بنیادی صفحہ -> اداریہ،کالم -> دین بندگی رب کا نام

دین بندگی رب کا نام

دین بندگی رب کا نام
عبدالعزیز
علامہ حمید الدین فراہی اپنے ایک ’’رسالہ آخرت‘‘ میں فرماتے ہیں کہ
جس طرح آخرت پر ایمان خدائے واحد پر ایمان کا لازمی نتیجہ ہے اسی طرح انفاق مال لازمۂ نماز ہے۔ نماز اصل ہے اور انفاق اس کا لازمی تقاضا۔ اکثر اصل کا پتہ اس کے نتائج اور لوازم سے چلتا ہے۔ اس حقیقت کو سورہ ماعون کے آخر میں یوں بیان فرمایا:
’’تو برا ہو ان نمازیوں کا جو اپنی نماز سے بے خبر ہیں، جو ریا کاری کرتے ہیں اور ادنیٰ سی چیز نہیں دیتے‘‘۔ (7-4)
چنانچہ اگر اصل کا اعتبار کیا جائے تو دین نام ہے خدا کی بندگی اور اطاعت کا، اور نتیجہ کے لحاظ سے دیکھا جائے تو دین نام ہے غریبوں کے ساتھ ہمدردی اور حسن سلوک کا۔ یہ دونوں ایک ہی حقیقت کے دو پہلو یا ایک ہی سکہ کے دو رخ ہیں کیوں کہ جب دل سے مال کی محبت ختم نہیں ہوتی، جو زکوٰۃ کی اصل روح ہے، اس وقت تک خدا کی محبت دل میں داخل نہیں ہوتی جو کہ نماز کی حقیقت ہے۔ چنانچہ غریبوں پر مال خرچ کرنا خدا کی قربت کا ذریعہ اور آخرت کی کامیابی کی کلید ہے اور حب مال کا ہونا خدا سے دوری اور آخرت کے اجر سے محرومی ہے۔ چوں کہ حب مال حب دنیا کی علامت ہے جو محبت الٰہی اور خوف آخرت کی ضد ہے۔ اس لئے انفاق مال سے جی چرانا یا دکھا دے اور شہرت کیلئے مال خرچ کرنا اہل ایمان کا نہیں بلکہ کفار و مشرکین کا شیوہ ہے جیسا کہ فرمایا:
’’اور ان مشرکوں کیلئے تباہی ہے جو انفاق نہیں کرتے اور آخرت کے تو اصل منکر وہی ہیں۔ البتہ جو ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل بھی کئے (یعنی انفاق سے کام لیا) ان کیلئے دائمی صلہ ہے‘‘۔ (سورہ حم السجدہ 6-8)
’’جو اپنے مال لوگوں کے دکھانے کیلئے خرچ کرتے ہیں اور اللہ اور روز آخرت پر ایمان نہیں رکھتے‘‘۔ (سورہ نساء: 38)
’’اے ایمان والو! احسان جتا کر اور دل آزاری کرکے اپنی خیرات کو اکارت مت کرو اس شخص کی مانند جو اپنا مال دکھاوے کیلئے خرچ کرتا ہے اور اللہ اور روز آخرت پر ایمان نہیں رکھتا‘‘۔ (سورہ بقرہ: 264)
پس انفاق تمام اعمال صالحہ کی اصل ہے جس طرح نماز تمام عبادات کی جڑ ہے اور دونوں کا مدار عقیدہ توحید و آخرت پر ہے۔ جس طرح یہ دونوں ایک دوسرے پر مشتمل ہیں ویسے ہی وہ دونوں بھی ایک دوسرے پر مشتمل ہیں۔
بندگی رب کی حقیقت : ’’میں نے جن اور انسانوں کو اس کے سوا کسی کام کیلئے پیدا نہیں کیا ہے کہ وہ میری بندگی کریں میں ان سے کوئی رزق نہیں چاہتا اور نہ یہ چاہتا ہوں کہ مجھے کھلائیں۔ اللہ تو خود ہی رزاق ہے بڑی قوت والا اور زبردست‘‘۔ (سورہ الذٰریات:56-58)
مولانا سید الو الاعلیٰ مودودیؒ مذکورہ سورہ کی تین آیتوں کی تشریح و تفسیر کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
یعنی میں نے ان کو دوسروں کی بندگی کیلئے نہیں بلکہ اپنی بندگی کیلئے پیدا کیا ہے۔ میری بندگی تو ان کو اس لئے کرنی چاہئے کہ میں ان کا خالق ہوں۔ دوسرے کسی نے جب ان کو پیدا نہیں کیا ہے تو اس کو کیا حق پہنچتا ہے کہ یہ اس کی بندگی کریں، اور ان کیلئے یہ کیسے جائز ہوسکتا ہے کہ ان کا خالق تو ہوں میں اور یہ بندگی کرتے پھریں دوسروں کی۔
عبادت کا لفظ اس آیت میں محض نماز روزے اور اسی نوعیت کی دوسری عبادات کے معنی میں استعمال نہیں کیا گیا ہے کہ کوئی شخص اس کا مطلب یہ لے لے کہ جن اور انسان صرف نماز پڑھنے اور روزے رکھنے اور تسبیح و تہلیل کرنے کیلئے پیدا کئے گئے ہیں۔ یہ مفہوم بھی اگر چہ اس میں شامل ہے، مگر یہ اس کا پورا مفہوم نہیں ہے۔ اس کا پورا مفہوم یہ ہے کہ جن اور انسان اللہ کے سوا کسی اور کی پرستش، اطاعت، فرمانبرداری اور نیاز مندی کیلئے پیدا نہیں کئے گئے ہیں۔ ان کا کام کسی اور اس کے سامنے جھکنا، کسی اور کے احکام بجا لانا، کسی اور دوسری ہستی کے آگے دعا کے لئے ہاتھ پھیلانا نہیں ہے۔ (مزید تشریح کیلئے ملاحظہ ہو تفہیم القرآن، جلد چہارم، تفسیر سورۂ سبا، حاشیہ 63۔ الزمر، حاشیہ2 ۔ الجاثیہ، حاشیہ، 30)

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*