بنیادی صفحہ -> ٹیکنالوجی -> انسٹاگرام نے نیا فیچر متعارف کروادیا
انسٹاگرام
انسٹاگرام

انسٹاگرام نے نیا فیچر متعارف کروادیا

لاہور(ویب ڈیسک ) انسٹاگرام کے وہ صارفین جو ایک سے زائد اکاؤنٹ استعمال کر رہے ہیں، ان کے لیے خوشخبری ہے کہ وہ اب ’سیلف ری گرام‘ فیچر کی مدد سے بیک وقت ایک ساتھ دیگر اکاؤنٹس پر بھی اپنی پوسٹ شیئر کر سکتے ہیں۔ ٹیکنالوجی ویب سائٹ ٹیک کرنچ کی رپورٹ کے مطابق کمپنی کے ترجمان کا کہنا ہے کہ انسٹاگرام میں ’سیلف ری گرام‘ فیچر جلد آئی او ایس سسٹم کے لیے متعارف ہونے والا ہے۔ رپورٹ کے مطابق صارف جب انسٹاگرام پر پوسٹ شیئر کرنے جارہا ہوگا تو اُس وقت آپشنز میں ’سیلف ری گرام‘ فیچر بھی مہیا ہوگا، یعنی جہاں ’ٹیگ پیپل‘ اور ’مارک یور لوکیشن‘ کا فیچر ہوگا وہیں پوسٹ ری گرام کرنے کے لیے ’پوسٹ ٹو ادر اکاؤنٹ‘ (post to other accounts) کا آپشن ہوگا۔ کمپنی کے ترجمان کے مطابق یہ فیچر اُن صارفین کے لیے زیادہ فائدے مند ثابت ہوگا جو انسٹاگرام پر کاروبار کر رہے ہیں کیونکہ اس سے وقت ضائع ہونے سے بچے گا اور بیک وقت ایک سے زائد اکاؤنٹس پر آسانی سے پوسٹس شیئر کی جاسکیں گی۔ اس فیچر کو صرف آئی او ایس سسٹم یعنی آئی فون صارفین کے لیے متعارف کیا جائے گا جبکہ اینڈرائیڈز کے لیے اب تک کسی قسم کی یقین دہانی نہیں کروائی گئی۔

انسان کو مضبوط بنانے والا روبوٹک لباس
لاہور(ویب ڈیسک) ماہرین نے ایک اور کامیابی حاصل کرلی – انسان کو مضبوط بنانے والا لباس تیار کرلیا جو انسان کو 20 گنا تک مضبوط بناتا ہے – جس کے بعد 100 پونڈ وزن اٹھائے تو وہ پانچ پونڈ وزنی معلوم ہوگا-
وہ وقت قریب ہے جب نحیف انسان 200 پونڈ (90 کلوگرام) وزن اٹھاسکیں گے اور مزدور ایک وقت میں دگنا یا تین گنا وزن اٹھانے کے قابل ہوجائیں گے۔ سالٹ لیک امریکا میں واقع سارکوس کمپنی نے یہ روبوٹک لباس (ایکزو اسکیلیٹن) بنایا ہے جو پہننے والے کو 20 گنا مضبوط بناتا ہے۔ روبوٹک لباس کا نام ’گارجیئن ایکس او میکس‘ رکھا گیا ہے جو بیٹری سے چلنے والا دنیا کا پہلا روبوٹ نظام ہے جسے پورے بدن پر پہنا جاسکتا ہے۔ کمپنی کو اس کے آرڈرملنا شروع ہوگئے ہیں اور 2020ء تک اس کی فروخت شروع ہوجائے گی۔ روبوٹک لباس میں سب سے بڑا چیلنج چھوٹی بیٹری کو جوڑ کر روبوٹ لباس بنانا تھا کیونکہ تار سے جڑنے کے بعد پہننے والا بجلی کے ساکٹ کا محتاج ہوجاتا ہے اور آزادانہ گھوم پھر نہیں سکتا اسی کی تعمیر میں انجینئرز کو کئی سال لگے۔ اب ایک بار بیٹری چارج کرنے سے لباس 8 گھنٹے تک کام کرتا ہے اور خالی بیٹریوں کو بڑی آسانی سے چارج شدہ بیٹریوں سے بدلا جاسکتا ہے۔ پہننے والا جب وزن اٹھاتا ہے تو اسے وزن کے بیسویں حصے کا احساس ہوتا ہے یعنی کوئی 100 پونڈ وزن اٹھائے تو وہ پانچ پونڈ وزنی معلوم ہوگا، اب تک سارکوس نے اس نظام کی قیمت نہیں بتائی ہے۔ اسی طرح مزدور بہت سہولت سے 200 پونڈ وزن اٹھاسکتا ہے تاہم اس سے زائد میں لباس کا توازن خراب ہوسکتا ہے۔ 2020ء میں پہلا روبوٹ لباس سامنے آجائے گا اور اب اس دوڑ میں ایل جی اور فورڈ سمیت کئی کمپنیاں شامل ہیں۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*