بنیادی صفحہ -> اداریہ،کالم -> رحیم یار خان…. نئے ڈی پی او کی تعیناتی اور سیاستدان

رحیم یار خان…. نئے ڈی پی او کی تعیناتی اور سیاستدان

رحیم یار خان…. نئے ڈی پی او کی تعیناتی اور سیاستدان
جام ایم ڈی گانگا
گذشتہ دو ماہ سے ضلع رحیم یار خان میں صاحب اقتدار گروپ کے سیاستدانوں میں اپنی اپنی مرضی کا ڈی پی او لگوانے کی دوڑ، کشمکش اور مرضی میچ کسی ہار اور جیت کے فیصلے کے بغیر ہی اپنے اختتام کو پہنچ چکا ہے. وزیر اعلی پنجاب کے قریبی عزیز امیر تیمور خان کی بطور ڈی پی او تعیناتی نے سب کو خاموش کرا دیا یا تعیناتی دنگل کے سب پہلوانوں اور ان کے طبالچیوں کی بولتی بند کر دی ہے. یہ نئے ڈی پی او امیر تیمور رحیم یار خان میں نئے نہیں ہیں بلکہ قبل ازیں موصوف بطور ایس پی انوسٹی گیشن یہاں خدمات سر انجام دے چکے ہیں.
پاکستان کی سیاست میں اور قریبی رشتے داری کی وجہ سے اداروں میں عمل دخل کے حوالے سے مقامی صوبائی اور قومی سطح پر کئی کردار ہمارے سامنے ہیں. پھوپھو، سسر، سالہ سالی، ماماں، داماد وغیرہ وغیرہ ہمارے ضلع رحیم یار خان کی سیاست میں بھی ایک بڑے سیاسدان کے ایک قریبی عزیز کا چرچا اور دوسرے بڑے سیاستدان کے ماماں کا کردار بڑا مشہور ہوا تھا.خیر مثبت منفی دونوں قسم کے کرداروں کی معاشرے میں بے شمار مثالیں ہیں. مجھے نہیں معلوم کی وزیر اعلی جناب عثمان بزدار اور ڈی پی او رحیم یار خان امیر تیمور خان کی باہم کیا رشتے داری ہے. بہرحال نئے ڈی پی او کی تعیناتی کے لیے وڑائچ پ?لس گروپ اور مخدوم خسرو بختیار گروپ کے درمیان سیاسی بالاتری کی جاری رسہ کشی کو ختم کرنے کے لیے بہترین حل اور فیصلہ کیا گیا ہے. دونوں گروپس کیوں اپنا اپنا ڈی پی او لگوانے کے لیے بضد تھے. اس سوال کا جواب ہے ہماری سیاست اور…. اور…. اور.
محترم قارئین کرام،، پولیس میں سیاسی تعیناتیاں اور پولیس کا سیاسی استعمال ہمارے ہاں کوئی نئی بات ہرگز نہیں ہے بلکہ اگر غیر جانبدارانہ طور پر دیکھا جائے تو میاں برادران کے ادوار میں یہ وبا مالی کی نسبت کئی گنا بڑھی. تھانے بک ہوتے ہیں یا بکتے ہیں. تھانوں کے ذریعے لا اینڈ آرڈرز اور قانون کی بالاتری کو قائم رکھنے کا کام لیا جاتا ہے یا اپنی اپنی سیاسی بقا، بڑھوتری اور تسلط کو قائم رکھنے کا کام لیا جاتا ہے. انتقامی کاروائیوں کے لیے پولیس کے استعمال سے بھی ہماری سیاسی تاریخ بھری پڑی ہے. بہرحال کوئی مانے یا نہ مانے ماضی کی نسبت پولیس میں کچھ نہ کچھ تبدیلی محسوس ہو رہی ہے. اس کی وجہ نئی حکومت ہے یا لوگوں کی آگاہی اور شعور میں ڈویلپمنٹ?. یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ انداز و اطوار اور طریقے بدلے گئے ہیں. سردی گرمی اور نرمی سختی کے اصولوں کو اوپر نیچے کیا گیا ہے. بہرحال یہ ایک سچ اور حقیقت ہے کہ جس حکومت نے بھی جس دن پولیس کو مکمل طور پر غیر سیاسی کر دیا. میرٹ اور انصاف کا بول بالا ہو جائے گا. کرپشن کو نتھ ڈالا آسان ہو جائے گا. اگر سیاست دان پولیس کو اپنے مقاصد کے لییاستعمال نہیں کرتے تو پھر تھانوں پر مرضی کے ایس ایچ اوز کی تعینانی کے لیے کیونکر اپنا پورا زور اور طاقت صرف کرتے ہیں.
وزیر اعظم عمران خان نے جس سسٹم اور سوچ کو بدلنے کا دعوی کیا تھا.ہم دیکھ رہے ہیں کہ کئی مختلف وجوہات کی بنا کر آج وہ وزیر اعظم ہوتے ہوئے بھی ُ ُ کاش ٗ ٗ کے الفاظ ادا کرنے پر مجبور دکھائی دیتے ہیں. یہ ہے وہ سکہ بند مضبوط سسٹم اور آمرانہ سوچ. یہ میرا آج کا موضوع نہیں ہے یہ بالکل عیلحدہ ٹاپک ہے. جس پر پھر کبھی بات کریں گے. ہم واپس ڈی پی او رحیم یار خان کی جانب آتے ہیں. ایک بات تو طے ہو گئی ہے کہ وزیر اعلی کے قریبی عزیز امیر تیمور خان کی تعیناتی سے مقامی سیاستدانوں کی جانب سے وزیر اعلی کو ڈی پی کی شکایت کرنے کا دروازہ تو تقریبا بند ہی سمجھیں. بلکہ مجھے تو ایسے لگ رہا ہے کہ تڑی کی بجائے موصوف کی خوشنودی حاصل کرکے کام نکلوانے کی پالیسی ہی اپنانی پڑے گی. کیونکہ انہیں یہاں تعینات کروانے میں کسی کی مہربانی اور احسان نہیں ہے.
ڈی پی او امیر تیمور پر اب ان محکمانہ ذمہ داریاں کے علاعہ بھی بھاری اخلاقی. ذمہ داریاں عائد ہو چکی ہیں. آنے والے دنوں میں ان کی سوچ اور پالیسی کا ہم سب کو پتہ چلے گا کہ آیا ڈی پی او آفس کے دروازے بلاتفریق سب کے لیے کھلتے ہیں یا خواص کے لیے، صاحب اقتدار گروپ کو پروٹوکول دینے سے کوئی خاص فرق نہیں پڑتا. خاص طور پر دیکھنے والی بات یہ ہوتی ہے کہ میرٹ اور انصاف کی فراہمی بلاتفریق اور بروقت کس حد تک میسر آتی ہے. رحیم یار خان میں ہمہ قسم کے سر اٹھاتے ہوئے جرائم کے سدباب اور کنٹرول کے لیے کیا اقدامات اٹھائے جاتے ہیں.سمگل شدہ ایرانی تیل کے وسیع کاروبار اور دھندے کو کس طرح قابو کرکے حکومتی خزانے کو نقصان اور عوامی مشنیری کو ناقص تیل کی تباہی سے بچایا جاتا ہے.چوری اور ڈکیتی کی بڑھتی ہوئی وارتوں کو کنٹرول کرنے کے لیے کیا حکمت عملی اختیار کی جاتی ہے. چوروں اور ڈکیتوں سے آگے پتھایدراروں منھیداروں اور سرپرستوں کی اصلاح کے لیے بھی کچھ کیا جاتا ہے یا نہیں.

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*