بنیادی صفحہ -> گوشہ خواتین -> جہیز لعنت سے کم نہیں
جہیز
جہیز

جہیز لعنت سے کم نہیں

لاہور(ویب ڈیسک)جہیز حقیقت میں ایک لعنت سے کم نہیں ہے لیکن ایک لڑکی کی زندگی کی خوشی کیلئے اسے ضروری سمجھا جاتا ہے ۔خیال کیا جاتا ہے کہ جتنی ایک جہیز والی لڑکی کی سسرال میں عزت ہوتی ہے اتنی بنا جہیز والی کی نہیں ہوتی ۔اپنی بیٹی کی خوشی کے لئے ماں باپ اپنی جان لگا دیتے ہیں چاہے وہ پھر اس کی حقیقت رکھتے ہیں یا نہیں ۔
جہیز کو اپنی بیٹی کی خوشی کا مقصد لے کر پورا کرنے کی بھر پور کوشش کی جاتی ہے لیکن کیا جہیز دینے سے کوئی بیٹی کی خوشی کا سر ٹیفکیٹ مل جاتا ہے ؟اگر نہیں میں آپکا بھی جواب ہے تو پھر جہیز کو کیوں اس قدر اہمیت دی جاتی ہے ۔
اکثر گھروں میں بیٹی ابھی دس سال کی عمر کو پہنچتی نہیں اور ماں باپ بیٹی کے جہیز کی اشیاء جمع کرنا شروع کردیتے ہیں حتی کہ بیٹی کے جوان ہونے تک کافی حد تک جہیزجمع بھی کر چکے ہوتے ہیں لیکن کبھی کبھار جہیز کی خواہش کرنے والے یہ نہیں سوچتے کہ اگلادے بھی سکتا ہے یا نہیں ۔ انہوں نے تو بس ڈیمانڈ کرنی ہوتی ہے ڈیمانڈپوری ہوئی تو رشتہ فائنل کردیا جاتا ہے نہیں تو صاف انکار کردیا جاتا ہے ۔

بعض اوقات ایسے لوگ نظر آتے ہیں جو بظاہر تو جہیز کی خواہش نہیں کرتے ہیں لیکن گھر دیکھ کر ،کاروبار دیکھ کر انداز ضرور لگالیتے ہیں کہ اس گھر سے اتنا جہیز آئے گا۔
بد قسمتی سے ہمارے معاشرے نے یہ عجیب و غریب رسم بنالی ہے ۔سسرال والے کم جہیز والی لڑکی کو اپنے گھر لانے میں تو ہین سمجھتے ہیں اس لئے کہ انہوں نے تو اپنی بہو کے جہیز کی نمائش کرنی ہوتی ہے یہ دکھانا ،بتانا ہوتا ہے کہ انہوں نے اپنے بیٹے کو ایک بڑے گھرانے میں شادی کی ہے ،اور بعض اوقات ایسے لوگ نظر آتے ہیں جو منہ مانگے جہیز لیتے ہیں اور صاف لفظوں میں بول دیتے ہیں ہمیں یہ یہ چاہیے۔

مثال کے طورپر ہمیں فر نیچر نہیں ،ہمیں ایک بنگلہ دے دیجئے،دوسرا سامان نہیں کیش دے دیجئے۔اگر ختم نہیں تو کم از کم محدود ضرور ہوجانا چاہیے ۔ایسے لوگ ایک بیٹی بہو نہیں بلکہ سودا کرنے آتے ہیں اس لئے انہیں اپنا بیٹا بڑا وراثت لگ رہاہوتا ہے یا جاگیر سمجھنے لگتے ہیں رشتہ کرکے ایسی بہو لائیں تو ہر چیز گھر میں آجائے گی لیکن کیا یہ انسانیت کی نشانی ہے ؟
تیسری قسم کے ایسے لوگ ملتے ہیں زبان سے جہاں بول دیا جاتا ہے ان کو کچھ نہیں چاہیے بلکہ اگر آپ دینا چاہیں تو یہ نہ دیں وہ دے دیں ۔
لیکن حقیقت میں ان کے دل کی بھی خواہش ہوتی ہے کہ دوسروں کی طرح ان کی بہو بھی جہیز میں سامان لادکر آئے ناکہ خالی ہاتھ آجائے۔
اور پھر ہوتا کیا ہے شادی کے چند دن بعد ہی جس جہیز کی ضرور ت پڑی،بہو کو مخاطب کرکے بولا جاتا ہے عائشہ تمہارے پاس یہ ہے ؟اگر تو وہ بولے ! ہے! تو بہت ہی خوش ہیں اگر اس کا جواب نامیں ہیں پھر ناراضگی والی شکل میں اچھا چلو کوئی بات نہیں ہے کیا یہ جوا ب ناراضگی والا سمجھ نہیں آرہا ہوتا۔

یہی وجہ ہوتی ہے کہ بیٹی بھی چاہتی ہے کہ اس کے پاس ہر چیز ہواور اس کے ماں باپ کی بھی یہی خواہش کہ بیٹی جہیز میں سب کچھ لے کر جائے ۔کہا جاتا ہے کہ زیادہ جہیز والی بہو کی سسرال میں زیادہ عزت ہوتی ہے بجائے اس کے کہ وہ کم جہیز لائے،اگر اوسطاً کی بات کریں تو ایسا ہی ہے زیادہ جہیز زیادہ عزت!اگر سسرال والوں کو ایک بیٹی کی قدر نہیں ہے تو کیا جہیز کی ہے ۔
ایک بہن جو بہنوں کی جان ہے کیا اس کی قدر صرف جہیز سے جانی جائے گی۔
ماں باپ اپنا کل سرمایہ لگا کر اپنی بیٹیوں کو جہیز کے ساتھ اس لئے رخصت کرتے ہیں کہ ان کی بیٹیاں ہمیشہ خوش رہیں کیا بیٹی کے مقدر کی خوشیاں جہیز سے جڑی ہوئی ہیں ۔جہیز کو کچھ نے تو لعنت قرار دیا ہے اور کچھ ناسور ،حقیقت میں تو یہ ان سے کم نہیں ہیں اس لعنت ،اس ناسور کو معاشرے سے ختم ہونا چاہیے ۔

اگر ختم نہیں تو کم از کم محدود ضرور ہو جاناچاہیے تاکہ بہت سے ایسے والدین جو صرف جہیز کی وجہ سے اپنی بیٹیوں کی شادی نہیں کر سکتے ۔ان کیلئے کچھ آسانی ہو جائے اور جومانگنے کے لئے منہ کھول کے بیٹھے ہیں ان کو بھی کچھ لحاظ کرنا چاہیے۔
جہیز مانگے والے اور لینے والے حق مہر بھی اس حساب سے اسی بیٹی کو دیا کریں جس سے اس قدر جہیز کی توقع کررہے ہوتے ہیں لیکن نہیں جہیز کے وقت دین یاد نہیں آتا ،لیکن حق مہر کے موقع پر ضرور دین یاد آجاتا ہے ۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*