بنیادی صفحہ -> اداریہ،کالم -> اللہ کے کنبے کے ساتھ عید منائیے!

اللہ کے کنبے کے ساتھ عید منائیے!

اللہ کے کنبے کے ساتھ عید منائیے!
اختر سردار چودھری
خوشیاں منانے کا سب کا اپنا اپنا طریقہ کار ہوتا ہے۔ہم دیکھتے ہیں پوری دنیا میں ہر دین و مذہب کا کوئی نا کوئی مذہبی تہوار ہوتا ہے۔ مثلاََ عیسائی کرسمس ڈے،ہندو ہولی اور دیوالی،پارسی نوروز وغیرہ تقریباََ سبھی یہ تہورا خوشی کے لیے مناتے ہیں۔مسلمانوں کی عید دیگر مذاہب و اقوام کے تہواروں سے بالکل مختلف حیثیت رکھتی ہے۔جیسا کہ بڑی عید، بکرا عید، عید قربان اور عید الاضحیٰ، یہ سبھی نام اس بابرکت اور عظیم عمل سے وابستہ ہیں جو حضرت ابراہیم ؑ سے منسوب ہے۔
عیدین کے ان ایام کیلئے کچھ مخصوص عبادات ہیں،کچھ آداب اور عادات بھی مختص بھی ہیں، جن میں سے کچھ یہ ہیں سب سے پہلے تو اس دن صبح جلدی بیدار ہونا چاہیے اور سب سے پہلے غسل کر کے نئے کپڑے پہننا چاہیے۔یاد رکھیں عید ہرگز لباس جدید کا نام نہیں، عید تو عمل مزید کا نام ہے،اللہ کی شکر گزاری کا نام ہے۔دوسروں کو اپنی خوشی میں شامل کرنے کا نام ہے۔اس دن خوشبو لگانی چاہیے۔اس کے بعد مسجد کی طرف تکبیرات(اَللہ اَکبَر، اَللہ اَکبَر، لَااِلٰہَ اِلَّا اللہْ وَاللہْ اَکبَر، اَللہْ اَکبَر، ولِلّٰہِ الحَمدْترجمہ: اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، اوراللہ سب سے بڑا ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، اور تمام تعریفیں اللہ ہی کیلئے ہیں۔) پڑھتے ہوئے ایک راستے سے جانا چاہیے اور دوسرے سے آنا چاہیے۔واپس آ کر زیادہ وقت فیملی کو دیں۔ایام عید میں عزیز و اقارب اور قریبی رشتہ داروں سے ملاقاتیں کریں۔ایک دوسرے کو تحائف دیں۔ کھانے پینے کا خصوصی اہتمام کرنے میں بھی کوئی حرج نہیں ہے۔کھانا کھانے سے یاد آیا۔خاتون خانہ کو بھی عید منانے کا حق ہے۔کھانا پکانے میں ان کی مدد کریں۔اس سے باہمی محبت والفت پیدا ہوتی ہے جو پائیدارتعلقات کو جنم دیتی ہے۔
ہر سال یہ شکایت ان کی جانب سے کی جاتی ہے اور مناسب ہی کی جاتی ہے کہ عید ان کے لیے ڈبل ڈیوٹی لے کر آتی ہے۔ان کا کام بڑھ جاتا ہے۔شادی شدہ خواتین کا کہنا ہے کہ ”ہماری کاہے کی عید ہوتی ہے۔عید تو مردوں اور بچوں کی ہوتی ہے۔ہم تو سارا دن باورچی خانے میں گزار دیتے ہیں“دوسری طرف مردوں کا کہنا ہے کہ ”اصل عید تو خواتین کی ہوتی ہے،ساری کمائی شاپنگ پر لگ جاتی ہے۔ان کو ہی میک اپ اور دیگر بننے سنوارنے کا سامان خرید کر دیا جاتا ہے ہم تو ایک لباس میں سارا دن گزار دیتے ہیں۔“وغیرہ لیکن حقیقت یہ ہے کہ بڑی عید کے موقع پرخواتین کی عید تو نہ ہونے کے برابر ہوتی ہے،کیونکہ ان کا سارا سارا دن عید کے حوالے سے مزے مزے کے کھانے بنانے میں ہی گزر جاتا ہے۔
یہ سچ ہے کہ عید تو بچوں کی ہوتی ہے۔ نئے کپڑے،نئے جوتے،عیدی،اور ان سب سے بڑھ کر سارا دن کھیلنے کی آزادی۔اکثر بچوں کی عید ایسے ہی ہوتی ہے۔بچپن گزر جائے تو عید کی خوشیاں بھی کم ہو جاتیں ہیں۔لیکن کیا یہ سچ ہے کہ سب بچوں کی عید ایسی ہوتی ہے۔ایک طرف خوشیاں ہوں تو دوسری سمت ماتم بھی ہوتا ہے۔بہت سے بچے یتیم ہوتے ہیں۔ان میں سے ایک کثیر تعداد یتیم خانوں میں پرورش پاتی ہے۔جن کو عید پر بھی اپنے ماں باپ کا قرب نصیب نہیں ہو سکتا یہ کرب وہی جان سکتا ہے جس پر یہ حالات بیتے ہوں۔تبھی تو آقا صلی اللہ علیہ وسلم عید پر ایک یتیم بچے کو اپنے گھر لے آتے ہیں اسے اپنی خوشیوں میں شامل کرتے ہیں۔ہمیں اس سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو پورا کرنا چاہیے۔بہت سے بچے ایسے ہوتے ہیں جن کو حادثات ماں یا باپ سے دور کرتے ہیں ان میں خاص کر وہ بچے جن کے کیس گارڈین عدالت میں لگے ہوتے ہیں۔
یہ گارڈین ایکٹ ایک ظالمانہ قانون ہے جس کے تحت والد کو اپنی اولاد سے گھر میں ملنے سے روک دیا جاتا ہے۔ایسے بے شمار والد اس دن اپنے بچوں کی یاد میں غم ناک عید مناتے ہیں اور بچے مجبور ہوتے ہیں اپنی ماں یا باپ میں سے کسی ایک سے مل نہیں پاتے۔ایسے ہی کچھ جیل میں ہوتے ہیں، بچوں کے علاوہ جن کو ماں باپ کا سایہ نصیب ہوتا ہے۔سر پر کوئی بوجھ نہیں ہوتا ہم کہہ سکتے ہیں ان کی عید ہوتی ہے۔دوسرا طبقہ جو سب سے زیادہ عید کی خوشیوں کو انجوائے کرتا ہے وہ طالب علم ہیں۔طالب علم اپنے اپنے دوستوں سے ملتے ہیں۔سیر سپاٹے،گپ شپ،ہلا گلہ، موج مستی،ایک دوسرے کے گھرجانا اور ہر گھر میں انہیں خوشیاں منانے کی آزادی۔عید کے یہ ہی چند دن ہوتے ہیں جب تمام غرباََبھی پیٹ بھر کر کھانا کھاتے ہیں وہ گوشت سے ورنہ ملک عزیز میں ایسے گھروں کی اکثریت ہے جہاں پورا پورا سال گوشت نہیں پکتا۔ ان چند دنوں میں وہ تھوڑی اچھی حالت کے کپڑے پہن لیتے ہیں،اور انہیں احساس ہوتا ہے کہ ہم بھی اللہ کا کنبہ ہیں۔
دوسرے انسان اصل میں اللہ کا کنبہ ہیں۔نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ”مخلوق اللہ کی عیال ہے اور اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ محبوب ہے جو اس کی عیال سے محبت کرے۔“ اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ”خدا کی قسم وہ مومن نہیں، جو خود پیٹ بھر کر کھانا کھائے اور اس کا پڑوسی اس کے پہلو میں بھوک سے کروٹیں بدلتا رہے۔“ عید کے موقع پر حقیقی خوشی ایک دوسرے سے مل کر ہی حاصل ہوتی ہے۔یہ دوسرے کوئی اور نہیں ہیں۔ہمیں نہ صرف اپنی خوشیوں میں دوسروں کو شریک کرنا چاہئے بلکہ عید کی خوشیوں کو دوبالا کرنے کے لیے عید کے یہ پرمسرت لمحات یتیم خانوں میں پرورش پاتے بچوں، ہسپتالوں میں زیر علاج مریضوں، اولڈ ہاوس میں مقیم بزرگوں،وغیرہ کے ساتھ یہ دن گزارنا چاہیے۔اگر ان جگہوں تک جانا ممکن نہ ہو تو ہمیں اپنے آس پاس دیکھنا چاہیے۔ہمارے آس پاس آج بھی ایسے سینکڑوں اور ہزاروں یتیم بچے موجود ہیں۔ایسے بوڑھے ہمارے خاندان میں موجود ہو سکتے ہیں جن کا پرسان حال کوئی نہ ہو۔ ہمیں ان کا سہارا بننے کی ضرورت ہے۔
ہمارے پڑوس میں محلے میں کچھ غریب گھر ہو سکتے ہیں ہمیں انہیں بھی اپنی عید کی خوشیوں میں شامل کرنے کی ضرورت ہے۔اسلام کے احکام ہونے کے باوجود،ان سب باتوں کو جاننے کے باوجود ہم میں سے اکثریت ان پر عمل نہیں کرتے۔یہ کوئی معمولی بات نہیں ہے۔ اصل میں اس کی ہماری تربیت نہیں کی گئی،ایسا ماحول تشکیل نہیں دیا گیا۔یہ ماحول ہم نے ہی تشکیل دینا ہے۔اب ہم نے عید کوگزارنے کا طریقہ کار اپنی خواہشات کو مد نظر رکھ کر طے کرنا شروع کر دیا ہے۔بلکہ اپنی ضروریات کے مظابق ڈھال لیا ہے۔ان تہواروں کا مقصد و مطلب ہمیں اللہ کے حقوق کے ساتھ ساتھ حقوق العباد کی طرف راغب کرنا ہے۔لیکن ہم نے حقوق العباد کو ایک رسم سمجھ لیا ہے۔آج کل ٹیکسٹ میسج کا رواج چل نکلا ہے۔اب ہم اپنے پیاروں کو میسج کر دیتے ہیں،مبارک باد دے دیتے ہیں۔اسی طرح ہمیں ان مسرت کے لمحات میں اللہ کے کنبے کو شامل کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
ہم ان دنوں کو چھٹیاں سمجھ کر انجوائے کرتے ہیں۔ہم ان ایام کے شرعی مقاصد کو بھولتے جا رہے ہیں یہ ہی وجہ ہے کہ معاشرے میں بہتری نہیں آ رہی۔پورے معاشرہ عدم تحفظ اور تنہائی کا شکار ہو چکا ہے۔ہمارے دل پتھر ہوتے جا رہے ہیں،ہم بے حس ہوتے جا رہے ہیں۔ہم نہ صرف شرعی احکامات کو بھولتے جا رہے ہیں بلکہ غرباََ و مساکین کا ہماری ذات پہ جو حق ہے اسے بھی فراموش کر چکے ہیں۔ہمیں ان ایام کے منانے کے لیے ان کی روح کو سمجھنا ہو گا۔اس کی روح یہ ہے کہ ہمیں یہ دیکھنا چاہئے کہ کسی غریب کا گھر عید کی خوشیوں سے محروم نہ رہنے پائے۔ اسی سوچ کے ساتھ ہم قربانی کی سنت ابراہیمی ادا کریں تو ہی ہم ایسی قربانی کر سکتے ہیں جو حقیقتاً قربانی ہوگی۔
حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رحمتہ اللہ فرماتے ہیں۔ ”عید اُن کی نہیں جنہوں نے عمدہ لباس سے اپنے آپ کو زیب تن کیا، بلکہ حقیقتاً عید تو ان کی ہے جو خدا کی وعید اور پکڑ سے ڈر گئے۔ عید اُن کی نہیں جنہوں نے بہت سی خوشبوؤں کا استعمال کیا عید تو اُن کی ہے جنہوں نے اپنے گناہوں سے توبہ کی اور اس پر قائم رہے۔“

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*