جن ،بیوی اورمینجمنٹ

جن ،بےو ی اورمینجمنٹ
مہر اشتیاق احمد
ہمارے ارد گرد کچھ حالات و اقعات اےسے اےسے رونما ہوتے ہیں کہ آدمی دھنگ رہ جات اہے ۔ جن کو دےکھ کر سن کر دل باغ باغ ہو جات اہے ۔ ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہو جاتا ہے ۔ اےسے ہی کچھ واقعات پچھلے دلوں ہم کو سننے کو ملے ۔لاہور کی سر زمین پرکچھ لکھاری دوست اےک ساتھ بےٹھے اورگپ شپ شروع ہو گئی ۔ وےسے یہ سبھی لوگ ملک پاکستان کے مختلف اخبارات میں کرنٹ آفےئر کے موضوع پر اپنے اپنے آرٹےکل لکھتے ہیں جوکہ بہت سخت گےر ہوتے ہیں ۔ جوکہ ملک پاکستان کی سلامی پر حکومتی پالےسےوں پر، سےاسی شخصےات پر اورمختلف اداروں پر ہوتے ہیں لکھتے ہیں ۔جب یہ لوگ کبھی کبھار اےک ساتھ اکٹھے ہوتے ہیں تو اےسالگتا ہے کہ یہ لوگ بڑے فنی بھی ہیں ۔ انکی کچھ باتےں میں یہاں کوٹ کروں گا ۔
اےک صاحب کے حالات بہت خراب تھے کوئی بچت نہ تھی ۔ کافی مشکلات میں گزارہ ہو رہا تھا ۔ اےسے میں دما غ میں آےا کہ کےوں نہ کوئی جن قابو کےاجائے اور اسکو استعمال کر کے دولت کمائی جائے ۔ اےک بابا جی کا پتہ ملا جو عملےات کےلئے مدد گار ثابت ہو سکتے تھے ۔ انہوں نے چالےس دن کا مجرب عمل بتاےا ۔ عمل کےلئے رات کو اپنے گھر کے کمرے کا انتخاب کےا ۔تےن دن عمل چلتا رہا ۔ مجھے ڈراﺅنی شکلےں نظر آتی تھےں ۔چوتھی رات کا عمل جا ری تھا ۔ میں حصار میں تھا کہ اچانک اےک خوف ناک نسوانی آواز آئی ۔ ”مُنے کے ابا! مُنے کا فےڈر فرےج سے نکال لائےں “ میں چوکنا ہو گےا کہ کوئی ہوائی مخلوق مجھے تنگ کرنا اور مےرا عمل متاثر کرنا چاہتی ہے ۔ بابا جی نے تاکےد کی تھی کہ جےسے بھی حالات ہوں ۔ حصار نہیں توڑنا ۔ ورنہ جان کا خطرہ ہوسکتا ہے ۔ وہی آواز دوبارہ آئی۔ میں نے پھر سے نظر انداز کر دےا ۔ ٹھےک دس منٹ بعد میں کےا دےکھتا ہوں کہ اےک چڑےل مےری بےوی کی شکل دھار ے مےری طرف چلی آرہی ہے ۔ میں بِلا خوف و رد کرتا رہا ۔کےوں کہ میں حصار میں محفوظ تھا۔ وہ چڑےل بالکل مےرے پاس آپہنچی ۔ میں نے ورد اور تےز کر دےا ۔ میں نے دےکھا اس کے ہاتھ میں بےلنہ تھا ۔ میں پوری ہمت سے بولو ”جابھاگ جا چڑےل کہیں کی “ تو م ےراکچھ نہیں بگاڑ سکتی ۔ “ بس اتنا کہنا تھا کہ وہ حصار کے اندر تک گھس آئی اور ….دھپا دپ ،دھنا دھن ….بےلنے سے مجھے پےٹنے لگی ۔ میں اُسے جنات کی چال سمجھتا رہا کہ وہ مجھے آزما رہے ہیں۔ جب میں چڑےل سے مارکھا رہا تھا تو میں نے دےکھا کہ حصار کے سارے جنات پےٹ پکڑے زور زور سے ہنس رہے تھے ۔ جب چڑےل مجھے مار مار کر تھک گئی اور مجھے گھسےٹ کر حصار سے باہر لے آئی تو اےک بد تمےزجن مےرے کان میںآکر کہنے لگا ۔ سرکار پہلے اپنی بےگم نوں ، تاں قابو کر و ۔ فےر ساڈا کسی زمانے میں اےک بادشاہ تھا ۔ جس نے دس جنگلی کتے پالے ہوئے تھے ۔اسکے وزےروں میں جب بھی کوئی وزےر غلطی کرتا بادشاہ اُسے ان کتوں کے آگے پھےنکوا دےتا ۔ کتے اُسکی بوٹےاں نوچ نوچ کر مار دےتے ۔ اےک بار بادشاہ کے اےک خاص وزےر نے بادشاہ کے اےک خاص وزےر نے بادشا ہ کو غلط مشورہ دے دےا ۔ جو بادشا ہ کو پسند نہ آےا ۔ اُس نے فےصلہ سناےا کہ وزےر نے بادشا ہ کو غلط مشورہ دے دےا ۔ جو بادشاہ سے التجا کی کہ حضور میں نے دس سال آپکی خدمت کی ہے اور آپ اےک غلطی پرمجھے اتنی بڑی سنا دے رہے ہیں ۔ آپ کا حکم سر آنکھوں پر لےکن مےری بے لوث خدمت کے عوض مجھے آپ صرف دس دن کی مہلت دےں ۔ پھر بلا شبہ آپ مجھے کتوں میں پھنکوا دےں ۔ بادشاہ یہ سن کر دس دن کی مہلت دےنے پر راضی ہو گےا۔ وزےر وہاں سے سدا رکھوالے کے پاس گےا جو اُن کتوں کی حفاظت پر مامور تھا اور جاکر کہامجھے دن دن ان کتوں کے ساتھ گزارنے ہیں اور انکی مکمل رکھوالی میں کروں گا ۔ رکھوالا وزےر کے اس فےصلے کو سن کر چونکا لےکن پھر اجازت دے دی ۔ ان دس دنوں میں وزےر نے کتوں کے کھانے پےنے اوڑھنے ، بچھونے ،نہلا نے تک کے ساتھ کام اپنے ذمہ لےکر نہاےت ہی خوش اصلوبی کے ساتھ سر ا نجام دئےے ۔دس دن مکمل ہوئے ۔ بادشاہ نے اپنے پےاروں سے وزےر کو کتوں کے آگے پھنکوا ےا ۔ لےکن وہاں کھڑا ہر شخص اس منظر کو دےکھ کر حےران ہو ا کہ آج تک نجانے کتنے ہی وزےر ان کتوں کے نوچنے سے اپنی جان گنوا بےٹھے ۔ آج یہی کتے اس وزےر کے پےروں کو چاٹ رہے ہیں۔ بادشاہ یہ سب دےکھ کر حےران ہوا اور پوچھا کہ کےاہوا آج ان کتوں کو ؟وزےر نے جواب دےا ۔بادشاہ سلامت میں آپ کو یہی دےکھانا چاہتا تھا کہ میں نے صرف دس دن ان کتوں کی خدمت کی اور یہ مےرے ان دس دنوں میں کئے گئے احسانات بھول نہیں پا رہے اور یہاں اپنی زندگی کے دس سال آپ کی خدمت کرنے میں دن رات اےک کردئےے ۔ لےکن آپنے مےری اےک غلطی پر مےری ساری زندگی کی خدمت گزاری کو پسِ پشت ڈال دےا۔
بادشا ہ کو شدت سے اپنی غلطی کا احساس ہوا ۔ اُس نے وزےر کو اُٹھوا کر مگر مچھوں کے تالاب میں پھنکوا دےا ۔ اس سے یہ بات ثابت ہو تی ہے کہ جب مینجمنٹ اےک بار فےصلہ کرلے کہ آپ کو رگڑا دےنا ہے توپھر آپ رگڑا لگے گا۔ چاہے آپ جو مرضی کر لےں ۔ مینجمنٹ گھرکی ہو ےا ملک کی جس کو چاہے رگڑا دے سکتی ہے ۔