بنیادی صفحہ -> اداریہ،کالم -> پردہ اٹھانا ضروری ہے
پردہ

پردہ اٹھانا ضروری ہے

پردہ اٹھانا ضروری ہے
بے تکی باتیں
اے آر طارق
پاکستان پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین ، سابق صدر پاکستان ،رکن پارلیمنٹ آصف علی زرداری کا کہنا ہے کہ ’’پاکستان تحریک انصاف کی حکومت 5 سال پورے کرلے ،سوال ہی پیدا نہیں ہوتا‘‘،جس پر سیاسی ،سماجی وصحافتی حلقوں میں ایک عجیب بحث چھڑگئی ہے،کوئی کہتا ہے کہ حکومت اپنی آئینی مدت مکمل کر لے گی اور کوئی کہتاکہ نہیں۔گزشتہ چند دنوں سے ایک بحث ومباحثہ کا بازار گرم، جس میں ہر کوئی اپنی اپنی دانست میں جو ذہن میں آتا ،کہہ رہا اور اپنی رائے کا اظہار کرتا نظر آتا،الیکٹرانک وپرنٹ میڈیا میں زرداری صاحب کا یہ بیان زیر بحث رہتا اور اس پر تجزیہ کار اور قارئین اپنی اپنی رائے کا اظہار کرتے نظر آتے،زرداری صاحب نے میزائل کے گولے کی طرح بیان داغنا تھا،بس داغ دیا،اب اس بیان پر اینکرپرسنز،تجزیہ کار،صحافی و مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد،اپنی عقل ودانست میں ہاں یا ناں میں اپنی اپنی توجیحات پیش کررہے،کوئی سمجھتا کہ حکومت کو اس اپوزیشن اتحاد سے خطرہ ضرور،مگر حکومت پر کوئی اثر نہیں پڑے گا،کوئی خیال کرتا کہ یہ اپوزیشن اتحاد حکومت کو لے ڈوبے گا اور حکومت اپنی مدت پوری نہیں کرپائے گی، سیاست کے اس پتلی تماشے میں سمجھ نہیں آرہی کہ کیا ہورہا اور کیا بننے والا،کون صحیح کون غلط،کون رہنما کون رہزن،کون سچا کون جھوٹا،کون حمایتی کون مخالف،کون کیا رول ادا کرنے والا،کس کی گرپ مضبوط کس کی کمزور،حکومتی و اپوزیشن دنگل میں کون جیت پائے گا اور کس کو ہوگا شکست و ریخت کا سامنا،کون بازی سمیٹے گا ،کون گیم ہارے گا،ایک میچ پڑا ہوا ہے ،حکومتی و اپوزیشن پارٹیوں کے درمیان ،بیان بازی کا بازار گرم ہے اور ایک دوسرے پر سنگ باری کی جارہی ہے،ایک دوسرے کے لیے اخلاقیات سے عاری الفاظ بڑے دھڑلے سے بولے جا رہے ہیں،پارلیمنٹ کی صورتحال ایک جنگی میدان کی سی ہے،جس میں گھمسان کا رن پڑاہوا ہے،ہر کوئی دوسرے پر الزامات کی بارش کیے اسے گہنگار ثابت کرنے پر تلا ہوا اور خود معصوم ہونے کا ناٹک رچا رہا،ہر کوئی خود کو معصوم گردانے، دوسرے کو کرپٹ،بے ایمان اور چور کہہ رہا،چور سپاہی کا کھیل اس خوبصورتی کے ساتھ کھیلا جارہا ہے کہ سب سمجھتے،جانتے ہوئے بھی اس کھیل میں پتا نہیں چل رہا کہ کون چور کون سپاہی،اس کی وجہ یہ ہے کہ یہاں حکومتی افراد ہویا اپوزیشن کے لوگ،سبھی الاماشااللہ، چند ایک کو چھوڑ کر، سب ہی کرپشن ،چور بازاری ،لوٹ مار کے حمام میں بری طرح ننگے ہیں اور کسی طرح بھی سراہے جانے کے قابل نہیں،سب کے ہاتھ کسی نہ کسی طریقے سے کرپشن ،بے ایمانی، لوٹ مار اورفراڈ سے لتھڑے ہوئے ہیں،جس کا اظہارگاہے بگاہے گھر کا بھیدی لنکا ڈھائے ،یہ خود ہی کرتے رہتے ہیں،کسی کواس پر روشنی ڈالنے کی ضرورت نہیں۔ اس ملک کی یہ بڑی بدقسمتی رہی ہے کہ اسے جو بھی ملا ،لٹیرا ہی ملا،بدقسمتی کے ساتھ یہ ایک ایسا ملک ہے ،جہاں کے احتساب کرنے والے ان سے بھی بڑے ڈاکو،چور نکلتے اور چور بھی کہے چور چور والی بات ہے، اس ملک میں احتساب کے نام پر کبھی بھی کچھ نہیں ہوااور نہ ہی اس حوالے سے اچھی خبر دیکھنے کو ملتی،پہلی بات تو احتساب ہوتا ہی نہیں،اگر ہوتا بھی ہے تو احتساب کے نام پر کھلواڑ ہی کیا جاتا،یہاں احتساب ہوتا بھی تو محض ایک ڈھکوسلا اور فریب ہوتا،ملزم چھوٹ جاتے اور احتساب کا عمل مشکوک اور مبنی بر انتقام ٹھہرتا۔ایک ہی واقعے پر کوئی نااہل قرار پاکر گھر چلا جاتا اور کوئی ایسے ہی واقعے میں نااہل ہوکر جیل کی کال کوٹھریوں کا حصہ بنتا،مخالفین پر ستم ڈھائے جاتے اور منظور نظر افراد خصوصی شفقت کے حقدار ٹھہرتے،کیا کیا بتاؤں،کچھ بھی تو ڈھکا چھپا نہیں،سب کچھ تو سب پر عیاں،کیا ہورہا،کیا ہونے والا،کیا ہوگا،کیا نہیں ہوگا،سبھی تو جانتے،بس سبھی نے جانتے ہوئے بھی نا جاننے کا ڈرامہ اور سوانک رچا رکھاہے،ان کرتا دھرتاافراد نے،جوعوام کو بے وقوف ،احمق بنانے کے فن سے بخوبی واقف ہیں،سب اچھا کی امید دے کر، جھوٹی طفل تسلیاں ،دلاسوں،لاروں کی آڑ میں ،اچھا وقت بھی آئے گا ، کی امید پرعوام کو ٹرک کی بتی پیچھے لگا رکھا ہے،نہ کسی سمت کا تعین ،نہ کسی راستے کا پتا،نجانے کس امید،یقین دہانی،بات،نئے پاکستان کی ’’شمع اساں ایسے لئی جگائی ہوئی اے‘‘کا اراگ الاپ رہے،اندھیرے بھی وہی ہیں اور جگمگا بھی کوئی نہیں رہا،نجانے وہ کون سی صورتحال کا عوام کو سامنا ہے ،جس کی کرنیں بھولے سے بھی ابھی تک لوگوں تک پڑنے والی نہیں،مہنگائی،بے روزگاری پر کنٹرول نہیں ہوپارہا،وسائل کی بندربانٹ اور لوٹ مار کا سلسلہ اب بھی تھما یا رکا نہیں،اداروں میں کرپٹ عناصر کی موجودگی اب بھی ہے اورکرپشن و بے ایمانی پر کوئی روک تھام نہیں،عوام پہلے کی طرح اب بھی چوکیوں ،تھانوں ،دفاتر میں ذلیل ورسوا ہورہے اورمسیحا کوئی نہیں،روپوں کی چمک دھمک ،پیسوں کی جھنکاراور چکاچوند میں سب اچھا اور اس کے بغیر کچھ بھی ٹھیک نہیں،پہلے سے بھی بری صورتحال ہے،ٹھیک ہوا کچھ بھی نہیں،ایسے میں آصف زرداری کا بیان’’حکومت اپنی مدت پوری نہیں کرے گی،سوال ہی نہیں پیدا ہوتا‘‘ میں کون سی اچھنبے والی بات ہے،کچھ بھی ہوسکتا، سیاست میں کوئی بھی چیز حرف آخر نہیں ہوتی اور پھر یہ ایک ایسا ملک ہے کہ جہاں کسی بھی لمحے کچھ بھی ہوسکتا،آصف زرداری گھاگ سیاستدان ،مفاہمت کے بادشاہ ، نے اگر یہ بات کہی ہے تو کسی بنیاد پر کہی ہوں گی،یقیناًکوئی نہ کوئی بات ضرور ہے ،نواز ومریم کی معنی خیز خاموشی،زرداری کی پرجوشی،دال میں کچھ تو کالا ہے،کچھ بعید نہیں کہ ہوا مخالف رخ چل پڑے،ہوسکتا اندر کھاتے کوئی یقین دہانی ہوگئی ہویا امید ہو چلی ہو،( حکومت کے خلاف سازشیں تو پنپ رہی ہیں،اس کے اثرات کہیں نہ کہیں تو جا کر گرنے ہی، ) جو زرداری صاحب فرمارہے کہ’’حکومت اپنے پانچ سال پورے کرتے نظر نہیں آرہی‘‘ورنہ جس طرح کی صورتحال ہے ،جس میں سب ادارے ایک پیچ پر ہو، خصوصا ملکی سسٹم کی بساط لپیٹنے والے،من مرضی کے الیکشن نتائج لینے والے ادارے پوری بلکہ بری طرح حکومت کے ساتھ دائیں بائیں اس کو سہارا دئیے کھڑے ہو،اور پھر یہ کہ وزیر اعظم بمع حکومتی کرتا دھرتاان کے سامنے بلا چون و چرا کیے ،سر جھکائے،ہرحکم سر تسلیم خم کرتے ایک کوارڈنیشن کے ساتھ چل رہے ہوتو کیسے ممکن ہے کہ وزیر اعظم یا اسکی حکومت اپنی آئینی مدت پوری نہ کرسکے، پتا نہیں زرداری صاحب کو ’’اندھے کو اندھیرے میں بڑی دور کی سوجھی‘‘کہ ایسا بیان دے بیٹھے،یقیناًاس میں کوئی نہ کوئی راز ضرور ہے،جس سے پردہ اٹھنا بہت ضروری ہے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*