بنیادی صفحہ -> اداریہ،کالم -> جدید ٹیکنالوجی اور پاکستان

جدید ٹیکنالوجی اور پاکستان

جدید ٹیکنالوجی اور پاکستان
امجد طفیل بھٹی
جرمنی کے شہر فرینکفرٹ میں پہلی E -Highway کا کامیاب تجربہ کیا گیا ہے۔ E -Highway کا مطلب ہے Electrified Highway یعنی بجلی کی طاقت والی سڑک۔ اس سڑک پر بھاری گاڑیاں بجلی کی مدد سے چلیں گی اور اس سارے کام کو مکمل کرنے میں جرمنی کی مشہور کمپنی SIEMENS اپنی تکنیکی خدمات فراہم کر رہی ہے۔ اس E-Highway میں باہر والی ایک لین کے اوپر سے ہائی وولٹیج ٹرانسمشن لائن گزاری گئی ہے اور جو بھی ہیوی وہیکل اس کے نیچے سے گزرے گی اسکو اس ہائی وولٹیج لائن سے جوڑا جائے گا۔ یہ سارا کام بھی SIEMENS کے ماہرین کریں گے۔ اس سڑک کو بنانے کا مقصد نہ تو پٹرول بچانے کے لیے ہے اور نہ ہی سستی بجلی کو استعمال کرنے کا ہے بلکہ اس ساری تگ و دو کا مقصد ماحول کو کاربن ڈائی آکسائیڈ اور کاربن مونو آکسائیڈ جیسی مضر گیسوں سے بچانا ہے۔ جو کہ دھویں کی صورت میں گاڑیوں سے خارج ہوتی ہیں۔ان دو زہریلی گیسوں کی وجہ سے نہ صرف ماحول آلودہ ہوتا ہے بلکہ ناک، کان، گلے اور سانس کی بیماریاں بھی جنم لیتی ہیں۔ ہم اکثر دیکھتے ہیں کہ بڑے شہروں کا درجہ حرارت 5 سے 10 ڈگری اس شہر کے آس پاس دیہی علاقوں سے زیادہ ہوتا ہے اسکی سب سے بڑی وجہ بھی یہی دو گیسیں یعنی کاربن ڈائی آکسائیڈ اور کاربن مونو آکسائیڈ ہی ہوتی ہیں۔ ان دونوں گیسوں کو کم یا ختم کرنے کے لیے دو ہی حل ہیں کہ یا تو دھویں والی گاڑیوں کو بجلی پر منتقل کیا جائے یا پھر تمام سڑکوں کے اطراف میں درختوں کی تعداد میں اضافہ کیا جائے۔ اگر ہم ان حالات کا موازنہ پاکستان سے کریں تو ہم اس نتیجہ پر پہنچتے ہیں کہ یہ دونوں کام یعنی گاڑیوں کو بجلی پر منتقل کرنا یا پھر سڑکوں کے کنارے درخت لگانا کم از کم پاکستان میں تو اگلے سو سال بھی ناممکن نظر آتا ہے کیونکہ ہمارے ملک میں درخت لگانے کو“ صدقہ جاریہ“ کہنا صرف کتابوں میں ہی رہ گیا ہے اور جہاں تک سوال ہے گاڑیوں کو بجلی پہ منتقل کرنے کا تو ہمارے ہاں تو گاڑیوں کو ہمیشہ سستی چیز پر منتقل کیا جاتا ہے یعنی ایک زمانے میں جب ساری دنیا میں پٹرول والی گاڑیاں استعمال ہوتی تھیں تو پاکستان میں ڈیزل کی قیمت پٹرول سے آدھی ہوا کرتی تھی تب ہمارے پیارے وطن پاکستان میں لوگ پٹرول پر چلنے والی گاڑیاں خریدتے ہی نہیں تھے یا اگر غلطی سے خرید بھی لیتے تھے تو اسکے انجن کو ڈیزل پر منتقل کرنے کے لیے“ لوکل سائنس“ کا استعمال کیا جاتا تھا۔
ایک اور بدقسمتی ہمارے ملک میں یہ ہے کہ ہم ہر غلط کام کو بخوبی سر انجام دیتے ہیں، یعنی ڈیزل کی قیمت جب پٹرول کی قیمت کا آدھا تھی تو لوگوں نے پیسہ کمانے کی غرض سے پٹرول میں ڈیزل ملانا شروع کردیا اور یوں پرویز مشرف دور میں ڈیزل کی قیمت کو پٹرول کے برابر یا پھر اس سے زائد کرنے کے لیے اقدامات اٹھائے گئے اور یوں اس ملاوٹ پر قابو پایا گیا۔ لیکن جب سی این جی کا دور شروع ہوا تو ہمارے لوگوں نے پٹرول اور ڈیزل گاڑیوں کو سی این پر منتقل کرا کر تقریباً ہر گاڑی کو چلتا پھر بم بنا دیا اور جس کے نتیجے میں اب تک ہزاروں لوگ جان کی بازی ہار چکے ہونگے۔شروع میں سی این جی کی قیمت پٹرول سے بھی آدھی مقرر کی گئی تھی۔ ہمارے ملک میں لوگوں نے اس سارے عمل میں بھی“ دیسی سائنس“ کا بھرپور استعمال کیا، ہر گلی محلے کے مستری اور چھوٹی سے چھوٹی ورکشاپ نے بھی سی این جی کِٹ لگانے کی سہولت مہیا کیے رکھی۔ اور پھر اربابِ اختیار کو خیال آیا کہ ملک میں گیس کے ذخائر کم ہونے لگے ہیں تو سی این جی کی قیمت کو بھی پٹرول کے برابر لا کھڑا کیا تاکہ لوگوں کا رجحان سی این سی ہٹایا جا سکے اور یوں ہمارے پالیسی سازوں نے ایک انڈسٹری کو تباہ کر کے دم لیا۔
دنیا بھر میں HYBRID ٹیکنالوجی کافی عرصہ سے کامیابی سے چل رہی ہے جس میں کہ گاڑیوں کو ڈبل فیول سسٹم کے ذریعے چلایا جاتا ہے۔ یعنی جب گاڑی 60 کلومیٹر فی گھنٹہ سے کم سپیڈ پر چل رہی ہوتی ہے تو وہ گاڑی میں نصب بیٹری کے کرنٹ کے ذریعے چلتی ہے اور جونہی سپیڈ 60 کلومیٹر سے بڑھتی ہے تو گاڑی پٹرول پر منتقل ہوجاتی ہے۔ چونکہ بڑے شہروں میں ٹریفک کا دباؤ ویسے ہی زیادہ ہوتا ہے اس لیے گاڑیوں کی سپیڈ عموماً 60 کلومیٹر سے کم ہی رہتی ہے جسکی وجہ سے بڑے شہر میں HYBRID گاڑیاں نہایت ہی موضوع ہیں۔ جتنے بھی ترقی یافتہ ممالک ہیں ان میں یہ گاڑیاں مناسب قیمت میں میسر ہیں مگر پاکستان کی کوئی بھی گاڑیاں بنانے والی کمپنی ابھی تک HYBRID گاڑیاں نہیں بنا رہی جس کی وجہ ایک ہی ہے کہ یہاں پر اس گاڑی کی قیمت ہمارے لوگوں کی پہنچ سے باہر ہو جاتی ہے اور یوں ہم ابھی تک دہائیوں پرانی ٹیکنالوجی والی گاڑیاں استعمال کرنے پر مجبور ہیں جن کی نہ تو Fuel Economy اچھی ہے اور نہ ہی وہ ماحول کے لیے سازگار ہیں۔
پاکستان میں ابھی تک کوئی باقائدہ ایسا نظام وضع نہیں کیا گیا کہ جس کے ذریعے گاڑیوں کو فٹنس سرٹیفیکیٹ جاری کیے جائیں، ہاں پبلک ٹرانسپورٹ کے لیے شاید فٹنس سرٹیفکیٹ ضروری تو ہے مگر چند ہزار روپے لگا کر وہ بھی جعلی حاصل کیا جا سکتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ کئی دہائیوں تک گاڑیاں چلائی جاتی ہیں اور آئے روز حادثات کے باعث سیکنڑوں لوگ جان کی بازی ہار جاتے ہیں۔پاکستان میں کوئی بھی گاڑی تب تک چلائی جاتی ہے جب تک کہ وہ بالکل ناکارہ ہو کر چلنے سے جواب نہ دے دے۔ حالانکہ دنیا کے کئی ممالک میں ہر کیٹیگری کی گاڑی کو ایک خاص مدت تک چلایا جا سکتا ہے اور پھر اسے چلانے کی اجازت نہیں ہوتی اور یوں پاکستان سمیت غریب ممالک تک بھی وہی استعمال شدہ امپورٹڈ گاڑیاں پہنچ جاتی ہیں مگر پاکستان میں کسٹم ڈیوٹی زیادہ ہونے کی وجہ سے وہی گاڑیاں ہماری لوکل مارکیٹ کی گاڑیوں سے زیادہ مہنگی میسر ہوتی ہیں۔ اسی لیے ہمارے عوام پرانی ٹیکنالوجی ہی استعمال کرنے پر مجبور ہیں۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*