بنیادی صفحہ -> اداریہ،کالم -> عدم برداشت کے خطرناک نتائج۔۔محرکات اور وجوہات کا سدباب ناگزیر
عدم برداشت

عدم برداشت کے خطرناک نتائج۔۔محرکات اور وجوہات کا سدباب ناگزیر

عدم برداشت کے خطرناک نتائج۔۔محرکات اور وجوہات کا سدباب ناگزیر

پروفیسر خالد حمیدکے قتل کو کئی روز گزر گئے ، مگر اس واقعے پر اب بھی چہ موگیاں جاری ہے، اس میں تو کوئی دور رائے نہیں معاشرہ اس قتل کو انسانیت سوز سانحہ قرار دے چکا اور قاتل خطیب حسین کے اس ناقابل فہم فعل کی پرزور الفاظ میں مذمت کرچکا ہے ، مگر اب بھی کچھ عناصر ہیں جو خطیب حسین کے فعل کو صیح ثابت کرنے کیلئے ایڑی چوٹی کازور لگانے میں مصروف عمل ہیں ،چند روز سے ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر گردش میں ہے اورفوٹیج واضح نہیں مگر سوشل میڈیا کے فلاسفر بغیر تحقیق کے اس کو خالد حمید کے ساتھ منسوب کر کے یہ موقف اپنائے ہوئے ہیں محروم کے یہ ناقابل برداشت بیانات کے باعث خطیب حسین مشتعل ہوا ۔ مگر سوشل میڈیا پر جاری شوروغل میں یہ آواز کون سنے یہ ویڈیو خالد حمید کی نہیں ۔چند روز قبل جب ‘طالب علم خطیب حسین نے چھریوں کے وار کر کے اپنے پروفیسر کو اس وجہ سے قتل کیاوہ کالج میں کوئی فنکشن منعقد کروانے جا رہے تھے جس پر خطیب حسین کو تحفظات تھے اور وہ اُسکو رکوانا چاہتا تھا ۔ دوسری جانب خالد حمید کے قریبی دوست کا کہنا ہے کہ ‘معاشرے میں پھیلتی عدم برداشت’ کی وجہ سے ‘اس شخص کے ساتھ پیش آیا جو کبھی کسی سے بلند آواز میں بات نہیں کرتے تھے، تحمل مزاج، رحمدل اور کالج کے طلبا و طالبات میں نہایت مقبول استاد تھے’۔ مقتول کے بھائی کا کہنا ہے کہ خالد حمید ایک انتہائی شریف انسان تھے جو مذہبی اور نماز کے پابند تھے، کسی لڑائی جھگڑے میں نہیں پڑتے تھے۔ دوسری جانب استاد کو قتل کرنے والے طالب علم خطیب حسین کی گرفتاری کے بعد ایک وڈیو منظرعام پر آئی جس میں اس نے بتایا کہ اس کا نام خطیب حسین ہے اور اس نے چھریوں کے وار کر کے اپنے استاد خالد محمود کو مارا۔ جب اس سے پوچھا گیا کہ اس نے ایسا اقدام کیوں کیا تو اسنے جواب دیا کہ استاد مذہب کے خلاف باتیں کرتا تھا اور اسے اپنے کیے پر کوئی شرمندگی نہیں ہے۔جب اسے بتایا گیا کہ اس کے استاد کی موت واقع ہو گئی ہے تو اس نے کہا کہ اچھا ہوا، اللہ کا شکر ہے۔خطیب حسین کے بیان عکاس ہے کہ اختلاف رائے کی بنیاد پرعدم برداشت کے باعث اُس میں نفرت اپنی حدیں پار کر چکی تھی ۔حساس اداروں کو اس حوالے سے تحقیقات کی اشد ضرورت ہے کس نے خطیب کی ایسی ذہن سازی کی اور ایسی ذہنیت تیار کرنے میں اور کون کونسے عوامل اور عناصر شامل ہیں ۔ ابھی تو ہم یہ نہیں بھولے جب اپریل 2017 میں خیبر پختونخوا کے ضلع مردان میں عبدالولی خان یونیورسٹی کے طالب علم مشال خان کو جامعہ کے طلبہ نے ان پر توہین مذہب کا الزام لگا کر قتل کر دیا تھا۔اس واقعے کے کچھ ہی عرصے بعد چارسدہ میں اسلامیہ پبلک کالج کے ایک طالب علم نے اپنے پرنسپل پر مبینہ طور پر توہین مذہب کا الزام لگا کر انہیں قتل کر دیا تھا۔جبکہ میں پنجاب کے ضلع اوکاڑہ میں 2016 میں پندرہ سالہ لڑکے نے اس وقت اپنا ہاتھ کاٹ دیا جب انہیں لگا کہ انھوں نے توہین رسالت کی ہے۔بہرحال یہاں یہ سوال زیادہ اہم نہیں کہ کالج میں ڈانس پارٹی ہونے جارہی تھی کہ نہیں؟ یا کالج میں گروہ بندیاں تھیں یا نہیں؟ ان گروہ بندیوں کو کیوں کر نہ روکا گیا؟ سوال یہ بھی نہیں کہ استاد اور شاگر کی تکرار کو بھانپتے ہوئے انتظامیہ متحرک کیوں نہیں ہوئی؟سوال یہ بھی نہیں کہ ایسے واقعات پر نیشنل ایکشن پلان کہاں ہے؟ سوال یہ بھی نہیں ہرروز اس واقعے پر کوئی نئے سوالات کیوں اُٹھ رہے ہیں ؟سوال یہ ہے کہ کب تک چور کو ختم کیا جاتا رہے گا مگر چوری کو آزاد رہے گی؟ سوال یہ ہے کہ چوری کی وجوہات اور محرکات کو ختم کر کے چوری ختم کیوں نہیں کی جاتی؟ تا کہ معاشرے میں چور جنم نہ لیں؟ جبکہ چوری ختم کر کے چور کو بھی معاشرے کا اہم اور فعال فرد بنایا جاسکتا ہے۔ہمیں دیکھنا ہوگا کہ ہمارا معاشرہ عدم برداشت سے شدت پسندی اور شدت پسندی سے انتہاپسندی اور پھر انتہاپسندی سے دہشت گردی کی جانب کیسے بڑھتا رہا اور کیوں بڑھ رہا ہے؟ غریب ہر وہ کام کرنے پر تیار ہوسکتا ہے جس سے اسکے بھوکے بچوں کا پیٹ بھر سکے کیونکہ بھوکا پیٹ کفر کے قریب ہوتا ہے ، بیروزگاری کے ہاتھوں تنگ مایوس نوجوان بھی غلط ہاتھوں استعمال ہوسکتے ہیں ،تعلیم سے دوری نے اچھے بُرے کی پہچان ختم کردی سیاہ و سفید سب ایک ہوکر رہ گیا،والدین کے بے توجہی کے باعث بچے غلط سوسائٹی کے نظر ہوگئے،غیر میعاری تعلیمی نظام بھی بہت اہم عنصر ہے،دین سے دوری،منبر و محراب کا غلط استعمال بھی ہیجانی کیفیت کے دوچار کرنے میں ہتھیار ثابت ہوا،فلموں و ڈراموں میں بیرونی ثقافت کی یلغار کے اثرات بھی بُری طرح معاشرے پر مرتب ہورہے ہیں،سیاسی کلچرنے عدم برداشت کو ہوا دی ، جلسے جلوسوں میں مخالفین کیلئے نازیبہ الفاظ کا استعمال بھی نفرت کو بڑھاوا دیتا رہا،احساس محرومی بھی کسی عذاب سے کم نہیں جس کے باعث بلوچی ہتھیار اُٹھانے پر مجبور کردیا،،موجودہ دہشت گردی کی سب سے بڑی وجہ بھی عدم برداشت ہے جو اپنے مخالف کو سراہنے اور اس کے ساتھ مل جل کر رہنے کی روایت نہ ہونے کی وجہ سے روز بہ روز بڑھتا جا رہا ہے،قانون کی بالا دستی نہ ہونے کے باعث مجرم گرفت سے بچ نکلتے رہے اور پہلے سے زیادہ خطرناک عزائم کیساتھ معاشرے کی تباہی کے باعث بنے،معاشرتی نا انصافی و زیادتی،تعصب جو اپنے انہتا کو پہنچ چکی ہے جس کی وجہ سے مختلف ذات، عقیدے اورمسلک کے لوگوں میں عدم برداشت اس حد تک زیادہ ہو گیا ہے کہ انسانی جان بھی بے وقعت ہو کر رہ گئی ہے۔یہ سب عوامل ایک عام عزت دار شہری کو بدنام زمانہ بنا دینے کیلئے کافی ہے ،کیا وہ شخص ذمہ دار ہے جس نے بے روزگاری یا مہنگائی سے تنگ آکر ہتھیار اُٹھایا یا وہ جن برسراقتدار ہے اور غریب کے منہ سے نوالا بھی کھینچتے رہے؟جب تک ان پہلوؤں پر توجہ نہیں دی جائیگی چور پکڑے جائیں یا ماریں جائیں مگر چوری کا کوئی بال بھی بیکا نہیں کرسکتا اور اسی طرح خالد حمید مرتے رہے گے اور خطیب حسین جیسے گرفتار ہوتے رہے گے ایک بعد ایک سانحہ خدانخواستہ نمودار ہوتا رہیگا اور بات مذمتوں،افسوس اور سوشل میڈیا پر ایک اور ہیش ٹیگ پر آکر اختتام پذیر ہوجائیگی۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*