بنیادی صفحہ -> اداریہ،کالم -> مہنگائی کا جن بوتل سے باہر
مہنگائی

مہنگائی کا جن بوتل سے باہر

مہنگائی کا جن بوتل سے باہر
تحریر : اقصیٰ ارشد
آج دنیا کے چند ایک نہیں بلکہ بیشتر ممالک اُن صف اول میں شمار ہورہے ہیں ۔جنہیں آسمان کو چھوتی ہوئی مہنگائی،بھوک،افلاس اور شدید قسم کے غذائی بحران کا سامنا ہے۔مہنگائی کے آسیب کا ان دنوں عالمی سطح پر خوفناک چہرہ سامنے آرہا ہے دنیا بھر میں اشیاء خردرنوش کی بھرتی ہوئی قیمتیں دس کڑور غریب افراد کو مزید غربت کی گہرائیوں میں دھکیل سکتی ہیں ۔ گزشتہ چند برسوں میں روز مرہ کے استعمال کی اشیاء کی قیمتوں میں مسلسل اضافے نے غریب کی کمر تور دی ہے۔پاکستان کا شمار دن بدن غریب ملک میں ہوتا جا رہا ہے ۔جہاں پر لوگوں کو ان کے بنیادی حقوق بھی میسر نہیں پاکستان میں اکژیت لوگوں کا زریعہ آمدنی انتہائی قلیل ہونے کی وجہ سے لوگوں کا گز ر اوقات انتہائی دشوار اور مشکل ہوتا جا رہا ہے۔دن بدن تمام استعمال کی اشیا ء کی قمیتوں میں بے پناہ اضافہ ہورہا ہے۔پاکستان میں مہنگائی کی شرح عروج پر پہنچ گئی اور اس مہنگائی نے گزشتہ چار ،پانچ سال کا ریکارڈ توڑ دیا ہے۔ہر چیز کی قیمت آسمان سے باتیں کر رہی ہے۔جوں جوں وقت گزر رہا ہے ،مہنگائی کا جن بوتل سے باہر آرہا ہے۔ڈالر تھمنے کا نام نہیں لے رہا ملکی معشیت ہر دن کے ساتھ ہچکولے کھارہی ہے۔بجلی اور گیس کی قمیتوں میں بھی اضافہ عوام کے لئے درد سر بن گیا ہے ۔ملک بھر میں مہنگائی کی سونامی سے عام آدمی کے لئے دو وقت کی عزت کی روٹی کا حصول مشکل تر ہوگیا ہے، اشیاء خردونوش کے نرخوں میں اضافے کے باعث عام شہریوں کے لئے زندگی اس حد تک مشکل اور وبال جاں بن چکی ہیں ،کہ وہ اس سے چٹھکارے کے ئے خود کشی کا مسافر بنے کو آسان سمجھتا ہے ۔اشیاء خورونوش کی قیمتں اس حد تک بھر چکی ہیں ،کہ عام صارف انہیں دیکھ تو سکتا ہے مگر خرید نہیں سکتا ہیں ۔تودوسری طرف نئے تعلیمی سال کے آغاز میں کمر توڑ مہنگائی نے کئی متوست گھرانوں کے نونہالوں کے لئے مہنگائی تو کجا عام تعلیم کا حصول بھی ایک ادھورا خواب بنا دیا ہے۔مارچ 2017 کے مقابلے میں مارچ 2018 میں تعلیم کی مہنگائی میں 18 فیصد اضافہ ہوا ہے ۔ تعلیمی سال کے آغاز پر بچوں کو نئی کتابیں اور کاپیاں دلوانا والدین کے لئے ایک سنگین مسئلہ بن چکا ہے۔بچوں کا تعلیمی کورس خریدنے کے لئے والدین مہنگائی کے باعث اپنی بے بسی کا رونا رو رہے ہیں ،اور پھر ادویات مہنگی ہونے کی بدولت متعدد غربت کے مارو کی زندگی اجیرن ہوگئی ۔اب نہ تو ہسپتالوں میں غریب کے لئے ادویات دستیاب ہیں نہ ہی باہر سے خریدنے کی سکت رہی تعلیم صحت بنیادی حقوق ریاست کی اولین زمہ داری ہیں ۔آج ایک عام شہری کے لئے ان کے حقوق کا حصول ایک مسئلہ بن چکا ہیں ۔ اور پھر ملک میں اکژ نوجوان جو سب کچھ لوٹا کے تعلیم حاصل کر کے ڈگریاں لے کر بے روزگاری کا شکار ہے ان کی تعداد زیادہ ہے۔مہنگائی پانچ سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ،شرخ میں اضافہ مجموعی طور پر 9.41فی فیصد ریکارڈ کیا گیا ہے ۔محکمہ شماریات کے ماہانہ اعدادوں کے مطابق ملک میں مہنگائی نے گزشتہ پانچ سال کی بلند ترین سطح کو عبور کر لیا ہے۔ مارچ2019 میں مہنگائی کی شرح 9.4 فیصد جبکہ جولائی 2018 سے مارچ 2019 تک مہنگائی کی شرح میں 6.5 فیصد اضافہ ہوا ہے ، مہنگائی کی شر ح میں فروری کی نسبت مارچ میں 1.4 فیصد اضافہ ہوا ، بابطابق شماریات ڈویژن رپوٹ سالانہ بنیاد پر CNG کی قمیتں 25.3 فیصد بھری جبکہ LPG سیلنڈر 13.4اور ہائی اسپیڈ ڈیزل 13.1 فیصد سے زائد مہنگا ہوا سالانہ بنیاد پر ہری مرچ 151فیصد اور لال مرچ 27.6فیصد مہنگی ہوئی،دالوں کی قیمت 22.7فیصد ،گوشت کی قیمت 13.8 فیصد بڑھی مارچ میں کھانے کی جو جو اشیاء سب سے زیادہ مہنگی ہوئی ان میں پیاز 39.28 فیصد ،تازہ سبزیاں 24.43فیصد ،ٹماٹر 18.83 فیصد ، چکن 15.88 فیصد ،دال مونگ12.68 فیصد ،پھل 12.52 فیصد ،چینی 2.74فیصد ،چاول 0.41 فیصد ، بیکری 0.31فیصد ، آٹا 0.20 فیصد ،دودھ 0.17 فیصد، اضافہ شامل ہے۔کتابوں ،ٹیوشن فیس ،اور سیمنٹ کی قیمتوں میں ایک سال کے دوران ان کی قیمتوں میں اضافہ ہو گیا ہے۔جبکہ کرایوں میں 13.4 فیصد اضافہ ہوا ہیں ۔پٹرول کی قیمت میں اضافہ تمام ضروری اشیاء میں اضافے کا جواز بنتا ہے۔ جس تناسب سے پٹرول کی قیمت میں اضافہ ہوتا ہے ضروری اشیاء کی قمیتیں اس سے زیادہ بڑھا دی جاتی ہے۔نیز جب پٹرول کی قیمتوں میں کمی کا اعلان ہوتا ہے تو یہ قیمتں نیچے نہیں آتی اس وقت سبزیوں دالوں پھلوں گوشت دوائیوں آٹا چاول چینی چائے کی پتی تعلیم صحت علاج معالجہ ایک غریب آدمی کی دسترس سے دور کر دی ہیں ۔یہاں اس وقت پانچ کروڑ 87 لاکھ افراد غربت میں زندگی گزار رہے ہیں ۔عالمی معیار کے مطابق جس شخص کی آمدنی 2ڈالر سے تقریباً دو سو روپے یعنی 6000روپے ماہانہ سے زیادہ نہ ہو ،وہ غریب شمار کیا جاتا ہے ۔پاکستان کی ایک تہائی آبادی اس معیار سے نیچے حد درجے افلاس اور بے کسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہے یہ غربت صرف دیہاتوں یک محدود نہیں ،بلکہ بڑے بڑے شہروں میں بھی اکژیت انہیں غریبوں کی ہے جو دو تین عشرے پہلے متوسط درجے کی زندگی گزار ہئے تھے اور پھر رفتہ رفتہ غربت کی سطح پر آگئے غربت کے ساتھ مہنگائی کا جن ہمارے سروں پر اس طرح مسلط ہیں کے جان چھڑائے بھی تو نہیں چھوٹتی ایک غیر ملکی سروے رپورٹ کے مطابق اکژ پاکستانیوں کی آمدن کا تقریباً50 فیصد حصہ صرف خوراک پر خرچ ہو جاتا ہیں ۔اس مہنگائی نے عام غریب عوام کے لئے جینا دوبھر کر دیا ہے اور غریب اور مزدور طبقہ کی تو بات ہی مت پوچھیے ان کے یہاں تو چولہا جلنا ہی دشوار ہو گیا ہے ۔ہمیں غریب متوسط طبقے کو سامنے رکھ کر پالیسی ترتیب دینی چائیے تاکہ ان لوگوں کے لئے بھی آسایناں پیدا ہو اور ملک میں خوشحالی ممکن ہو سکے آمین ۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*