کی نظیر پاکستانی عدلیہ کی تاریخ میں ابھی تک نہ تھی۔”دو نہیں، ایک پاکستان“ کا نعرہ لگانے والی پی ٹی آئی بھی اس پر خاموش ھے اور اس فیصلے کے خلاف اپیل دائر نہ کرنے کا اعلان کر چکی ھے۔ اس تاریخی فیصلے کے آنے کے بعد جیلوں میں بے بس اور غریب بیمار قیدیوں کو بھی حوصلہ ھوا اُور انھوں نے بھی اپنے علاج کے لیے رعایت مانگی ھے۔ہماری معزز اُور آزادعدلیہ نے اُن قیدیوں کی درخواست، چیف سیکریٹری کو مناسب کاروائی کے لیے بھیج دی ھے۔اُمید کی جاتی ھے کہ اس درخواست پر فیصلہ آنے تک ”بہت سے قیدی یا تو اللہ کو پیارے ھو جائیں گے یا اپنی قید کی مدت پوری کر جائیں گے“۔شنوائی جلد اس لیے نہ ھو پائے گی کیونکہ اُن میں سے کوئی بھی اس ملک کا تین بار کا وزیر اعظم نہیں ھے اُور نہ اُن میں سے کسی کا تعلق حکمران طبقہ سے ھے اور دوسری اہم وجہ پاکستانی نظام عدل کا فرسودہ اور آلودہ ھوناھے۔ پُرانے وقتوں کی بات ھے کہ ایک نوجوان کی شادی ھو گئی۔نوجوان کوئی کام تو کرتانہیں تھامگر سارا دن اپنے گھر کے سامنے لوہار کی دُکان پر بیٹھا رہتا اور سوچتا کہ یہ کام بالکل بھی مشکل نہیں ھے۔ایک بار وہ اپنے سُسرال گیاتو سسرالی ایک کلہاڑا بنوانے کا پروگرام بنا رہے تھے۔داماد جی نے اعلان کیا کہ وہ کلہاڑا بنائیں گے۔اس پر سسرالی بہت خُوش ھوئے۔نوجوان نے بہت کوشش کی مگر وہ کلہاڑا نہ بنا پایا۔اپنی ناکامی کو چھپانے کے لیے اُس نے کہا کہ وہ ٹوکہ بنا کر دے گا۔ سسرالیوں نے سازوسامان فراہم کیا مگر ہنوز دلی دور است۔ٹوکے کے بعد چھری اور چاقو کی باری آئی مگر نتیجہ صفر رہا۔اس کو شش میں کافی لوہا اور پیسہ بھی ضائع ھو گیا۔اپنی ناکامیوں کے بعد داماد جی کو یقین ھو گیا کہ یہ کام اُس کے بس کا نہیں ھے۔تب اپنے سسرالی رشتہ داروں کو کہا کہ تمہارے لوہے سے صرف شرررررر ر ہی بن سکتی ھے۔سسرالی بولے ”وہ کیا چیز ھے“۔ نوجوان بولا ابھی بتاتا ھوں۔لوہے کو دوبارہ گرم کیا گیا تو داماد جی نے اُس گرم لوہے پر پانی گرا دیا۔اس پر شررررررر کی ایک لمبی آواز پیداھوئی تو نوجوان یہ کہتے ھوئے وہاں سے چل پڑا”لو جی! اپنا کام مکمل ھوا۔اب میں واپس چلتا ھوں کہ گاؤں میں بھی کافی کام پڑا ھوا ھے“۔ بھائیو!اس سارے قصے کا کسی فرد یا ادارے کی کارکردگی سے کوئی تعلق نہیں ھے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*