بنیادی صفحہ -> اداریہ،کالم -> روشن پاکستان اور عوام

روشن پاکستان اور عوام

روشن پاکستان اور عوام
عمران امین
وقت کے گذرنے کے ساتھ حالات کچھوئے کی چال چلتے ہوئے نئی تراکیب کے ساتھ نئی سمتوں کی طرف گامزن رہتے ھیں اور اس طرح ہمیںکچھ عرصہ کے بعد اپنے اطراف میںھونے والی زبردست تبدیلیاں وقوع پذیر ھوتی دکھائی دیتی ہیں۔یہ تبدیلیاں اپنے فوائد اور نقصانات سمیت بہت جلد ہمارے سامنے ظاہر ھو جاتی ہیں۔ یہ جغرافیائی تبدیلیاں ھو، معاشی تقاضے ھوں، انسانی رویے ہوںیا تہذیب و تمدن کے نئے رنگ ،سب اپنے فوائد اور نقصانات کے اثرات سمیت مسلسل ارتقائی عمل سے گذرتے رہتے ہیں اور جو اقوام اور ممالک ان تبدیلیوں کا ادراک وقت آنے سے پہلے کر لیتے ہیں وہ ہر دُور میں ان تبدیلیوں کے فوائد سے نفع اٹھاتے ہیں اور نقصانات سے بچے رہتے ھیں۔اس عمدہ حکمت عملی اور تدبیر کی وجہ سے ایسے ممالک دنیاکی حکمرانی کی سیٹ پر مسلسل براجمان رہتے ہیں ۔
ان دنوںپاکستان میں بہت تیزی سے کچھ معاملات اپنی حتمی شکل کی طرف بڑھ رہے ہیں اور عنقریب وہ بالکل نئی حالت میں ہمارے سامنے موجود ہونگے ۔ اس وقت اپوزیشن اور اقتدار میں شریک چھوٹی بڑی سیاسی پارٹیاں اپنی قیادت کے ساتھ ایک نئے سفر اور انجانی راہوں پر رواں دواں ہیں۔ غالب امکان یہ ھے کہ اکثر پرانے چہرے سفر کے گرداب میں گم ہوجائیں گے اوربہت حد تک ممکن ھے کہ ان پارٹیوں کی ھئیت اور ترکیب بھی یکسر بدل جائے گی۔ کئی نئے گروپ سامنے آئیں گے۔ نئی دھڑے بندیاں وجود میں آئیں گی اور نئے سیاسی معاہدے ہونگے۔نئے اتحاد ھونگے ۔نئے سرے سے صف بندیاں ھوتی نظر آتی ھیں۔یہ سب صرف اس لئے ممکن ہوگا کہ اب عوام لفظی جمع خرچ سے تنگ آگئے ھیں۔وہ کڑے احتساب کے منتظر ہیں ۔اب عوام اس گند میں لتھڑی اور بے شرم اشرافیہ کا بوجھ اٹھانے کی سکت نہیں رکھتی۔ عوام ان نام نہاد عوامی نمائندوں کے ذاتی مفادات کے نام پر سجائے گئے لوٹ کھسوٹ کے جمہوری نظام سے اکتاہٹ محسوس کرتے ہیں۔لیکن یہ سب وہ مناظر ہیں جو اس پاکستانی سیاست کے افق پر پہلی بار نمودار ہونگے۔ ملک تبدیلی کے آخری مرحلے پر ہے۔ لہذا اب اس موقع پر مفادپرست سیاسی ٹولہ اپنی بقاء کی جنگ لڑنے کیلئے متحد ہوچکاہوگااور ان کی مدد کے لئے خائن اور بدیانت بیوروکریسی موجود ہوگی۔ دونوں ملکر ملک کو داخلی انتشار کا نشانہ بنانے کی کوشش کریں گے۔
آج آپ غور کریں تو اندازہ ہو جائے گا کہ پارلیمنٹ بالکل غیر متعلقہ ہوگئی ہے اور پارلیمنٹ فلور صرف ذاتی صفائی اور سودے بازی کیلئے استعمال ہو رہا ہے۔ دھڑے بندیاں اور گروپ بندیاں نمایاں ہو رہی ہیں۔ اہل اقتدار اور اصل اپوزیشن میں کوئی تال میل نہیں حتی کہ اقتدار میں شامل تمام جماعتیں بھی اختلافات اور اندرونی خلفشارکا شکار ھیں۔ اپوزیشن کی تمام جماعتیں بھی صرف اپنی ذاتی بقاء کی جنگ لڑنے میں مصروف ہیں ملک وقوم کے معاملات سے ان کا بالکل بھی کوئی واسطہ نہیں۔ دوسری جانب عوام ایک بالکل الگ موڈمیں نظر آرہی ہے ۔عام آدمی کی زندگی میںایک نعرہ “احتساب سب کا ” تیزی سے مقبول ہو رہا ہے۔ کرپٹ اور بدمعاش سیاسی قیادت اوربیوروکریسی کو اپنی جان کے لالے پڑے ہوئے ہیں وہ دونوںاپنی زندگی کی بقاء کی جنگ لڑرہی ہیں اور ملک کی معاشی ، معاشرتی ، اقتصادی ، صنعتی اورثقافتی صورتحال کی ابتری اور بہتری سے ان کا دُور کا بھی واسطہ نظر نہیں آتا۔
دوسری جانب بچاری عوام انصاف ،اداروں کی بالادستی،قانون کی حکمرانی اور اپنے حقوق کا حصول چاہتے ہیں۔اپنے ماضی کے کرب کو محسوس کرتے ھوئے وہ ایک روشن کل دیکھنے کے متمنی ھیں۔اس شدید ترین خواہش کی بنا پر ہی وہ سمجھتے ہیں کہ اگر یہ حکومت ایسا اقدام نہ کرسکی جو غریب کو روٹی و روزگار، صحت و صفائی، علاج معالجہ اور گھر کی چھت میسر کر سکے تو پھر شاید کوئی بھی حکمران نہ ایسی بات کرے گا اور نہ اس میں بہتری کے لئے اقدامات ۔ایک تابناک مستقبل کے خواب اور آئندہ آنے والی نسلوں کے لیے ایک محفوظ پاکستان کی خواہش کی وجہ سے ہی عوام الناس کی اکثریت عمران خان کو اس کی ساری ناتجربہ کاری اور غیر مستقل پالیسیوں سمیت صرف اس لئے قبول کر رہی ہے کیونکہ عوام کو پی ٹی آئی گورنمنٹ کی اس بات پر پکا یقین ہے کہ وہ مُلک میں عوام کی بہتری اور فلاح کے لیے انقلابی اقدامات اُٹھائے گی اورآہستہ آہستہ آئندہ انتخابات میں غیر سیاسی قوتوں کا کردار محدود کیا جاتا رہے گا ۔عوامی رائے ہی تمام فیصلوں کا ماخذ ہوگی اور عوامی مفاد میں ہی فیصلے کئے جائیں گے۔ ہماری دعا ہے کہ اللہ پاک پاکستان میں ایک مستحکم حکومت کے حصول میں ہماری مدد کریں اور عوامی شعور کو ملک کی فلاح و بقاء میں اہم کردار ادا کرنے کا سبب بنائے۔ (آمین)

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*