بنیادی صفحہ -> اداریہ،کالم -> اسلامی کا آخری اورپہلامہینہ قربانی

اسلامی کا آخری اورپہلامہینہ قربانی

اسلامی کا آخری اورپہلامہینہ قربانی
علی جان
جمعہ کے خطبہ میں مولوی صاحب بتارہے تھے کہ اسلام کا آخری مہینہ اورپہلا مہینہ دونوں لازوال قربانی کی یاددلاتا ہے مولاناصاحب نے کہا ہماے معاشرے میں ایسے بھی لوگ رہتے ہیں جنہیں اسلامی مہینوں کے نام تک نہیں آتے توانہیں پہلا اورآخری مہینہ کہاں یادرہتا ہے اسی لییمیرافرض ہے کہ میں اپنافرض سمجھتے ہوئے اپنے سننے والوں کو بتاوٗں کہ اسلام کاآخری مہینہ یعنی ذی الحجہ اورپہلا مہینہ محرم دونوں مہینوں ہمیں قربانی کی یاددلواتے ہیں۔عیدالضحی کی قربانی 10ذی الحجہ کواورمحرم کی قربانی 10محرم کو۔ذی الحجہ میں بھی نبیؑ کالعل اورمحرم میں بھی نبی ﷺ کالعل وہ ذبح عظیم اورمحرم شہادت عظیم ایک نے خواب نبھایا ایک نے وعدہ نبھایاذی الحجہ صبرکی ابتدااورمحرم صبرکی انتہاایک کعبہ بنانے والاایک کعبہ بچانے والا۔آخری مہینہ اگرہمیں حضرت ابراہیم ؑ کی سنت یاددلواتا ہے تومحرم ہمیں اسلام بچانے والوں کی یاد سے غافل نہیں ہونے دیتا کیونکہ اگرہم اللہ پاک کی کھل کرعبادت کررہے ہیں اورمسلمان پیداہوئے توسب آل رسول ﷺ کی وجہ سے ہواہے کیونکہ محرم الحرام میں اہلبیت نے قربان ہوکے اسلام بچایا تھااس لیے کسی شاعرنے کیاخوب کہا”وہ جس نے ناناﷺ کاوعدہ وفاکردیا، گھرکا گھرجس نے سپردخداکردیا“کربلاکا دلخراش واقعہ 10محرم الحرام 61ھ 10اکتوبر680عیسوی کو پیش آیاچھ ماہ کے علی اصغرؓکوگلے میں تیرمارکرشہیدکردیا گیا حالانکہ 6ماہ کابچہ شیرخوارہوتا ہے اسے نہ دنیا کا پتہ ہوتا ہے نہ دنیاکی لڑائی سے کوئی غرض نہ تھی۔اگرحضرت امام حسین ؓ کو اپنی اور اپنے خاندان کی جان بچانی ہوتی تو یزیدکے آگے ہتھیارڈال دیتے مگرمیرے پیارے آقاﷺ کے خاندان نے اللہ کے سوا کسی کے آگے جھکنے کا سوچا تک نہیں اس وجہ سے قرآن پڑھتے رہے اللہ کا وردکرتے رہے چاہے سرقلم کیوں نہ ہوگیااس حوالے سے ایک اورشعریادآتاہے”سرکٹ گیا بدن سے تلاوت نہیں رکی،قرآن سے حسین کارشتہ عجیب ہے“اس لیے محرم میں یہ لازوال قربانی اورامت مسلمہ پر ہمیشہ کا احسان کرگئے جسے پوری دنیا میں لوگ کئی صدیوں کے بعدبھی ماتم کرکے یاحسین کاوردکرتے رہتے ہیں۔ذی الحجہ بھی کی قربانی بھی کسی بڑے امتحان سے کم نہیں اسی لیے اللہ پاک نے حضرت ابراہیمؑ کو خلیل اللہ کا لقب دیا کیونکہ آپ کڑے سے کڑے امتحان میں ثابت قدم رہے اسی وجہ سے اللہ پاک نے آپکواپنا(خلیل اللہ)گہرادوست بنا لیا۔قربانی سے قبل تین رات متواترآپ ایک ہی خواب دیکھتے رہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اے ابراہیم تواپنے اکلوتے بیٹے کو ہمارے لیے قربان کردے اللہ کا حکم بجا لاتے ہوئے آپ نے اپنے بیٹے کو اپنا خواب بیان فرمایاکہ اے میرے بیٹے میں نے خواب میں دیکھا کہ میں تجھے قربان کررہاہوں تیری کیامرضی ہے؟باپ خلیل اللہ تھا تو توبیٹا کیسے پیچھے ہٹتا تب جب سر اللہ کے حضور تحفہ جانے والا ہو کیونکہ آپ کے صلب اطہرسے آقائے دوجہاں تاجدارانبیاء حضرت محمدﷺ اس جہاں سے دائمی روشنی سے منورکرنے والے تھے اسی وجہ سے آپ ؑ نے باپ کے آگے سرجھا دیا مگرآپ نے فرمایا”اے ابا جان آپ وہی کریں جو آپکو حکم ملا ہے اور اللہ کے حکم سے آپ مجھے صبرکرنے والوں میں پائیں گے“۔حضرت زید بن ارقم سے روایت ہے کہ آپ نے حضورنبی کریم ﷺ سے عرض کی کہ اے اللہ کے پیارے حضور قربانی کا ہمیں کتنا اجرملتا ہے توآپ ﷺ نے فرمایا قربانی کے جانورکے ایک ایک بال کے برابرثواب(ابن ماجہ)اسی طرح ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا اللہ کے نزدیک قربانی سے زیادہ کوئی عمل زیادہ پیار نہیں ہے قربانی کا جانورآخرت کے روز اپنے سینگ بال اور کھروں کے ساتھ آئے۔ قربانی کرتے ہوئے جانور کا خون زمین پرگرنے سے پہلے اللہ پاک قبول کرلیتے ہیں اسی وجہ سے قربانی خوش دلی سے کرو(ابوداؤد،ترمذی،ابن ماجہ)حضرت عمرفاروق فرماتے ہیں آپ ﷺ مدینے میں دس سال مقیم رہے اور ہرسال قربانی کی (ترمذی)۔قربانی کواگرقرآن پاک کی روشنی میں دیکھیں توسورۃ کوثرآیت نمبر2میں واضع اللہ پاک کاحکم ہے کہ ”توتم اپنے رب کیلئے نمازپڑھواورقربانی کرو“۔حضرت عباسؓ سے مروی ہے کہ حضورنبی کریم,ﷺ نے ارشادفرمایا”سال بھرکے تمام دنوں میں سے کوئی دن (جس میں بے انتہا عمل صالح یعنی نیکیاں اوربھلائیاں کی گئی ہوں)ماہ ذی الحجہ کے عشرہ سے زیادہ اللہ تعالیٰ کوکوئی پسندنہیں اس پرصحابہ کرام نے عرض کی یارسول اللہ اس کے مقابلے میں جہادوقتال ہوں تب کس چیز کوبرتری ہوگی توآپ نے پھرفرمایا”ل بھرکے تمام دنوں میں سے کوئی دن ماہ ذی الحجہ کے عشرہ سے زیادہ اللہ تعالیٰ کوکوئی پسندنہیں صحابہ نے یہ سوال تین مرتبہ کیاتوآپ ﷺ نے یہی جواب دیا اس کے بعدآپ نے فرمایااگراللہ کی راہ میں کوئی شخص جہادکیلئے گیا ہوتووہیں شہیدہوجائے تواس کا اجروثواب ذی الحجہ کے پہلے عشرہ کے برابرہوسکتاہے۔حضورنبی کریمﷺ نے ذی الحجہ کے عشرہ میں صحابہ کورات کوجاگ کرعبادت اورروزے کاحکم دیاکرتے تھے (صحیح ابن حبان)حضورنبی کریم ﷺ ماہ ذی الحجہ کے پہلے عشرہ میں اکثروبیشترتین روزے رکھا کرتے تھے (سنن ابوداؤن)۔قارائین آپ میرے کالم ٹویٹرپرپڑھ سکتے ہیں

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*