بنیادی صفحہ -> دنیا کی خبریں -> اسرائیل کا حزب اللہ کی حملوں کے لیے استعمال ہونیوالی سرنگیں پکڑنے کا دعوٰی
حزب اللہ

اسرائیل کا حزب اللہ کی حملوں کے لیے استعمال ہونیوالی سرنگیں پکڑنے کا دعوٰی

لاہور(ویب ڈیسک): اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہونے دعوٰی کیا ہے کہ انہوں نے لبنانی تنظیم حزب اللہ کی سرحد پارحملوں کے لیے سرنگیں پکڑی ہیں جوکہ ایران کی مدد سے بنائی گئی تھیں. اسرائیل کی جانب سےنامعلوم مقام پربھاری مشینوں سےسرنگیں تباہ کرنےکی وڈیوجاری کردی گئی ہے. سرنگیں ایران کی براہ راست مدداورفنڈنگ سےتعمیرکی گئیں. اسرائیلی وزیراعظم نیتن ہاہوکا مزید کہنا تھا کہ ایران کاجارحانہ رویہ ناقابل قبول ہے.

عاصمہ حدید کانظریہ اسرائیل اور تاریخی حقائق

محترمہ عاصمہ حدید کا پارلیمنٹ میں خطاب سن کر مجھے کوئی حیریت نہیں ہوئی ،سپریم کورٹ کا آسیہ بی بی سے متعلق فیصلہ اس پر عوامی ردِ عمل پھر اس اس ردعمل پر وزیراعظم کا فوری ردِ عمل۔سب کچھ عجیب نہیں تھا۔سابقہ پاکستان قائداعظم کا پاکستان تھا اورموجودہ نیا پاکستان ہے۔اسلامی جمہوریہ پاکستان کی پارلیمنٹ میں جس طرح رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دیدہ دلیری سے جھوٹ منسوب کیا گیا ہے اس کی تمثیل ملنا مشکل ہے۔سوال اسرائیل کو تسلیم کرنے یا نہ کرنے کا نہیں ،نہ ہی اسرائیل کے ظالم ہونے کا ہے۔نہ ہی یہ ثابت کرنے کاہے کہ اسرائیل غاصب ملک ہے ۔ نہ ہی اس پر بحث کرنا ہے کہ یہودی ضالین ہے ۔نہ ہی یہ بحث کرنا ہے کہ اسرائیلی مبغوض ہیں ۔نہ ہی یہ باور کرانا ہے کہ اسرائیل خود مختار ریاست ہے۔نہ ہی تاریخ کے ان پنوں کامطالعہ مقصود ہے جن سے ثابت ہوتاہے کہ فلسطین کی سرزمین پراسرائیل لاٹھی کے زورپرقابض ہوا۔نہ ہی اسرائیل کے بین الاقوامی سامراجی جنگی کردار کی تصویر دکھانا مقصود ہے ۔نہ ہی ان حقائق کو سامنے لانا مقصود ہے جن کی بابت رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں خیبر سے نکالنے کا حکم دیا ۔البتہ عاصمہ حدید صاحبہ کا اسرائیل کو تسلیم کروانے کادلائلی فارمولا ضرور زیربحث لانا چاہتا ہوں۔
محترمہ نے کہا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جب نماز صلوۃ شروع کروائی تو سب سے پہلے خانہ کعبہ کی جانب رخ کیا پھر یہودیوں کو خوش کرنے کے لیے یروشلم کی جانب رخ کیا ؟جبکہ حقیقت یہ ہے کہ مکی دور میں اورمدینہ کی طرف ہجرت کے کچھ عرصے بعد تک مسلمان بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز ادا کیا کرتے تھے۔ پھر مسجد الحرام کی طرف رخ کرنے کا حکم نازل ہوا جس کا ذکر سورۃ البقرۃ میں ان الفاظ کے ساتھ ہے۔(اے نبی) ہم آپ کا آسمان کی طرف منہ پھیر پھیر کر دیکھنا دیکھ رہے ہیں سو ہم آپ کو اسی قبلہ کی طرف جس کو آپ پسند کرتے ہیں منہ کرنے کا حکم دیں گے۔ تو اپنا منہ مسجد الحرام کی طرف پھیر لو۔اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ تحویل قبلہ کا حکم آنے سے پہلے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس کے منتظر تھے۔ آپ خود بھی محسوس فرما رہے تھے کہ بنی اسرائیل کی امامت کا دور ختم ہو چکا اور اس کے ساتھ بیت المقدس کی مرکزیت بھی ختم ہوئی لہٰذا اب اصل مرکز ابراہیمی کی طرف رخ کرنے کا وقت آ گیا ہے۔دوسرا رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کا بار بار آسمان کی جانب دیکھنا اور بیت اللہ کو قبلہ بنانے کی دلی خواہش کو قرآن کریم میں اللہ تبارک وتعالیٰ نے ترضاھا سے عبارت کیاہے ۔یعنی رسالت مآب کی دلی خواہش بیت المقدس کی بجائے بیت اللہ کو قبلہ تسلیم کرنے کی تھی پھر اللہ نے اس خواہش کو من وعن قبول کیا ۔ جس مسجد میں عبادت کے دوران تحویل قبلہ کا حکم آیا اسے مسجد قبلتین یعنی دو قبلوں والی مسجد کہا گیا جو آج بھی قائم ہے۔مندرجہ بالا آیت کا سیاق وسباق محترمہ کے موقف کے برخلاف ہے اورمحترمہ کا بیانیہ حقائق کے منافی ہے۔
محترمہ نے کہا میں نے سمجھا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اہل یہود کی خوشنودی چاہتے تھے ؟ تویہ کہنا بھی حقائق کے منافی ہے اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں اہل یہود کو گمراہ قرار دیا ۔رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم نے عاشورہ کاروزہ دس محرم کی بجائے نو محرم کو رکھنے کاعزم کیا اس کی وجہ علماء نے یہود کی مخالفت بتائی ہے۔امام کعبہ،فضیلت الشیخ ،امام العصر مفتی اعظم ابن باز رحمہ اللہ سے اسرائیل سے دوستی کی بابت سوال کیا گیا تو حضرت ابن باز رحمہ اللہ کا جواب تھا :
’’قرآن و حدیث اور اجماع سے ثابت ہے کہ مسلمانوں پر واجب ہے کہ یہود ونصاری اور تمام مشرکین وکفار سے دشمنی رکھیں ، اور ان سے محبت کرنے اور ان کو اپنا دوست بنانے سے پرہیز کریں ، جیساکہ اللہ سبحانہ و تعالی نے اپنی کتاب کریم میں جس کے اندر باطل کی کوئی گنجائش نہیں ہے اورجو باحکمت اور قابل تعریف ذات کی طرف سے نازل کردہ ہے خبردارکیا ہے کہ یہود اورمشرکین سب سے زیادہ مسلمانوں سے دشمنی رکھتے ہیں۔ارشاد باری تعالیٰ ہے۔مسلمانو! تمہارے لیے ابراہیم اوراس کے ساتھیوں میں بہترین نمونہ ہے۔جبکہ ان سب نے اپنی قوم سے برملا کہہ دیا کہ ہم تم سے اورجن جن سے تم اللہ کے سوا عبادت کرتے ہوان سب سے بالکل بیزار ہیں۔ہم تمہارے منکر ہیں جب تک تم اللہ تعالیٰ کی وحدانیت پر ایمان نہ لاؤہم میں تم میں ہمیشہ کے لیے بغض وعداوت ظاہر ہوگئی ۔دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا ’’اے لوگو! جوایمان لائے ہو میرے اور اپنے دشموں کو دوست مت بناؤ۔تیسرے مقام پر ارشاد فرمایا : اے مومنو ! یہود ونصاری کو اپنا دوست مت بناؤ یہ آپس میں دوست ہیں۔
ان تمام آیات کریمہ میں مومنوں کو کافروں سے دوستی کرنے سے اجتناب کا حکم دیا گیا ہے، اور مختلف طریقوں سے اللہ کے لئے ان سے دشمنی رکھنے کی ترغیب دی گئی ہے، اسی طرح ان کو اپنا ہم راز اور دلی دوست بنانے سے خبردار کیا گیا ہے، اور واضح طور پر یہ بتایا گیا ہے کہ یہ لوگ ہمیں شر پہنچانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے۔۔۔ اوراللہ سبحانہ وتعالی نے واضح طور سے بتایا کہ یہ لوگ ہمیں مشقت میں ڈالنا چاتے ہیں ۔اسی طرح اللہ تعالی نے یہ وضاحت کی کہ ان کے اندر کا بغض وعناد ان کے منہ تک آگیا ہے جو ان کی باتوں سے ظاہرہو رہا ہے، یہی نہیں بلکہ دلوں میں چھپے ہوئے کینہ وحسد اور بدنیتی ان کے ظاہر کردہ دشمنی سے کہیں بڑی ہے۔ پھر اللہ سبحانہ وتعالی نے بیان کیا کہ یہ کفار بسا اوقات منافقانہ طور پراسلام کا اظہار کرتے ہیں تاکہ اپنے خبیث مقاصد کی تکمیل کریں، اورجب اپنے شیاطین کے ساتھ ہوتے ہیں تو مسلمانوں پرغصہ کرتے ہوئے انگلیاں چباتے ہیں، پھر اللہ تعالی نے یہ بھی بیان کیا کہ دشمنوں پرغلبہ اورعزت وقوت کی جو نعمتیں ہمیں حاصل ہوتی ہیں انہیں یہ نعمتیں نہایت بری لگتی ہیں، اور جب ہمیں کوئی برائی مثلا شکست یا بیماریاں وغیرہ لاحق ہوتی ہیں، تو انہیں خوشی ہوتی ہے، اس کی وجہ صرف یہی ہے کہ یہ لوگ ہم سے اور ہمارے دین سے انتہا درجے کی بغض و عداوت رکھتے ہیں۔
تشفی قلب کے لیے مزید دلائل قارئین کی نظرکرتاہوں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ نے ارشاد فرمایا کہ بے شک یہود ونصاریٰ خضاب نہیں لگاتے تم ان کی مخالفت کرو اورخضاب لگاؤ۔دوسری روایت میں ہے کہ یہود کا سلام انگلیوں کا اشارہ ہے اورنصاریٰ کا سلام ہتھیلی کا اشارہ ہے نہ یہود کی مشابہت کرو نہ ہی نصاریٰ کی۔تیسرے مقام پر ارشاد پاک ہے دین ہمیشہ غالب رہے گا جب تک لوگ افطار میں جلدی کرتے رہیں گے بے شک یہود ونصاریٰ افطار میں تاخیر کرتے ہیں۔سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم دنوں میں اکثر شنبہ اور یکشنبہ کو روزہ رکھا کرتے ،اور فرماتے کہ یہ دونوں دن مشرکوں کے عید کے ہیں،مجھے پسند ہے کہ میں ان کی مخالفت کروں۔ یعنی شنبہ یہود کی عید کادن اور یکشنبہ نصاری کی عید کادن ہے اور ظاہر ہے کہ عید کے دن وہ کسی بھی حال میں روزہ نہ رکھیں گے، اور ان دنوں میں روزہ رکھنے سے مخالفتِ اہل کتاب ظاہر ہوتی ہے،اور اسی کا اظہارمطلوب و مقصودہے۔
ابتداء میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب جنازہ کے ساتھ چلتے تو جب تک میت کو قبر میں نہ رکھاجاتا بیٹھتے نہ تھے،اس پر ایک یہودی عالم نے کہا: ھٰکَذَا نَصْنَعُ یَا مُحَمَّد،اے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم) ہم بھی اسی طرح کرتے ہیں،اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ گئے، اورفرمایا: خَالِفُوھُم کہ ان کی مخالفت کرو!یعنی یہودکہ وہ جنازہ کے ساتھ بیٹھتے ہی نہیں ہیں، ان کی مخالفت اس طرح کرو کہ جب تک جنازہ گردنوں سے نیچے نہ رکھا جائے، نہ بیٹھو،پھر جب جنازہ گردنوں سے نیچے رکھ دیا جائے تو بیٹھ سکتے ہو۔محترمہ جی ہماری شناخت ،مزاج ،انداز،شریعت ،طریقت،منہج،تہذیب وثقافت مختلف ہے ۔دوستی کن بنیادوں پر ہونی چاہیے اس کا تعین کرنا ابھی باقی ہے۔یقیناًیہ بھی ضروری ہے کہ کن بنیادوں پر اہل کتاب سے تعلق استوار کیاجاسکتا ہے اگر اللہ نے توفیق دی تو اگلے کالم میں اس پر کچھ امثال پیش کروں گا۔۔۔جاری ہے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*