Foreign Minister , Shah Mehmood Qureshi, Kashmir , Debby Abrahmas , UK, UN, India

” دنیا تجارتی مفادات کی وجہ سے مسئلہ کشمیرپرخاموش ہے “

لاہور(ویب ڈیسک): وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے برطانوی رکنِ پارلیمنٹ ڈیبی ابراہمس کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ دنیا مسئلہ کشمیر میں جاری ابترصورتحال سے آگاہ ہے لیکن تجارتی مفادات کی وجہ سے خاموش ہے.

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں مسلسل گزشتہ سال پانچ اگست سے مسلسل کرفیو جاری ہے۔ برطانوی گروپ مقبوضہ اور آزاد کشمیر کا خود جائزہ لے کر رپورٹ اقوام متحدہ میں پیش کرے۔ وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ شہریت کا متنازع قانون نام نہاد سیکولر بھارت کے چہرے پر داغ ہے۔ خود بھارتی اسے کالا قانون کہہ رہے ہیں۔ ادھر سلامتی کونسل مقبوضہ کشمیرکی صورتحال کو نیوکلئیر فلیش پوائنٹ قرار دے چکی ہے۔ ڈیبی ابراہمس کا کہنا تھا کہ بھارتی حکومت نے ہمیں مقبوضہ کشمیر کا دورہ کرنے کی اجازت نہیں دی۔ گروپ کے دورے کا مقصد مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کا جائزہ لینا ہے۔ پاکستان کے مثبت رویے کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ امید ہے بھارت بھی پاکستان کی طرح تعاون کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی کسی ایک ملک کا مسئلہ نہیں ہوتی۔ برطانیہ کے کئی افراد کا مقبوضہ کشمیر میں اپنے رشتہ داروں سے رابطہ نہیں ہو رہا۔ پاکستانی حکومت کے شکر گزار ہیں کہ انہوں نے ہر ممکن تعاون کیا۔ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ بھی جلد پاکستان کا دورہ کرینگے . اس سے قبل وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سے برطانوی پارلیمنٹ کے کشمیر پر آل پارٹیز پارلیمانی گروپ کے ممبران کی ملاقات کی۔ اس موقع پر معزز مہمانوں سے بات چیت میں ان کا کہنا تھا کہ آپ کا دورہ مقبوضہ جموں وکشمیر کے مسئلے کے حل کے لیے آپ کے عزم کا اعادہ کرتا ہے۔ یہی مسئلہ جموں وکشمیر کے عوام کے لئے سب سے زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔ آل پارٹیز کشمیر گروپ ایک انتہائی اہم فورم ہے جس سے کشمیری عوام کی بہت امیدیں وابستہ ہیں۔ یہ گروپ بین الاقوامی سطح پر کشمیر کے مسئلے کو اجاگر کرنے کے لیے اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ گروپ کی 2018ء میں کشمیر پر رپورٹ انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ بھارت کے 5 اگست 2019 کے یک طرفہ اقدامات کی وجہ سے صورت حال اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ مقبوضہ جموں وکشمیر پر بین الاقوامی اداروں خصوصاً کشمیر گروپ کی جانب سے ایک نظر ثانی رپورٹ مرتب کی جائے اور نئی صورت حال پر دوبارہ غور کیا جائے۔