بنیادی صفحہ -> اداریہ،کالم -> صوبہ توکیاسیکرٹریٹ بھی نہ بن سکا

صوبہ توکیاسیکرٹریٹ بھی نہ بن سکا

صوبہ توکیاسیکرٹریٹ بھی نہ بن سکا
علی جان
وفاکروگے وفاکریں گے،ظلم کروگے ظلم کریں گے
ہم انسان تمہارے، تم انسان ہمارے جیسے
پاکستان تحریک انصاف کاہرلیڈر الیکشن سے پہلے ایسے خطاب کرتے نظرآتاتھا کہ ان کے ہاتھ میں جادو کی چھڑی ہے اور ابھی بناعلیحدہ صوبہ مگرسارے وعدے اوردعوے ٹُھس ہوکررہ گئے الیکشن کے بعدکہتے تھے اگرپی پی پی اورن لیگ بھی ساتھ نہ دیں توبھی ہمارے پاس دوتہائی ہے ہم علیحدہ صوبہ بناکررہیں گے اندرونی بات کیا ہے رب کی ذات بہترجانتی ہے مگرجوبات نظرآئی ہے وہ یہ کہ پی ٹی آئی نے کوشش کی۔1947سے 1969تک پاکستان کے تین صوبے پنجاب،بلوچستان اوراین ڈبلیوایف پی تھے بہاولپورکے علاوہ 14ریاستیں بھی تھیں جنہیں ختم کرکے 1955میں ون یونٹ بنایاگیا نئے صوبے کامطالبہ نیا نہیں 1970کی دہائی سے ہی نئے صوبے کی آواز بلندکی جارہی ہے کیونکہ پنجاب پاکستان کا63%ہے جس کی وجہ سے دوسرے صوبوں میں احساس محرومی نظرآتا ہے اورمئی 2019کے آخری دنوں میں بڑاشوررہا ہے اورمحسوس ہورہاتھاکہ صوبہ بن کے رہے گے پی ٹی آئی نے جنوبی پنجاب صوبہ کیلئے آئینی بل ترمیم کیلئے نہ صرف پیش کیا بلکہ اسے کثرت رائے سے منظوربھی کرالیاجس میں پی ٹی آئی کا ساتھ پی پی پی اورایم کیوایم نے خوب دیا مگرن لیگ نے ہمیشہ کی طرح تکنیکی بنیادوں پر مخالفت کی اورکہا کہ جنوبی پنجاب کے ساتھ بہاولپورکوبھی الگ صوبہ بنانے کیلئے بل میں اضافہ کیا جائے ن لیگ نے کہا کہ وہ پی پی پی،تحریک انصاف کی اورنہ ہی الگ صوبے کی مخالفت کررہی ہے بلکہ وہ توچاہتی ہے کہ پنجاب کو دوحصوں کے بجائے تین حصوں میں کرکے بہاولپورکوبھی الگ صوبہ بنایا جائے بہاولپورصوبہ ویسے بھی منطقی بات نہیں اب تین اضلاع پرکیسے صوبہ بنایا جائے جس کی الگ سینٹ،اسمبلی اورنشستیں ہوں اس وقت مجھے سمجھ آگئی تھی کہ بل شاید ن اورپی پی کیا پی ٹی آئی کی سمجھ میں ہی نہیں آیا اورایم کیوایم اسے خوب جانتی تھی کیونکہ جومجوزہ بل کی آئینی ترمیم ہوئی اس کے تحت نہ صرف جنوبی پنجاب بلکہ دوسرے صوبوں میں بھی مزیدصوبے بنانے کی راہ ہموارہوسکے گی جس میں کراچی کوتقسیم کرکے پی پی پی کوجھٹکامل سکتا ہے اورپنجاب میں ن لیگ کو شاید پھرفوراًبازی پلٹ کے سب نے بے وفائی دکھادی کیونکہ اگریہ بل پاس ہوجاتا الگ صوبہ بھی بن جاتاتویہ سیاستدان سیاست کس ایشوپرکرتے ان کو جب تک نیا ایشو نہیں ملتا یہ نئے صوبے کالولی پاپ پرسیاست کرتے رہیں گے پی پی پی کا کہنا ہے کہ ماضی میں دوتہائی اکثریت نہ ہونے کی وجہ سے ہم صوبہ نہ بناسکے اوراس وقت حکمران جماعت کے پاس وفاق میں دوتہائی اکثریت ہے اورنہ ہی پنجاب میں الگ صوبے کے حوالے سے حکمران جماعت کی حلیف ق لیگ بھی الگ صوبے کی مخالفت کرتی ہے اوران کے وزیرڈھٹائی سے بہاولپورصوبہ کیلئے کہتے ہیں اگربہاولپورصوبہ نہ بناتوجنوبی پنجاب بھی نہ بنے گامگرمیں یہاں اپنے قارائین کویاددلاتاچلوں کہ پاکستان نے جنوبی پنجاب سے سب سے زیادہ نشستیں لی ہیں جولوگ جنوبی پنجاب صوبے کی مخالفت کرتے ہیں وہ لوگ یاتوجنوبی سندھ،ہزارہ اور،مہاجرصوبہ کی حمایت کرتے نظرآتے ہیں اگرتحریک انصاف جنوبی پنجاب کے ساتھ مخلص ہے توجس طرح افہام وتفہیم سے 26آئینی ترمیم کا بل منظورکروایاگیاتھااسی طرح جنوبی پنجاب کیلئے بھی اتفاق رائے پیداکیاجائے۔لیگل فریم آرڈر69کے تحت1969کوبلوچستان کوبھی صوبہ بنایاگیاپراسکے بعدکوئی نیاصوبہ نہ بن سکا۔پھرکچھ دن گزرنے کے بعدکہا گیا کہہ یکم جولائی کو سیکرٹریٹ بنانے کے وعدے کرکے سرائیکی لیڈروں کے منہ پرچیپی لگادی۔عثمان بزدارکی تیزی اورآئے روز جنوبی پنجاب کے طوفانی دورے اس وقت سمجھ نہیں آرہے تھے مگرآہستہ آہستہ پتہ چل گیا کہ وہ چاہتے تھے کہ وہ جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ بنا کے تاریخ رقم کریں کہ وہ پہلے وزیراعلیٰ ہیں جن کے ماتحت دو اسٹیبلیشمنٹ ہوں گی مگرایسا نہ ہوسکا جیساکہ وعدہ کیاگیا تھاکہ یکم جولائی کوسیکرٹریٹ بنایاجائے گااورجوکمیٹی بنائی گئی اس کی کوئی بھی اجلاس نہ ہوسکایہاں پرمجھے شیخ سعدیؒکی کہی بات یاد آئی ہے کہ دوفقیرایک کمبل میں سوسکتے ہیں مگردوبادشاہ ایک رعایامیں اکٹھے نہیں رہ سکتے جیسے کے حکمران چاہتے ہیں کہ ہمارے پاس زیادہ سے زیادہ اقتدارہوتویہ حکمران کیوں صوبے کابٹواراکریں گے ساری پارٹیاں نئے صوبے کے نام پرپتہ نہیں کب تک عوام کو بے وقوف بناتی رہیں گی جنوبی پنجاب کا بجٹ میں اضافہ خوش آئندتوہے مگرجومافیایہاں پرموجود ہے اس سے جان چھڑائی جانے تک ممکن ہی نہیں کہ جنوبی پنجاب میں ترقی ہوسکے الگ صوبے کیلئے پاکستان تحریک انصاف کو بڑاپن دکھاکے باربارن لیگ اورپی پی کومناناہوگاورنہ جس طرح تینوں جماعتوں میں تلخ مزاجی ہے توکبھی بھی الگ صوبہ نہیں بنے گا کیونکہ آج پی ٹی آئی حکومت میں ہے تودوسری جماعتیں مخالفت کرتی ہیں جب کوئی اورجماعت آئے گی توپی ٹی آئی مخالفت کرے گی کیونکہ ہرکوئی کریڈٹ لینے کے چکرمیں ہے کیونکہ جب پھرسے ووٹ لینے آئیں توان کے پاس ثبوت ہوں کہ انہوں نے جوالگ صوبے کووعدہ کیاتھااس سے مکرنہیں گئے تھے مگران کے پاس دوتہائی ہی نہیں تھی توصوبہ نہیں بناسکے۔آئین کی دفعہ 239کے تحت آئین کی ترمیم کیلئے حکومت کودوتہائی اکثریت کی حمایت لازم ہے نئے صوبے کیلئے حکومت کو پنجاب میں 245ارکان کی حمایت چاہیے جس میں 188ایم پی ایزحکومت کے اتحادی ہیں۔ہمیشہ سے ن لیگ اورپی پی اس کھیل کوکھیلتے آئے ہیں اب ق اورپی ٹی آئی کی باری ہے کہ جب بل پیش کیا توق لیگ نے کہا کہ ہم حکومت کے حلیف ہیں توہمیں اعتماد میں نہیں لیاگیا حالانکہ مخلوط حکومتوں میں حلیفوں کوساتھ لے کرآگے بڑھاجاتا ہے اس معاملے کیلئے وزیراعظم کوفرنٹ پرآکے کھیلناہوگااوربہترحل صرف یہی ہے کہ الگ صوبے (بہاولپور،سرائیکی صوبہ)کے حوالے سے ریفرنڈم کرائے جائیں کیونکہ ابھی توبات مفروضوں تک چلی ہے عوام کیا چاہتے ہیں اس ریفرنڈم سے پتہ چل سکتا ہے جب بھی سرائیکی صوبہ کی فضابلندہوتی ہے توق لیگ اورن لیگ بہاولپورصوبے کوہوادے کرسرائیکی صوبہ تحریک کوختم کرنے کی ناکام کوشش کرتے ہیں سیاستدانوں نے اپنے مفاد کی خاطراسے سیاسی ایشوبنایاہواہے اس مسئلے کوحل کرنے کیلئے ریفرنڈم کروالینا چاہیے کیونکہ کسی بھی مسلئے کے حل کیلئے ریفرنڈم جمہوری طرزعمل ہے بشرطیکہ کہ سوال براہ راست ہونہ کہ جیسے ہمارے ملک میں صدارتی ریفرنڈم ہوئے اورظالم حکمران ہم پرزبردستی مسلط ہوگئے جن میں ضیاء الحق اورپرویزمشرف سب کویادہونگے ریفرنڈم سے حکومتی وزراء کی آرابھی سامنے آجائیں گی اورکئی چہرے بے نقاب ہوں گے جوصوبے کے نام پرسیاست کھیل رہے ہیں علاوہ ازیں اورکوئی طریقہ نئے صوبے کیلئے نظرنہیں آرہاہاں ایک بات حکومت کویادرکھنی چاہیے کہ صوبہ نہ بناتو”کایاپلٹ سکتی ہے“۔اللہ پاک ہمارے ملک کا حامی وناصرہو

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*