بنیادی صفحہ -> اہم خبریں -> اجلاس وہ بھی مرکزی، کیا ایک نااہل شخص سربراہی کر سکتا ہے

اجلاس وہ بھی مرکزی، کیا ایک نااہل شخص سربراہی کر سکتا ہے

اسلام آباد(ویب ڈیسک) وفاقی کابینہ کے اجلاس میں جہانگیرترین کی شرکت پر سوالات اٹھ کھڑے ہوئے، جہانگیرترین کابینہ اجلاس میں شریک ہوئے اور زرعی شعبے سے متعلق بریفنگ بھی دی، کابینہ اجلاس میں نااہل یا غیرمتعلقہ شخص کا شریک ہونا غیرقانونی ہے۔ وفاقی وزیراطلاعات فواد چودھری نے کابینہ اجلاس کے بعد پریس کانفرنس میں بتایا کہ کابینہ اجلاس میں جہانگیرترین بھی موجود تھے ۔
جہانگیرترین نے زرعی شعبے سے متعلق بریفنگ دی۔ پچھلے 8سالوں میں زراعت کے اوپر ہمارے اخراجات 60کم ہوئے ہیں۔ہماری امپورٹ15سال قبل 1.5بلین ڈالرز تھیں اب وہ 4بلین ڈالر ہیں۔ ان میں 2بلین ڈالرکی آئل سیڈزہم باہر سے منگوا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ لوگوں میں ہم آگاہی مہم چلائیں گے کہ لوگ بناسپتی گھی کا استعمال کم کردیں۔
آئندہ پانچ سالوں میں زرعی شعبے میں 18اسکیمز لانچ کی جائیں گی۔

پانی کے بہتراستعمال اور فی ایکڑپیداوار میں اضافہ شامل ہوگا۔ اب ہم آئل سیڈز خود پیدا کرنا چاہ رہے ہیں۔290ارب زرعی سیکٹر پر خرچ کیے جائیں گے۔کسانوں کیلئے قرضوں میں اضافہ کیا جائے گا۔ تاکہ زراعت کو فروغ دیا جاسکے۔اسی لائیواسٹاک اور فشریز میں ہم بڑا کام کرنے جارہے ہیں۔دنیا میں حلال گوشت کی بڑی مارکیٹ ہے۔انہوں نے کہا کہ کابینہ کے اجلاس میں سب سے پہلے کرائسٹ چرچ حملے کی مذمت کی گئی اور شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کرتے ہوئے دعا بھی کی گئی ہے۔
مغرب میں اسلام فربیا ہے، وہاں مسلمانوں کیخلاف نفرت پھیلائی گئی جس کے اب تنائج آرہے ہیں۔ اگر نفرت کی مہم چلائی جائے گی تودنیا پرامن نہیں ہوگی۔انہوں نے کہا کہ ملائیشین وزیراعظم مہاتیرمحمد کا پاکستان میں آنا خوش آئند ہے ۔ہمارے لیے یہ اعزاز کی بات ہے۔جب سے وزیراعظم نے اقتدار سنبھالا بیرونی ممالک کے سربراہان پاکستان کے دورے پر آرہے ہیں۔
مہاتیر محمد کے دورے کے اوپرکابینہ نے منظوری بھی دی ہے کہ ڈپلومیٹک پاسپورٹ کے اوپرمفت ویزہ پالیسی کا اعلان کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ کابینہ کے اجلاس میں اداروں کی سربراہاں کی تقرری کا طریقہ بنایا جارہا ہے۔سربراہان کی تقرری کیلئے جو کمیٹی ہوگی اس کا سربرا ہ وزیر ہوگا۔انہوں نے کہا کہ پراپرٹی بیچنے کا معاملہ چل رہا تھا، وزیراعظم نے تمام وزارتوں کو ہدایت کی ہے کہ اپنی اپنی وزارتوں کی لسٹ فراہم کریں کہ کونسی پراپرٹی بیچی جا سکتی ہے۔
سرکاری جائیدادوں کی فروخت کیلئے ٹاسک فورس بنائی جارہی ہے۔اجلاس میں انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کی ازسرنوتشکیل کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کوخودمختار ادارہ بنایا جائے گا۔ فواد چودھری نے کہا کہ کابینہ میں کرتار پورراہداری کا بھی جائزہ لیا گیاہے۔نوجوت سنگھ سدھو نے خط لکھا تھا کہ جس زمین کے اوپر باباگرونانک کاشت کرتے رہے اس زمین پرتعمیر نہیں کی جائے گی،یہ 30ایکڑبنتی ہے۔
15سو ایکڑکے اوپر مکمل منصوبہ ہے۔ منصوبے کے تحت 800کلومیٹر تک راوی پر پل بنایا جائے گا۔مون سون سے پہلے برج مکمل کرنے کی کوشش کریں گے۔ پاکستان نے کہا کہ ابتدائی مرحلے میں پانچ سوسکھ یاتری آئیں ہم ویلکم کریں گے۔کرتار پور راہداری سے متعلق مذاکرات کا ایک اور دور ہوگا۔انہوں نے کہا کہ جرنلسٹ پروٹیکشن ایکٹ کا بل اسٹینڈنگ کمیٹی کو بھجوا رہے ہیں۔
اب اخبارات اور میڈیا ہاؤسز بغیر لیگل پراسس صحافیوں کوفارغ نہیں کرسکتے۔وزیراعظم نے ہمیشہ سادگی کلچر اپنانے کی بات کی۔ اس لیے انٹرٹینمنٹ اور گفٹ بجٹ ختم کردیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ گیس بلز کے اوپر پر بات چیت ہوئی ہے۔32لاکھ لوگ گیس کے اضافی بل سے متاثر ہوئے، اوورچارج کیے گئے تھے۔گیس کے بلوں میں اووچارجنگ 2016اور 2017ء سے ہو رہی تھی لیکن پکڑا اب گیا ہے۔حکومت عوام کواڑھائی ارب روپے واپس کرے گی۔اس کی مزید تحقیقات کررہے ہیں ۔ لگ یوں رہا ہے کہ بڑی کمپنیز کو گیس چوری کروائی گئی اور اس کا بل عام صارفین کے کھاتے میں ڈال دیا گیا۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*