ماں

ماں
عرق حیات
دنیا کا وہ واحد لفظ کہ جس کو ادا کرتے ہو زبان میں مٹھاس کا احساس ہوتا ہے.’ماں ” جس کے پاس ہونے سے سکون اور محبت کا احساس ہوتا ہے.”ماں ” رب کائنات کا بنایا ہوا وہ واحد رشتہ ہے کہ جو بنا کسی لالچ اور غرض کہ ہے۔اپنی خواہشات کو دبا کر اپنی اولاد کی ہر خواہش پوری کرنا یہ ایک ماں ہی کر سکتی ہے.اپنی اولاد کے لیے سخت دھوپ میں ایک ٹھنڈا سایہ ہے.خود گیلے بستر پر سو سکتی ہے لیکن اپنی اولاد کو خشک اور آرام دہ جگہ پر ہی سلاتی ہے.ماں ہی ہے جو خود بھوک برداشت کر لیتی ہے لیکن اپنی اولاد کو بھوکا سونے نہیں دیتی.دنیا جہان کے دکھ تکالیف برداشت کر سکتی ہے لیکن اپنی اولاد کو تکلیف میں نہیں دیکھ سکتی
اپنی اولاد کو ہر پل خوش دیکھنے کے لیے غموں کے آگے چٹان بن کر کھڑی ہو جاتی ہے. ”ماں ” دنیا کا سب سے عظیم رشتہ۔ماں کی شان ماں کی عظمت خدا نے اس کے قدموں تلے جنت رکھ کہ بیان فرمائی ہے۔چاہے جو بھی حالات کیوں نہ ہوں ماں کو اپنی اولاد سے بڑھ کر کچھ بھی پیارا نہیں اور نہ کبھی اولاد کے لیے ماں کی محبت کبھی کم ہوئی اور نہ ہو سکتی ہے…ماں تو بذات خود محبت کا سمندر ہے جو کہ کبھی کم نہیں ہوگا
اور اس محبت کو کبھی بھی الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی ماں کی محبت اور قربانیوں کا کوئی نعم البدل ھے نہ ہوگا کبھی.یہ وہ عظیم ہستی ہے کہ اپنے رب سے بھی اپنے لیے کبھی کچھ نہیں مانگے گی. بلکہ جب بھی مانگے گی اپنی اولاد کے لیے ہی مانگے گی اولاد کی سلامتی اور خوشحالی ہی مانگے گی.دنیا میں جنت ہمیں اللہ نے ماں کی صورت میں ہی عطا کی ہے اور بہت خوش قسمت ہیں وہ لوگ جنھوں نے اس دنیا میں ہی جنت کو پایا اس کی قدر کی اور محبت کی.اللہ نے ماں کو ہی یہ صفت عطا کی ہے کہ وہ سب کچھ جانتی ہے.بچے کب کس وقت پریشان ہیں,خوش ہیں ماں کو علم ہوتا ہیبچوں کو کیا چاہیے ان کے بنا کہے ہی ماں سمجھ جاتی ہے۔گھر میں ماں کی اپنی اک الگ ہی خوشبو ہوتی ہے اور اس خوشبو کا بھی کوئی متبادل نہیں
میرے لیے سب سے مشکل ہوتا ہے ماں کے لیے کچھ لکھنا کیونکہ میں سمجھتی ہوں کہ اس رشتے کی شان کے لیے الفاظ بہت کم ہیں اور اگر ہیں بھی تو بیان کرنے سے قاصر ہوں.میں آج جس مقام پر بھی ہوں اپنی امی کی بدولت ہی ہوں۔میری امی میرے لیے ہمت و حوصلہ کی عظیم مثال ہیں۔زندگی میں بہت بار ایسا وقت آیا کہ جو سہن کرنا بہت مشکل تھا لیکن ان حالات میں بھی امی ایک مضبوط چٹان کی طرح رہی ہیں
قدم قدم پر ساتھ اور ہمت دینا یہ ماں کے علاوہ کوئی اور کر ہی نہیں سکتا.اسی لیے تو کہتی ہوں ہمیشہ کہ ”میری امی میری پہلی درسگاہ, پہلی محبت اور میرا فخر ہیں ”۔مالک کریم سے دعا ہے کہ وہ سب کی ماؤں کو سلامت رکھے۔اچھی صحت والی لمبی زندگی عطا کرے۔اور اولاد پر ماں کا سایہ ہمیشہ سلامت رکھے۔سب کو توفیق دے کہ دنیا میں اس جنت کی قدر کریں (آمین)

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*