بنیادی صفحہ -> اداریہ،کالم -> محنت کش بچے۔۔۔ کیاقوم کا مستقبل نہیں؟

محنت کش بچے۔۔۔ کیاقوم کا مستقبل نہیں؟

محنت کش بچے۔۔۔ کیاقوم کا مستقبل نہیں؟
تحریر۔اختر سردار چودھری
پاکستان میں تقریباتین کروڑ بچے تعلیم سے دور ہیں۔جن میں سے بہت سے محنت مزدوری کر کے اپنا اپنے کنبے کا پیٹ پال رہے ہیں۔ ایسا کرنا ان کی مجبوری ہے۔ان کے پاس اس کے سوا کوئی راستہ نہیں ہے۔ یہ جبری مشقت نہیں کر رہے بلکہ یہ محنت کش بچے ہیں۔وسائل نہ ہونے کی وجہ سے،حکومتوں کی بے حسی کی وجہ سے،صاحب حیثیت افراد کی خود غرضی کی وجہ سے وہ معاشرے میں ”چھوٹے“ بن جاتے ہیں۔ان کا یا ان کے والدین کا جرم صرف ان کا غریب ہونا ہے۔کسی بھی والدین کو شوق نہیں ہوتا کہ وہ اپنے معصوم بچوں کو چھوٹی عمر میں تعلیم سے دور رکھ کر مشقت کی بھٹی میں ڈال دیں۔اصل ظلم یہ ہے کہ ان بچوں سے محنت مشقت بھی لی جاتی ہے لیکن انہیں معقول اجرت نہیں دی جاتی ان سے مالکان کا یا جن کے ہاں وہ ملازم ہوتے ہیں رویہ درست نہیں ہوتا،انہیں انسان نہیں سمجھا جاتا،ان کی معاشرے میں عزت نہیں کی جاتی۔گھریلو ملازمین کے حو الے سے ہمارے قانون میں کوئی حدود تک نہیں رکھی گئی ہیں کہ انہیں کتنی تنخواہ دی جائے گی۔
ہمارے ملک کا سب سے بڑا مسئلہ قوانین کا نہ ہونا اور جو قوانین ہیں ان پر عمل نہ ہونا ہے۔ملک کے اندر مہنگائی اور بے روزگاری کی وجہ سے بہت سے غریب خاندانوں کواپنے بچے محنت و مشقت پر لگانا ان کی مجبوری بن چکا ہوتا ہے۔ایسے بچوں کی حوصلہ افزائی کی جانی چاہیے انہیں شاباش دینی چاہیے۔ انہیں خراج عقیدت پیش کرنا چائیے۔یہاں معاشرے کا،حکومت کا فرض بنتا ہے کہ بچوں سے محنت و مشقت لینے کے بجائے ان کی تعلیم،صحت اور خوراک کیلئے ان کے والدین کی سپورٹ کی جائے،والدین کی سپورٹ کا مطلب ان کے لیے روزگار کا انتظام کرنا ہے جس سے وہ معقول آمدن کما کر اپنی اولاد کو تعلیم دلا سکیں۔ یہ کس قدر افسوس ناک مسئلہ ہے کہ ایک معصوم بچے کے کندھے پر اس عمر میں ہی گھر کی ذمہ داری آگئی ہے۔ ظاہر ہے اس کی وجہ غربت اور مفلسی کے علاوہ اور کیا ہوسکتی ہے؟بعض ایسے محروم القسمت بچے محنت مزدوری کرنے پر مجبور ہیں۔ جب کہ اسی طرح بعض انتہائی ضعیف خواتین و حضرات آرام کرنے کی عمر میں بھی محنت و مشقت کے ذریعہ اپنی زندگی گذار رہی ہیں۔کیا کریں وہ کچھ ان میں بھیک مانگنے لگتے ہیں۔اس پاپی پیٹ کی بھوک بہت ظالم ہوتی ہے۔
اقوامِ متحدہ کے ذیلی ادارے انٹر نیشنل لیبر آرگنائزیشن (آئی ایل او) کے زیر ِ انتظام ہر سال 12 جون کو بچوں سے جبری مشقت کے خلاف عالمی دن منایا جاتا ہے۔یہاں پر لفظ جبری مشقت اپنے اندر وسیع مفہوم رکھتا ہے۔حالانکہ ایسا حقیقت میں کم ہوتا ہے۔یہ بچے اپنا اور اپنے والدین کا پیٹ پالنے کے لیے محنت کرتے ہیں۔اس دن کو 2002 ء سے منانے کا آغاز ہوا۔اس دن پورے ملک میں مختلف این جی اوز،کالجز،سکولز،یونیورسٹیز،سول سوسائٹی و سماجی تنظیموں کی طرف سے مختلف تقریبات کااہتمام کیاجاتا ہے،سیمینار منعقد کیے جاتے ہیں۔،کالم و آرٹیکل لکھے جاتے ہیں،ٹی وی پر پروگرام کیے جاتے ہیں۔
ہمارے ہاں بچوں کے اس دن کو منانے کی تقاریب کو فیشن کے طور پر اپنایا جاتا ہے،نمائش کی جاتی ہے۔کچھ امرا ء کے ڈرامے ہوتے ہیں بلکہ زیادہ تر کے لیے کمائی کا ایک ذریعہ ہوتا ہے یہ۔بچوں کے حقوق کی باتیں کرنے والے یہ سب تقریبات فائیوسٹار جیسے بڑے ہوٹلز میں مناتے ہیں، ہم نے لفظ مناتے ہیں لکھا ہے۔وہاں لاکھوں کا کھانا کھایا جاتا ہے۔ جن سے ان کی ان بچوں سے ہمدردی کا اندازہ کیا جا سکتا ہے اس سے چائلڈ لیبر کے خاتمے کا مقصد کیسے پورا ہو سکتا ہے۔ان تقریبات کا احوال سچ جھوٹ لکھ کر درجنوں این جی اوز لاکھوں روپے بیرونی امدادکے ہڑپ کر جاتی ہیں۔اس منافقت پر ان افراد کو شرم بھی نہیں آتی۔جتنی رقم خرچ کر کے یہ تقریبات منائی جاتی ہیں ان سے اچھے خاصے بچوں کو مستقل روزگار فراہم کیا جا سکتا ہے۔مجھے ان سب سے یہ کہنا ہے کہ صرف ڈے منانے سے بچوں کے برے دن دور نہیں ہونگے۔اس کے لئے چائلڈ لیبر کا خاتمہ ضروری ہے۔ حکومت کوان محنت کش بچوں کے والدین کو روزگار مہیا کرنا بھی چائیے۔
ایک بین الاقوامی ادارے کی سروے رپورٹ کے مطابق پاکستان میں دو کروڑ 10لاکھ بچے مزدوری کرنے پر مجبور ہیں۔(علم نہیں یہ بین الاقوامی ادارے نے رپورٹ کیسے تیار کر لی جس ملک میں،کوئی واضح سروے نہ ہوا ہو،جہاں علم نہیں کتنے ہوٹل،اینٹوں کے بھٹے،ورکشاپس ہیں،وہاں مزدور بچوں کی درست تعداد کا کیسے اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔اس تعداد کو مد نظر رکھ کر میں نے تقریبا کا لفظ استعمال کیا ہے اور ایسے بچوں کی تعداد 3کروڑ لکھی،ممکن ہے یہ تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو،کم ہو نے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا)غریب خاندان اپنے پیٹ کی آگ بجھانے کے لیے اپنے معصوم بچوں سے بوٹ پالش کے کام سے لے کر ہوٹلوں،چائے خانوں، ورکشاپوں، مارکیٹوں،چھوٹی فیکٹریوں،گاڑیوں کی کنڈیکٹری،بھٹہ خانوں،سی این جی اور پٹرول پمپوں پر گاڑیوں کے شیشے صاف کروانے سمیت دیگر بہت سے ایسے کام 50یا 100روپے کی دیہاڑی میں کروانے پر مجبور ہیں۔ مہنگائی اور بے روزگاری کیوجہ سے بہت سے غریب خاندانوں کواپنے بچے محنت و مشقت پر لگانا ان کی مجبوری بن چکا ہوتا ہے۔
دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی چائلڈ لیبر کے قانون بنے ہوئے ہیں،ایک تو ان پر عمل نہیں ہے دوم یہ کہ ان قوانین کی خلاف ورزی کرنے پر اب تک کسی کو سزا نہیں سنائی گئی اور سب سے اہم بات ان وجوہات کا خاتمہ نہیں ہو رہا،جس کی وجہ سے معصوم بچے مزدوری کرنے پر مجبور ہیں،ان وجوہات کا خاتمہ کرنا کس کی ذمہ داری ہے؟ صاف بات ہے کہ اس کی ذمہ دار حکومت پر ہے(لفظ حکومت سے مراد گزشتہ اور موجودہ حکومت لیا جائے)،اب حکومت اگر اپنی ذمہ داری پوری نہیں کر رہی تو اس کی سزا کیا ہے،سزا دینا کس کے اختیار میں ہے۔یہاں یہ سوال ا ٹھتا ہے کہ کیا ایسے قانون کو آئین سے ختم ہی نہیں ہو جانا چاہیے جس پر کبھی عمل ہوا بھی نہیں اور نہ ہی عمل ہونے کی کوئی امید ہو۔
ہمارے بعض حکومتی ادارے ہر اس کام میں ٹانگ اڑانا اپنا فرض سمجھتے ہیں جو ان کا فرض نہیں ہوتا ہے۔لیکن مجال ہے جو کبھی اپنا کام کریں۔انہیں چاہیے ایسے تمام قوانین کا جائزہ لیں جن پر عمل نہیں ہو رہا اور متعلقہ اداروں کو تنبیہ کریں کہ ان پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے۔یہ بچے مزدور بچے،مجبور بچے ان معصوم بچوں کو سکول جانے کی بجائے محنت مزدوری کرنا پڑتی ہے وہ بھی۔وہ بھی انتہائی کم اجرت پر،سارادن عزت نفس گنوا کر کام کرتے ہیں،اگر کو ئی صاحب دل ان کوسارادن کام کرتے دیکھے،ان کی مجبوریاں سمجھیں،احساس کریں تو دل بھر آتا ہے۔کس طرح ان کی تذلیل کی جاتی ہے،صرف ان کے غربت کے سبب۔
اشکوں سے تر ہے ہر اک پھول کی پنکھڑی
رویا ہے کون تھام کے دامن بہار کا
آپ کسی بھی محنت کش، مزدور بچوں کو ملیں ان میں ایک چیز مشترک ہوتی ہے۔وہ ہے غربت اور جہاں غربت ہو وہاں بیماری بھی ہوتی ہے۔چائلڈ لیبر پر بڑی بڑی باتوں کرنے والوں کو نہ ہی کل یہ وجوہات نظر آتی تھیں نہ آج آتی ہیں ہاں یہ بچوں کے عالمی دن منا سکتے ہیں اس پر بڑی بڑی تقاریر کر سکتے ہیں۔اس پر پروگرام کر سکتے ہیں۔اور۔۔اور امداد ی رقم کو ہڑپ کر سکتے ہیں۔اور دوسری طرف جن کے نام سے یہ این جی اوز لاکھوں روپے وصولیتی ہیں بھوک مٹانے کے لیے محنت کرنا ان کا مقدر ہے۔اس دھرتی کے یہ معصوم پھول زمانے سے سہولتیں نہیں مانگتے صرف جینے کا حق مانگتے ہیں۔ کیا یہ بچے ہمارا آنے والا کل نہیں؟ہمارا مستقبل نہیں؟
ایسا ہی ہوتا رہا ہے۔ایسا ہی ہوتا رہے گا کہ چائلڈ لیبر ڈے کے موقع پر ہمارے ملک کے صدر اور وزیر اعظم اور دیگر بہت سے وزرا کی جانب سے ایک بیان آ جاتا ہے کہ ہم چائلڈ لیبر کا خاتمہ کر دیں گے۔ ہمارے حکمرانوں (صاحب اختیار)کو تصویر کا دوسرا رخ بھی ذہن میں رکھنا چاہئے کہ اس ملک کے اندر لاکھوں چھیدے، بالے، چھوٹے اور کاکے کی تقدیر کا قلم ان ہی کے ہاتھ میں ہے اور بچوں کے لئے چائلڈ لیبر کے عالمی دن کے موقع پر ان کے حقوق کے لئے چائلڈ لیبر پالیسیاں بنا دینا یامحض دکھاوے کے لئے تقریبات منعقد کر کے فارمیلٹی پوری کر دینا اور کہہ دینا کہ غربت کے خاتمے کے لیے اقدامات کر رہے ہیں وغیرہ ان کو یاد رکھنا چاہیے کہ ایک دن ان سے اس کا حساب لیا جائے گا۔
چائلڈ لیبر، بھارت سرفہرست، بنگلہ دیش دوسرے اور پاکستان 9 ویں نمبر پربھارت چائلڈ لیبر رکھنے والا دنیا کا سب سے بڑا ملک ہے۔چائلڈ لیبر انڈیکس 2011ء میں بھارت کے علاوہ دیگر پہلے پانچ ممالک میں بنگلہ دیش، چاڈ، جمہوریہ کونگو اور ایتھوپیا شامل ہیں جبکہ لائبیریا چھٹے، میانمار ساتویں، نائیجیریا آٹھویں، پاکستان نویں اور صومالیہ دسویں نمبر پر ہے۔
سب سے بڑھ کر اگر کوئی کمی ہے تو دلوں میں اسلام و مسلمانیت کے درس کی کمی ہے،ذہن محدود کر دیئے گئے ہیں۔ ان معصوم بچوں کا کیا قصور ہے کہ پورا معاشرہ انہیں ”چھوٹا” کہہ کر پکارتا ہے،ان معصوموں جو بعد میں مجبوریوں و حالات کی مار کی وجہ سے معاشرے پر الگ الگ انداز سے اثر انداز ہوتے ہیں،ان میں سے اکثریت معاشرے پر اچھا اثر نہیں چھوڑ پاتے جبکہ کہیں شاذ ہی کوئی مثبت اثر چھوڑتا ہے۔ہم سمجھتے ہیں ہمارے ملک میں چائلڈ لیبر کا خاتمہ اسلامی نظام کے رائج ہونے سے ممکن ہے۔دین اسلام کے فہم سے ممکن ہے۔ہرشہری کو اگر اپنی ذمہ داری کا احساس ہو جائے اور خوف خدا اس کے دل میں بس جائے تو کیسے ممکن ہے کہ کسی کا بچہ بھوک سے مجبور ہو کر سکول جانے کی بجائے گندگی کے ڈھیر سے اپنا رزق تلاش کرتا نظر آئے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*