بنیادی صفحہ -> اداریہ،کالم -> چائے کی پیالی کے طوفان کو TITANICبنانا ھے

چائے کی پیالی کے طوفان کو TITANICبنانا ھے

چائے کی پیالی کے طوفان کو TITANICبنانا ھے
عمران امین
ایک شخص سمندر کنارے چہل قدمی کر رہا تھا۔اُس نے دیکھا کہ دور سے ایک شخص چلا آرھا ھے جو بار بار نیچے جھکتا،کوئی چیز اُٹھاتا اور اُس کو سمندر میں پھینک دیتا۔وہ تھوڑی دیر میں اُس کے قریب پہنچ گیا۔اب وہ شخص کیا دیکھتا ھے کہ سمندر کنارے ہزاروں مچھلیاں تڑپ رہی ھیں۔شائد کسی بڑی موج نے انہیں سمندر سے نکال کر ریت پر لٹا دیا ھے اور وہ شخص ان مچھلیوں کوواپس سمندر میں پھینک کر اُن کی جان بچانے کی کوشش میں مصروف ھے۔یہ دیکھ کر اُس شخص کی بے وقوفی پر ہنسی آگئی اور ہنستے ھوئے اُس کو کہا”اس طرح کیا فرق پڑتا ھے۔ہزاروں مچھلیاں ھیں کتنی بچا پاؤ ھے؟؟“۔یہ سُن کر وہ شخص نیچے جھکا،ایک تڑپتی مچھلی کو اُٹھایا اور سمندر میں اُچھال دیا۔وہ مچھلی پانی میں جاتے ہی تیزی سے تیرتی ھوئے آگے نکل گئی۔وہ شخص یہ کہتے ھوئے آگے بڑھ گیا”اس کو فرق پڑا ھے“۔قانون فطرت ھے کہ اگر کھیت میں بیج نہ ڈالا جائے تو قدرت اُس کھیت کو گھاس پُھوس سے بھر دیتی ھے۔اسی طرح اگر دماغ کو اچھی فکروں سے نہ بھرا جائے تو کج فکری اپنا مسکن بنا لیتی ھے۔بالکل اسی طرح اگرکوشش نہ کی جائے،قدم نہ اُٹھائے جائیں تو انعام نہیں ملتا،پھل نہیں ملتا۔ غبارہ اپنے رنگ کی وجہ سے نہیں اُڑتا بلکہ اُس کے اندر جو گیس ھوتی ھے وہ اُسے اُڑاتی ھے۔آپ غریب ھیں،امیر ھیں،کالے ھیں،گورے ھیں، شہری ھیں،دیہاتی ھیں،ان پڑھ ھیں یاپڑھے لکھے ھیں۔اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔آپ کے اندر کی سوچ،لگن،جذبہ اور تڑپ ہی آپ کو بلندی اور ترقی تک لے جاتی ھے۔اللہ تعالی نے ہمیں آزادی دی ھے اور اس آزادی کاتقاضا ھے کہ ہم انسانوں کو خود حضرت انسان کے مظالم سے بچائیں اور یوں دوسرے انسانوں کی آزادی کا احترام کرتے ھوئے اپنے حقوق و فرائض کو بہتر طور پر سرانجام دے سکیں۔دنیا کی رنگینیوں میں گھرا ھوایہ انسان،اپنی ذمہ داریوں کو بھول چکا ھے۔دنیا کی چکا چوند روشنیاں،عہدے،مرتبے، دُولت جیسی سب چیزیں عارضی اور ناپائیدار ھیں۔میرے دوستو! یہ وقت غفلت کا نہیں بلکہ کمر باندھنے کا ھے۔اگر ہم نے اپنے حقوق و فرائض کی ادائیگی میں ذرہ بھر بھی مزید سستی کی اور وقت کی نزاکت کو نہ پہچانا تو پھر قطعاً ممکن نہیں کہ ملک کی تباہی سے بچنے کی کوئی صورت پیدا ھو سکے۔آج فیصلہ کرنا ھے کہ اس پاک وطن کی سلامتی اور استحکام میں اپنا بھرپور حصہ ڈالتے ھوئے اس کے روشن مستقبل کو یقینی بنانا ھے۔چاھے ہمیں کتنی بھی بڑی قیمت ادا کرنا پڑے۔
وہ تیر جاتے ھیں اُلجھیں،جو تند موجوں سے
وہ ڈوبتے ھیں،جو ڈھونڈیں سکوں کناروں میں
اگر ہم یہ فرض پورا نہ کر سکے تو پھراور کون آئے گا؟؟ کوئی قبروں سے اُٹھے گا؟؟ کوئی غیبی ھاتھ ھو گا؟؟ کیا کوئی نیا معجزہ ھو گا؟؟ پہچان لو! کس عظیم کام کی ذمہ داری تمہارے کندھوں پر ھے۔ پاکستان کو سیاسی عدم استحکام کی طرف لے جانے والی چند ایسی قوتیں ھیں جوہمیشہ سے اپنے ذاتی مفادات کاتحفظ یقینی بناتی چلی آئی ھیں۔ اُن کے کارخانوں،جائیدادوں اور بڑھتے ھوئے بینک بیلنسوں کے لیے ملک و قوم کو جو بھی قیمت دینی پڑ ئے،وہ قابل قبول ھے۔ہماری تاریخ بہت ظالم ھے مگر افسوس حافظے کی کمزور اس قوم نے کبھی بھی اپنے ماضی سے سبق سیکھنا پسند بھی نہیں کیا۔وقت کی دھول،ماضی کے اوراق کو دھندلا دیتی ھے تو اس قوم کے افراد پھر سے اپنے ناخداؤں کے سامنے سجدہ ریز ھونے کو تیار ھو جاتے ھیں۔ ہمارے ہاں عدلیہ اور پاک فوج کے اداروں پر کیچڑ اُچھالنے کی رسم بہت پُرانی ھے۔ ماضی میں اسٹیبلشمنٹ کے بار بار کے زبانی اور عملی انتباہ کو مفاداتی اورنظریہ ضرورت کے ٹولے اُور پتلی تماشہ کے اداکاروں نے ہمیشہ نظرانداز کرکے اپنی سیاہ کاریوں اور بد عنوانیوں کا سلسلہ جاری رکھا۔ جب بھی اس گروہ کی بد عنوانیوں کے گرد گھیرا تنگ کیا جاتا تو وہ مشکل میں آنے پر عوام کے بھرپور اعتماد والے دُو اداروں (فوج اور عدلیہ) کے خلاف محاذ بنا لیتے اور اپنی جھوٹی عوامی عدالت و طاقت کی بنیاد پر بلیک میلنگ کا کالا دھندہ شروع کر دیتے تھے۔ بیرونی دشمن قوتوں کی سرپرستی میں پلنے والا یہ”سرکس کے شیروں“ اور ”بکاؤ مولویوں“ کا گروپ اپنے بیرونی آقاؤں کے کہنے پر کوئی بھی قدم اُٹھانے پر تیار رھتا ھے۔ذاتی اور صرف ذاتی مفادات کے حصول کو یقینی بنانا ہی اس ٹولے کا مقصد رھا ھے۔اس مُلک کاحکمران گروہ اپنے بچاؤ اور مفادات کے تحفظ کے لیے سلامتی اُور انصاف کے اداروں کو متنازعہ بنانے کا کھیل پہلے بھی کھیلتارھا ھے اور اب ایک بار پھر سے ”شکاری پرانا جال اور نئی چال“ کے ساتھ”بچہ جمورا“کا کھیل کھیلنے کی تیاری میں ھے۔رہ گئے بچارے بھولے عوام،جو کمزور صحت،کم علمی، جہالت،شعور کی کمی،بنیادی سہولیات کی کمیابی کی وجہ سے پہلے ہی میدان سے باہر”ناک آؤٹ“ھوئے پڑے ھیں۔ اُن کو ہر بار پردے اور دھوکے میں رکھ کر یہ ”سیاسی سنیاسی اور بابے“اور ”بچہ جمورا کے مداری“نئے اندا ز سے کھیل کا آغاز کر کے اپنے نام فتح کر لیتے ھیں۔مزے کی بات یہ ھے کہ اس کھیل کے اُصول و ضوابط کو وقت کی ضرورت اور نزاکت دیکھ کر بنایا جاتا ھے۔اس کھیل کا نام بھی وقت کے ھاتھوں میں ھوتاھے۔پچھلے کئی سالوں سے یہ کھیل کبھی جمہوریت کا بچاؤ تو کبھی سیاسی انتقام کے نام پر کھیلا جاتا رہاھے۔مگر سب سے کامیاب کارڈ اُور نام ہمیشہ سے مذہب کا رھا ھے۔بھٹو کے خلاف نو ستاروں کا اتحاد کا بننا اُور پھر مذہبی عناصر کاکمال ھوشیاری سے اس تحریک کو ہائی جیک کر کے”تحریک نظام مصطفی“ٰ کا نام دینا ہی جنرل ضیاء الحق کے مارشل لاء کا سبب بنا تھا۔اب ہمیں تصویر کا دوسرا رُخ دیکھنا ھے۔ہم اس حقیقت سے بھی آنکھ نہیں چرا سکتے کہ پاکستان وہ ملک ہے جس کی عمدہ پلاننگ اور اداروں کی کارکردگی سے متاثر ھو کر کئی ممالک نے جب ہمیں فالو کیا تو آج وہ ترقی کی شاندار منازل طے کر چکے ہیں مگربد قسمتی سے پاکستان کے سیاسی اور معاشی حالات نے ہمیشہ ملک پر بے یقینی کی کیفیت طاری رکھی۔ یہ بھی سچ ھے کہ ملک اس وقت انتہائی نازک حالات سے گزر رہا ھے۔ ہمارے معاشرے میں پھیلی ھوئی ملاوٹ، نا انصافی،جعل سازی، کرپشن اوراقربا پروری نے مضبوطی سے اپنے قد م جما کر قوم کو اور سرکاری اداروں کو اپنے اصل مقصد سے دور کر رکھا ہے۔ آج تک ہم اپنے نصب العین کا تعین نہیں کر سکے۔سرکاری اداروں میں افسران کو عوامی خدمت کا درس یاد نہیں کرا سکے ۔موجودہ حکومت بھی شدیدخواھش کے باوجوداپنے مختصر وقت میں ملک میں پھیلی ھوئی ان آلودہ آلائشوں کو سمیٹ نہیں سکی۔جس کی بڑی وجہ معاشی بدحالی،سیاسی جوکروں کی سرکس اور خود پی ٹی آئی کی کمزور پالیسیاں اور اندرونی وطن دشمن ھیں۔ آج بھی پاکستان میں بنیادی انسانی سہولیات کی دستیابی محال ہے اور ہر پاکستانی ایک اچھے وقت کا منتظر ھے۔آج پاکستان جس طرح پوری اسلامی دنیا میں اہمیت اختیار کر رہا ھے اور ساری دنیا پاکستانی وزیر اعظم کی پالیسیوں پر گہری نظر رکھنے کے ساتھ ساتھ،پاکستان کے بارے میں اپنی پالیسیوں کو نرم کرنے کا ارادہ رکھتی ھے۔یہ اس بات کا عندیہ ھے کہ دنیا ہمارے نقطہ نظرکو سمجھ رہی ھے اور ہمارے ساتھ چلنے کو تیار ھے۔یوں ہم جلد خوشحالی کی جانب اپنا وہ سفر شروع کر دیں گے جو ہر پاکستانی کا خواب ھے۔ہر پاکستانی کے لیے اب وقت ھے، ارادہ کرنے کا اور عملی قدم اُٹھانے کا۔اپنی صفوں میں چھپے آستینوں کے سانپ ڈھونڈنے کا،جن کی ساری تماشہ گریوں کو اپنے مضبوط ارادے اور سمجھ سے ناکام بنانا ھے۔چائے کی پیالی کے طوفان کو،ان کے لیے TITANICؓ بنانا ھے۔جس میں ان کو ڈوب کر مر جانا ھے۔مشکلیں ہر قوم کے راستے میں آتی ھیں مگر بلند نظر قومیں ہمیشہ پستی سے بلندی کی طرف رُجوع کرتی ھیں۔وہ خود تو زمین پر ھوتی ھیں لیکن اُنکی نظریں آسمان پر ھوتی ھیں۔مسلسل کوشش اُنکی زندگی کا اُصول ھوتا ھے اورجدوجہد کے دنوں میں اُنکی طبیعتیں سکون و آرام سے نا آشنا ھوجاتی ھیں۔ایسی قوموں کی زندگی کا ہر لمحہ دنیا کے لیے پیغام انقلاب ھوتا ھے اور یہی سب سے بڑا سبب ھے جس کی وجہ سے وہ قومیں عروس ترقی سے ہمکنار ھوتی ھیں۔
تلاطم ہائے بحر زندگی سے خوف کیا معنی؟
جو دیوانے ھیں وہ موجوں کو بھی ساحل سمجھتے ھیں

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*