بنیادی صفحہ -> پاکستان کی خبریں -> کے پی کے بجٹ کی تفصیلات منظرعام پر آ گئیں‌
خیبرپختونخوا

کے پی کے بجٹ کی تفصیلات منظرعام پر آ گئیں‌

کے پی کے بجٹ کی تفصیلات منظرعام پر آ گئیں‌
ابتدائی خاکے کے مطابق خیبر پختونخوا کے صوبائی بجٹ کا مجموعی تخمینہ 606 ارب روپے تجویز کیا گیا ہے جس کا 83 فیصد حصہ یعنی 500 ارب روپے صوبہ کو مرکز کی جانب سے منتقل ہوں گے، آئندہ مالی سال کے لیے سالانہ ترقیاتی پروگرام کا تخمینہ 119 ارب روپے تجویز کیا گیا ہے جس میں صوبائی حکومت اپنی جانب سے 41 ارب روپے صوبائی پروگرام اور 18 ارب اضلاع کے ترقیاتی پروگرام کے لیے فراہم کرے گی جبکہ 60 ارب روپے غیر ملکی وسائل سے ملنے کی توقع ہے، آئندہ مالی سال کے لیے تیار کردہ بجٹ تخمینہ جات کے مقابلے میں جاری مالی سال کے بجٹ کا تخمینہ 648 ارب روپے ہے جن میں 180 ارب روپے سالانہ ترقیاتی پروگرام کے لیے مختص کیے گئے ہیں جبکہ گزشتہ مالی سال 18-2018 کے سالانہ ترقیاتی پروگرام کا حجم 208 ارب تھا۔
.
.
.
.
.
.
.
.
.
یہ خبر بھی پڑھیئے
.
.
نوازشریف کو معافی دے کر جیل سے نہیں نکال سکتے، ہمایوں اختر
میثاق جمہوریت میں مزید توسیع ہونی چاہیے، مسلم لیگ (ن) کے رہنماپرویزرشیدکی نجی ٹی وی سے گفتگو

تحریک انصاف کے رہنما ہمایوں اخترنے کہا ہے کہ نوازشریف کی جیل سے رہائی سے متعلق عدالتیں جو بھی فیصلے کریں گی وہ قبول کریں گے، ہم خود اس کے لیے کوئی قانونی راستہ نہیں نکال سکتے ہیں۔ پیر کو نجی ٹی وی سے گفتگوکرتے ہوئے تحریک انصاف کے رہنما ہمایوں اخترکا کہنا ہے نوازشریف سے متعلق عدالتیں جو بھی فیصلے کریں گے اسے قبول کریں گے لیکن ہم قانونی راستہ نہیں نکال سکتے۔انہوں نے کہا یہ ہمارے ہاتھ میں ہے کہ نوازشریف کو پاکستان میں بہترین علاج فراہم کریں اور ایسا کرنے کو ہروقت تیارہیں، انہیں معاف کرکے جیل سے نکالنا ہمارے بس کا کام نہیں۔ہمایوں اخترنے کہا کہ جن لوگوں نے قانون توڑا ان کے خلاف کارروائی کریں گے لیکن جن لوگوں نے کوئی غیرقانونی کام نہیں کیا، انہیں معاشرے کا حصہ بنانا ہے، ملک کے لیے یہ بہت بڑی جنگ ہے اس کے لیے سب کو ساتھ چلنے کی ضرورت ہے۔ان کا کہنا تھا کہ کالعدم تنظیموں کے خلاف اگر ساری سیاسی جماعتیں ساتھ نہیں ہوں گی تو یہ کام نہیں ہوسکتا۔ ماضی کی حکومتوں کو موقع ملا مگر انہوں نے ان تنظیموں کے خلاف کارروائی نہیں کی، یہ آپس میں ہی محاذ آرائی کرتے رہے۔رہنما تحریک انصاف نے کہا کہ احتساب، معیشت سمیت ہرمعاملے پراپوزیشن کے ساتھ بات کرنے کو تیار ہیں۔ ملک میں احتساب کے لیے اگلا قدم کونسا ہوگا اس سے ہماری حکومت نہ آگاہ ہے اور نہ ہی ہمارا تعلق ہے۔ہمایوں اخترکا کہنا تھا کہ منی لانڈرنگ کے راستے پوری دنیا بند کررہی ہے، ہمیں یہ ایف اے ٹی ایف کے لیے نہیں بلکہ اپنی ترقی کے لیے کرنا ہوگا۔مسلم لیگ ن کے رہنما پرویزرشید کا کہنا ہے کہ نوازشریف سے متعلق جو معلومات ملی ہیں وہ میڈیا سے پتہ چلیں، بلاول نے کہا نوازشریف بیمارہیں اور وہ ڈیل نہیں کرنا چاہتے اور میثاق جمہوریت میں مزید باتوں کا اضافہ ہونا چاہیے، یہ تینوں باتوں پر یقینی گفتگو ہوئی ہوگی۔ان کا کہنا تھا کہ سیاست ارتقائی عمل کا نام ہے، ایک وقت میں ہم سیاسی مخالفین سے بات چیت نہیں کرتے تھے لیکن پھر ان کے ساتھ معاہدہ کیا، سیاسی جماعتیں صورتحال کو دیکھ کراپنے آپ کو درست کرتی ہیں۔مسلم لیگ ن کے رہنما نے کہا کہ بحران میں ملکی مفاد کے پیش نظر ہم نے تحریک انصاف والا رویہ نہیں اپنایا، ہم نے حکومت کا ساتھ دیا، آئندہ بھی ایسی صورتحال میں حکومت کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔پرویزرشید کا کہنا تھا کہ پاکستان ان تنظیموں کی وجہ سے عالمی سطح پرتنہا ہوا، پابندی لگیں، باربار ان کی وجہ سے ہم جنگ کی صورتحال پرکیوں چلے جاتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ مرکزی سیاسی جماعتیں صرف صوبوں تک سکڑ گئی ہیں، ان کا مرکزی دھارے میں آنے سے روکا گیا۔ ملک کی جو صورتحال ہے اس پر گفتگو ہونی چاہیے تاکہ ہم آئندہ ایسے بحرانوں سے آسانی سے نکل سکیں۔پیپلزپارٹی کی رہنما شازیہ مری نے کہا کہ بلاول بھٹو نے ملاقات نوازشریف کی تیمارداری کے لیے کی، اپوزیشن کی جماعتیں ملکی حالات کے تحت کوئی لائحہ عمل تیارکرسکتی ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ سیاسی کارکنان، لیڈروں کے خلاف کارروائی ہوئی لیکن ایسا لوگوں کے خلاف کیوں نہیں جو ملک کو دنیا بھر میں بدنام کراتے ہیں، یہ ہماری بقا کے لیے ضروری ہے۔شازیہ مری نے کہا کہ حکومت کا رویہ غیرذمہ دارانہ ہے جس سے متحد ہونے کے عمل کو نقصان پہنچتا ہے۔ حکومت ذمہ داری سے کام کرے پیپلزپارٹی ہمیشہ ہی انتہا پسندی کے خلاف کھڑی ہوئی۔ان کا کہنا تھا کہ ملک میں استحکام ، آگے لے جانے کے لیے اختلافات سے بالاترہوکر کام کرنا پڑے گا، اگر ملک کی سیکیورٹی کے لیے اکٹھے ہوسکتے ہیں تو ترقی کے لیے بھی ہوسکتے ہیں۔ حکومت کی خوش قسمتی ہے کہ اسے ذمہ دار اپوزیشن ملی ہے جس سے اسمبلی میں فائدہ اٹھانا چاہیے۔رہنما پیپلزپارٹی نے کہا کہ یہ پاکستان کی سیکیورٹی اور آنے والی نسلوں کے تحفظ کا معاملہ ہے، حکومت کو اس معاملے میں ایمانداری سے قیادت کرنی چاہیے۔شازیہ مری کا کہنا تھا کہ ملک میں احتساب کے نظام پرتشویش ہے کہ اپوزیشن اور حکومت کے ساتھ الگ الگ رویہ رکھا گیا ہے، یہ بلاتفریق ہونا چاہیے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*