بنیادی صفحہ -> اداریہ،کالم -> اچھے دنوں کا انتظار

اچھے دنوں کا انتظار

اچھے دنوں کا انتظار
امجد طفیل
مشہورِ زمانہ کہاوت ہے کہ“ امید پہ دنیا قائم ہے“ یعنی کہ امید ایک ایسی چیز ہے جو کہ انسان کو زندہ رہنے میں مدد دیتی ہے جبکہ دوسری طرف ہمارے مذہب اسلام میں مایوسی کو کفر سے تشبیہ دی گئی ہے شاید یہی وجہ ہے کہ پاکستان کے عوام کو اب بھی بھروسہ ہے کہ انکے اچھے دن ضرور آئیں گے۔نئی سیاسی حکومت کو آئے ہوئے آٹھ مہینے ہو چکے ہیں باوجود اس کے کہ ابھی تک عوام کو پچھلی حکومتوں اور نئی حکومت کے“ چال چلن“ میں کوئی خاص فرق نظر نہیں آ رہا عوام کے بیشتر حصے کو اب بھی ایک امید دکھائی دیتی ہے کہ پاکستان کے غریب عوام کے دن ایک نہ ایک دن ضرور پھریں گے، شاید یہی وجہ ہے کہ بہت سے لوگ حکومتی پالیسیوں کی تائید کرتے نظر آتے ہیں چاہے وہ حج پر سبسڈی ختم کرنے کا معاملہ ہو، پٹرول مہنگا کرنے کی بات ہو یا پھر بہت ساری دوسری سبسڈیز کو ختم یا کم کرنے کی بات ہو۔ بعض ایسے حکومتی اقدامات ہیں جو قابل تعریف بھی ہیں جیسے کہ“ پناہ گاہ“ کا قیام کیونکہ اس سے اْن لوگوں کو چھت اور کھانا میسر آیا ہے جو کہ سردیوں گرمیوں میں سڑک کنارے، فٹ پاتھوں پر یا پھر پارکوں میں راتیں گزارنے پر مجبور تھے۔ ان لوگوں میں کافی تعداد ان مزدوروں کی بھی ہے جو کہ اپنی دیہاڑی میں سے رہائش رکھنے اور کھانا کھانے کی استطاعت نہیں رکھتے، اْنکے لیے یہ پناہ گاہیں کسی نعمت سے کم نہیں ہیں۔ دوسرا حکومت کے پچاس لاکھ گھروں کی تعمیر کا منصوبہ“ نیا پاکستان ہاؤسنگ سکیم“ بھی غریب اور متوسط طبقے کے لیے امید کی ایک کرن ہے کیونکہ اگر واقعی پاکستان میں پچاس لاکھ گھر حکومتی سرپرستی میں تعمیر ہو جاتے ہیں تو پھر شاید یہ پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا ہاؤسنگ کا منصوبہ بن جائے۔
اسکے علاوہ اگر مہمند ڈیم کے ساتھ ساتھ کسی بھی ایک بڑے ڈیم کی تعمیر کا کام شروع ہو جاتا ہے تو یہ بھی پی ٹی آئی کی حکومت کی ایک بڑی کامیابی تصور کی جائے گی کیونکہ ڈیموں کی تعمیر سے نہ صرف ملک کی بجلی اور پانی کی ضروریات پوری کرنے میں مدد ملے گی بلکہ ان منصوبوں سے لاکھوں لوگوں کو روزگار کے مواقع بھی ملیں گی۔ آجکل چونکہ دنیا بھر کا سرمایہ کار اس جگہ اپنا پیسہ لگانا چاہتا ہے جہاں پر اس کا سرمایہ محفوظ ہو، اسی وجہ سے دنیا بھر کی کمپنیاں پاکستان میں زرعی شعبے، کار سازی اور خدمات کے شعبوں میں سرمایہ کرنے کی خواہشمند ہیں کیونکہ وزیراعظم عمران خان کا کرپشن اور بد عنوانی کے خلاف ٹھوس موقف دنیا بھر میں تسلیم کیا جاتا ہے۔ حال ہی میں چین میں ہونے والی ایک سربراہی کانفرنس میں بھی عمران خان نے وائیٹ کالر کرائم ختم کرنے پر زور دیا جس کو کافی سراہا گیا کیونکہ تیسری دنیا کے غریب اور ترقی پذیر ممالک میں غربت کی اصل وجہ ہی کرپشن ہے۔ کرپشن کسی بھی معاشرے کے لیے ایک ناسْور ہوتی ہے کیونکہ جب کرپشن ہوتی ہے تو نہ ہی ملک میں تعلیمی میدان میں ترقی ہونے دی جاتی ہے اور نہ ہی لوگوں کی بنیادی ضروریات پوری ہو سکتی ہیں۔ عمران خان سے اگر پاکستان کے لوگوں کی ایک امید قائم ہے تو اس کی سب سے بڑی وجہ ہی یہی ہے کہ عمران خان نہ تو کرپشن کرنے دیتے ہیں اور نہ ہی کسی کی کرپشن کا دفاع کرتے ہیں بلکہ اگر انکا کوئی وزیر یا مشیر کرپشن میں ملوث پایا گیا تو اسکا انجام شاید اچھا نہ ہو۔ یہ تمام باتیں پاکستانی عوام کو مزید انتظار کرنے پر مجبور کرتی ہیں کہ جب خدا خدا کر کے پرانی دو جماعتوں سے جان چھوٹی ہے جو کہ تین تین بار ملک پر حکمرانی کر چکی ہیں مگر عوام کے حالات نہ بدل سکے تو کیا حرج ہے کہ عمران خان کو بھی پورا وقت دیا جائے تاکہ وہ جو کچھ کر سکتے ہیں وہ کریں۔
پاکستان کی ترقی میں اس وقت سی پیک بنیادی حیثیت اختیار کر گیا ہے کیونکہ عمران خان جب سے وزیراعظم بنے ہیں دو بار چین کا دورہ کر چکے ہیں اور وہ کوشش کر رہے ہیں کہ گزشتہ حکومت نے جو جو معاہدے کیے ہیں انکی تفصیلات حاصل کی جا سکیں اور انکو بہتر کیا جا سکے۔ سی پیک کے پرانے معاہدوں میں اسکے مغربی رْوٹ کو نظر انداز کیا گیا تھا جبکہ عمران خان کا یہ ماننا ہے کہ جب تک نظر انداز شدہ علاقوں کو باقی علاقوں کے برابر لا کر نہ کھڑا کیا جائے تو ملک کیسے ترقی کر سکتا ہے اسی لیے عمران خان نے چین کو سی پیک کے مغربی رْوٹ پر مزید سرمایہ کاری کرنے کی دعوت بھی دی ہے۔ اسکے علاوہ دنیا کے اور بھی ممالک جیسے کہ روس، سعودی عرب اور ترکی بھی سی پیک کا حصہ بننا چاہتے ہیں، جس کی وجہ سے پاکستان میں روزگار کے مزید موقع پیدا ہونے کی امید لگی ہے۔ جبکہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات بھی پاکستان میں بھاری سرمایہ کاری کے معاہدے کر رہے ہیں۔اور پاک ایران گیس پائپ لائن جو کہ پچھلے ادوار کا منصوبہ تھا مگر ایران پر امریکہ اور دوسرے مغربی ممالک کی اقتصادی پابندیوں کی وجہ سے مکمل نہ ہو سکا اب پاکستان نے دوبارہ سے اس پر کام کرنے کی خواہش کا اظہار کر دیا ہے اور وزیراعظم عمران خان نے وزارت خارجہ کو اس معاملے میں اقدامات کرنے اور امریکہ، یورپی یونین اور دوسرے عالمی فورمز کو قانونی دستاویزات بھینجے کے سلسلے میں کاروائی کرنے کا بھی کہا ہے۔ اگر پاک ایران گیس پائپ لائن پراجیکٹ مکمل ہو جاتا ہے تو مستقبل میں پاکستان کی نہ صرف توانائی کی ضروریات پوری کرنے میں کافی حد تک مدد ملے گی بلکہ پاکستان کی چھوٹی بڑی انڈسٹری بھی ترقی کرے گی اور روزگار کے مواقع بھی پیدا ہونگے۔ موجودہ حکومت اگر ان تمام معاملات کو سنجیدگی سے دیکھے اور باقائدہ ٹیکنیکل لوگوں کو ان میں شامل کرے تو پاکستان کی معاشی مشکلات میں کمی واقع ہوگی اور ملکی معیشت کی سمت کا تعین بھی ہو جائے گا۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*