بنیادی صفحہ -> Uncategorized -> رپورٹ -> لاہور پریس کلب کے زیراہتمام پروفیسر ڈاکٹر مغیث الدین شیخ کی کتاب

لاہور پریس کلب کے زیراہتمام پروفیسر ڈاکٹر مغیث الدین شیخ کی کتاب

©©” سسکتی مسکراتی زندگی“ کی تقریب رونمائی
ادب و صحافت کی نامورشخصیات اورطلبا و طالبات نے کثیر تعداد میں شرکت
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہما صدف، حسین پراچہ، نسیم قریشی، ندیم چوہدری، پروفیسر انجم ضیائ، رﺅف طاہر، عطاءالرحمن، اعظم چوہدری، عبدالمجید ساجد اور لیاقت بلوچ کا اظہار خیال،صاحب کتاب کی خدمات کو خراج تحسین

ڈاکٹر مغیث کی زندگی کے تلخ و شیریں لمحات و واقعات ،مقبول شخصیات سے ملاقاتوں کا احوال جس انداز میں©©” سسکتی مسکراتی زندگی“ میں بیان ہوئے ہیں یقینامشعل راہ ہیں

قلمی اور علمی خدمات کے اعتراف میں ڈاکٹر صاحب کو کئی اعزازات سے نوازا جا چکا ہے جس میں ”بیسٹ یونیورسٹی ٹیچر ایوارڈ“، صدارتی ایوارڈ”اغرازِ فضیلت“ اور ”شاہ فیصل ایوارڈ“ بھی شامل ہیں

©©” سسکتی مسکراتی زندگی“ میں ادب بھی ہے، فہم بھی ، طلبا و طالبات ،اس کو پوری توجہ کیساتھ پڑھیں: لیاقت بلوچ

ڈاکٹر صاحب نے اپنی سوانح حیات میں نہ صرف سچ بولا ہے بلکہ پورا سچ بولا ہے: مقررین
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رپورٹ: حسیب اعجازعاشر
آپ ہنسنا،مسکرانا، اپنی زندگی خوشگوار بنانا چاہتے ہیں تو”سسکتی مسکراتی زندگی “کا مطالعہ ضرور کیجئے ۔جی بالکل یہ کتاب سوانح حیات ہے پروفیسر ڈاکٹر مغیث الدین شیخ کی۔ ڈاکٹر مغیث کی زندگی کے تلخ و شیریں لمحات و واقعات ،مقبول شخصیات سے ملاقاتوں کا احوال جس انداز میں©©” سسکتی مسکراتی زندگی“ میں بیان ہوئے ہیں یقینامشعل راہ ہیں۔پروفیسر ڈاکٹر مغیث الدین شیخ تعارف محتاج نہیں ۔”رویے او رسوشل سائنسز“کے ڈین کے علاوہ پنجاب یونیورسٹی میں شعبہ ابلاغیات کے بانی ڈائریکٹر بھی رہ چکے ہیں ،ڈاکٹر صاحب، پی ٹی وی، وقت نیوز، دن نیوز، جیو تیز، سمائ، بزنس پلس، وائس آف امریکہ، وائس آف جرمنی، تہران ٹی و ی سمیت کئی قومی اور بین الاقوامی ٹی وی چینل کے کئی پروگرامز میں شریک ہوتے رہے ہیں۔ڈاکٹر مغیث الدین کی ملکی او رغیر ملکی تحقیقی مجلوں میں تین درجن سے زائد تحقیقی مضامین شائع ہوچکے ہیں۔قلمی و علمی خدمات کے اعتراف میںمختلف فورم پر ڈاکٹر صاحب کو کئی اعزازات سے نوازا جا چکا ہے جس میں ”بیسٹ یونیورسٹی ٹیچر ایوارڈ“، صدارتی ایوارڈ”اغرازِ فضیلت“ ،”شاہ فیصل ایوارڈ“ بھی شامل ہیں۔
پروفیسر ڈاکٹر مغیث الدین شیخ کی کتاب©©” سسکتی مسکراتی زندگی“ کی تقریب رونمائی کا لاہور پریس کلب کے نثار عثمانی آڈیٹوریم میں انعقادکیا گیا ، ادب و صحافت کی نامور ہستیاں اور، طلبا و طالبات نے کثیر تعداد میں شرکت نے محفل کی رونق کو دوبالا کر دیا ۔ نظامت کے فرائض سرانجام دیئے عبدالمجید ساجد نے ۔اور اظہار خیال کیلئے مقررین کی تکریم کا خوب خیال رکھا۔مقررین جن میں ہما صدف، حسین پراچہ، نسیم قریشی، ندیم چوہدری، پروفیسر انجم ضیائ، رﺅف طاہر، عطاءالرحمن اور اعظم چوہدری شامل تھے ، نے نامور سکالر اور ماہر تعلیم پروفیسر ڈاکٹر مغیث الدین شیخ کی علمی و قلمی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا،اُن کا کہنا تھا کہ کتاب کا اسلوب بہت دلچسپ ہے ایسا گماں ہونے لگتا ہے کہ ڈاکٹرصاحب زمانہ ساتھ لے کر چل رہے ہیں اور جوں جوں مطالعہ کرتے جائیں کتاب کا منفرد ٹائٹل کی معاونیت واضح ہوتی جاتی ہے۔جبکہ ڈاکٹر صاحب نے اپنی سوانح حیات میں نہ صرف سچ بولا ہے بلکہ پورا سچ بولا ہے ۔
اعظم چوہدری نے ڈاکٹر مغیث کی توجہ پاکستان میں صحافت کی تشویشناک صورتحال کی جانب مبذول کراتے ہوئے کہاآج صحافت کو کڑے وقت کا سامنا ہے،میڈیا ہاوسز بند ہو رہے ہیں صحافی بے روزگار ہو رہے ہیں جبکہ ایک اندازے کے مطابق صرف لاہور شہر سے ہر سال پانچ سے چھ ہزار طلبا و طالبات صحافت پڑھ کر میدان صحافت میں قدم رکھتے ہ یں انکا مستقبل کیا ہوگا؟ وقت کا تقاضا ہے کہ تمام پروفیسرز حضرات ، میڈیا ہاﺅسزکے مالکان اور سٹیک ہولڈرز مل بیٹھ کر اس مسئلے کا مستقل حل نکالیں۔
مہمان خصوصی لیاقت بلوچ نے پروفیسر ڈاکٹر مغیث سے اپنے دیرینہ تعلقات کے تذکرے سے گفتگو کا آغاز کیا اُنہوں نے مزید کہا کہ اس میں ادب بھی ہے، اس میں فہم بھی ہے اور زندگی کے تمام مدوجزاور دیگر پہلوﺅں پر بڑی کوش اسلوبی کیساتھ لکھا ہے ،اور یہاں پر موجود شرکاءخصوصاً طلبا و طالبات ،اس کو پوری توجہ کیساتھ پڑھیں۔
ڈاکٹر مغیث الدین شیخ نے اپنے اظہارخیال میں کہا کہ میں ممنون ہوں مقررین کا جو اُنہوں نے اپنے جذبات، اپنے افکار اور اپنے خیالات کا میرے اعزاز میں اظہار خیال کیا۔اُنہوں نے کہا کہ میں مٹی کا بنا ہوا انسان ہوں میرے اندر خامیا ںبھی ہیں، میں اس قابل نہیں جس حوالے سے لوگوں نے میرے بارے میں بات کی ہے،میں اللہ کا بھی شکر ادا کرتا ہوں اور انسانوں کا بھی شکر ادا کرتا ہوں۔صحافت کے معاشی قتل کے حوالے سے اُنہیں نے کہا ہر رات کے بعد دن ہوتا ہے مجھے قوی اُمید ہے کہ یہ وقت بھی سدا نہیں رہے گا ۔ راٹ ڈھل کر رہے گی ، بہار آ کر رہی گی۔نئی صبح کا نئا سورج طلوع ہونے کو ہے ۔
تقریب میں شرکا طلبا و طالبات نے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر مغیث جیسے شفیق استاد ڈھونڈے سے نہیں ملتے ، دوستانہ لب و لہجے میں سیکھانے کا ہنر انہیں کا ہی خاصہ ہے ۔جو مقام انہوں نے حاصل کیا وہ کسی استاد کا مقدر نہ بن سکا۔جبکہ انکی کتاب کے حوالے سے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ مذہب، سیاست، سماج،تہذیب ہر حوالے سے سیرحاصل موضوعات یہاں ملتے ہیں استاد سے والہانہ محبت و عقیدت کا یہ اچھا انداز تھا جو شرکاءکو خوب بھایا ۔ شرکاءکایہ بھی کہنا تھا کہ پروفیسر مغیث کی کتاب کتب بینی کا شوق رکھنے والوں کیلئے ایک نادر تحفہ ہے جبکہ سوشل میڈیا پروائرل ہونے والے©©” سسکتی مسکراتی زندگی“ سے اقتباسات بھی کتاب سے دوررہنے والوں کومطالعے کیلئے راغب کر رہے ہیں،جو ایک خوش آئند بات ہے ۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*