بنیادی صفحہ -> اداریہ،کالم -> گریٹر فارس سے گریٹر اسرائیل تک
بادشاہ خان

گریٹر فارس سے گریٹر اسرائیل تک

گریٹر فارس سے گریٹر اسرائیل تک
بادشاہ خان

گریٹر اسرائیل کے قیام کے لئے ضروری ہے کہ مسلمان ریاستوں کو مزید چھوٹے ٹکڑوں میں تقسیم اور جنگوں میں الجھایاجائے،اسی طرح عظیم فارس کے تشکیل نو کے لئے عرب ممالک کی مزیدتقسیم ضروری ہے،ورنہ یہ دونوں خواب پورے نہیں ہوسکتے،اور ان کے تکمیل کے لئے کئی ممالک کی خفیہ ادارے مشرق وسطی میں سرگرم ہیں،اور ان دو خوابوں کی تعبیر کے لئے ان دونوں ملکوں کے درمیان جنگ ہونا ممکن نہیں، کیونکہ دونوں کے خواب کے درمیان ہدف عرب ممالک ہیں، اس کا ایک ثبوت خطے میں گذشتہ کئی برسوں سے جاری جنگ ہے جس سے یہ دونوں محفوظ ہیں، تاہم ان کے درمیان غیراعلانیہ مفاہمت اب دنیا کے سامنے آشکار ہورہی ہے،وہی ہوا جس کا ذکر ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کی امریکی حملے میں ہلاکت کے فورا بعد ہم نے لکھا تھا،کہ امریکہ ایران میں جنگ بہت ہی مشکل ہے،دونوں کے مفادات مشرق وسطی میں ایک ہیں، صرف بیان بازی ہوگی اور دعووں کے بعد یہ ہوائی فائرنگ بند ہوجائے گی، تیسری عالمی جنگ کا شوشا چھوڑنے والے منہ چھپے خاموش ہیں،اسے سارے واقعے میں اگر کوئی خوش ہے تو وہ شامی عوام ہیں جو جنرل قاسم سلیمانی کے مظالم سے تباہ ہوگئے، اور اگر کہیں سوگ ہے تو وہ یوکرین ہے،جس کامسافر بردار طیارہ ایرانی فوج کو جنگی جہاز معلوم ہو ا،اور اسے مار گرایا،جس میں خود کئی ایرانی مسافر بھی جان سے ہاتھ دھوے بیٹھے، لیکن اس پورے جنگی ماحول میں ایک بھی امریکی فوجی نہیں مرا، اسے کہتے ہیں، فیس سیونگ،اور میڈیا کی طاقت، مچھر کو میزائیل اور میزائیل کو پٹاخہ بنانا، اور ہاں ایک بات اور تیسری جانب اس پالان جنگی ماحول میں عرب ممالک کو اندرون خانہ ڈرایا گیا، کہ ایران یہ کردے گا،وہ کردے گا، سوال یہ ہے کہ ایرانی جنرل امریکہ نے مارا ہے، ایران عرب ممالک کو نشانہ کیوں بنائے گا،؟اسرائیل کو کیوں نہیں؟
امریکہ اپنے ناجائز بچے اسرائیل کو طاقتور کرنے اور عرب ممالک کو ڈرانے میں ایک بار پھر کامیاب رہا ہے، اور اس سارے ڈرامے میں ایران کا کردار کسی سے پوشیدہ نہیں، گذشتہ ستربرسوں سے ایران، اسرائیل،اور امریکہ میں لفاظی جنگ جاری ہے، جس سے امریکہ اور اسرائیل نے بھرپور فائدہ اٹھایا،کچھ دانش فروش اس پر چپ سادھ لیں یا اس کے لئے طویلیں پیش کریں تو ہم کیا کہہ سکتے ہیں،اب آتے ہیں شام میں جاری پراکسی وار کی طرف جس کئی ممالک فرنٹ لائن پر سامنے ملوث ہیں،جن میں روس،امریکہ اپنے مفادات کے تحفظ کے لئے سرگرم ہیں جبکہ ایران کا کردار یمن سمیت شام عراق میں کھل کر سامنے آچکا ہے ایرانی حکام کے تو کھلے عام بیانات اور شواہد سامنے آچکے، کہ وہ شام،عراق،اور یمن کے جنگ میں ملوث ہے،اور رہی بات سعودی عرب کی تو وہ بھی بیانات جاری کرتا رہتا ہے،شام بلکہ عرب ممالک میں جاری پراکسی وار زمینی جنگ کی شکل میں میں وسیع ہوتی جارہی ہے،گذشتہ برس ترک صدر کا بیان اسی بات کی نشاہدی کرتا ہے کہ یہ آگ اس کے سرحدوں میں داخل ہونے کو ہے،سوال یہ ہے کہ ان سب جنگوں کے پس پشت کون ہے؟کون اس دہکتی جنگ میں بھی محفوظ ہے؟ کس کے لئے مسلم ممالک کو مزید ٹکڑوں میں تقسیم کیا جارہا ہے؟بلکل سامنے کی بات ہے مگر امت مسلمہ کے حکمران مدہوش ہیں اپنے اصلی دشمن اور اس کے ساتھیوں کو پہچان نہیں پارہے،وہ ہے اسرائیل،،جس کے مستقبل کے لئے ضروری ہے کہ اسے طاقت ور بھی کیا جائے اور اس کے سامنے خطے میں کوئی ملک کھڑاہونے کی صلاحیت نہ رکھتا ہوں، گریٹر اسرئیل کے قیام کے لئے ضروری ہے کہ اسلامی ممالک کو تقسیم کیا جائے،
اسی تناظر میں اچانک سے جنوری 2011ء کے مصری عوامی بغاوتی تحریک کے نتیجے میں مستعفی ہونے والے سابق مصری صدرحسنی مبارک نے تہلکہ خیز انکشافات کئے ہیں،اقتدارسے بیدخلی کے بعد عرب جریدے کو پہلاانٹرویو دیتے ہوئے حسنی مبارک کہا تھا کہ عرب ممالک کے پاس مزید دیر کرنے کا چانس ختم ہوگیا ہے۔۔ گریٹر اسرائیل کے لئے قیام کے لئے عرب اراضی کا سودا ہو رہا ہے۔تل ابیب سے امریکی سفارت خانے کی بیت المقدس منتقلی۔ گولان پراسرائیلی خود مختاری تسلیم کرنا اسی سلسلے کی کڑی ہے۔۔ حسنی مبارک کے مطابق اسرائیل غزہ کی پٹی کو مغربی کنارے سے الگ کرنے کے لئے کوشاں ہے۔۔ اس خواہش کا اظہار نیتن یاہونے 2010ء میں ان سے کیا جس پر مشتعل ہوکر انہیں خبردار کیا تھا کہ یہ مطالبہ مصر اسرائیل جنگ کاسبب بن سکتا ہے۔۔غزہ کی پٹی اسرائیلی یہودی بستیوں کی تعمیر کی نیت سے خالی کرنے کے لئے ان سے مطالبہ کیاتھاکہ وہ مصری سرزمین جزیرہ نمائے سیناء کی ایک پٹی کو خالی کرادے جسے اسرائیل فلسطینیوں کے لئے بسائے گا جبکہ غزہ کی پٹی اسرائیل کی یہودی بستیوں کے لئے مختص کردی جائے گی۔اس مطالبہ پر انتہائی مشتعل ہوکر انہوں نے انہیں خبردارکردیاتھا کہ وہ آئندہ اس موضوع پربحث نہ کریں ورنہ ایک مرتبہ پھر مصراسرائیل جنگ چھڑ سکتی ہے۔حسنی مبارک نے بتایا کہ اگر ڈیل آف دی سنچری کااعلان ہوجاتا ہے تو اس کے بعد عربوں کے پاس ایکشن لینے اوراپنااحتجاج ریکارڈ کا کوئی موقع نہیں رہے گا۔
یہ وہ پس منظر ہے جس میں گریٹر اسرائیل کے لئے راہ ہموار کی جارہی ہے،عرب ممالک کو ایرانی ہوا سے ڈرانے کے پس منظر میں اسرائیلی ایجنڈے کی تکمیل کا وقت آگیا ہے، امت مسلمہ بالخصوص عرب ممالک نے گذشتہ برسوں میں شام اور فلسطین کے حوالے سے جو بے حسی اختیار کی اس کا انجام اب ان کے گھروں تک پہنچ چکا ہے، اس صورت حال میں بھی مغرب،اور اس کا ناجائز بچہ اسرائیل پیچھے سے ڈوریاں ہلانے میں مصروف ہے دونوں فریقوں کے ساتھ مختلف چینلز سے رابطے میں ہے،جس سے ایسا لگتا ہے کہ وہ اپنی پلاننگ میں کامیاب ہوجائے گا(اللہ کرے ایسا نہ ہو)اور اگر ایسا ہوجاتا ہے تو صرف چند برسوں میں کئی چھوٹے چھوٹے مسلم ممالک دنیا کے نقشے پر نمودار ہونگے اور دوسری طرف پورے خطے میں اسرائیل کو چیلنج کرنے والا کوئی نہ ہوگا(ابھی بھی نہیں ہے)اور گریٹر اسرائیل کے فری میسن کے نقشے کی وساطت میں خیبر بھی شامل ہے اور خیبر سعودی عرب میں ہے جہاں سے حضرت عمرؓ نے ان یہودیوں کو نکل باہر کیا تھا، وہاں تک حکومت حاصل کرنا یہودیوں کا خواب ہے۔
حسنی مبارک کی بقول عربوں کے پاس وقت بہت کم رہ گیا ہے، بلکہ میں تو یہ کہونگا کہ امت مسلمہ کے پاس فلسطین و شام کے حوالے سے مضبوط فیصلوں اور اقدامات کے لئے وقت کم ہے،بادی النظر میں ایسا محسوس ہورہا ہے کہ عرب ممالک شائد ماضی کی طرح اتحاد کا مظاہرہ نہ کرسکے، کیونکہ تھانیدار کی موجودگی سے عرب ممالک مضبوط فیصلہ شائد نہ کرسکیں، مگر سوال استحکام کا ہے، عرب اسپرنگ اور جنگ کا نیا مرحلہ شروع ہونے کو ہے، اور اس کا ایک اہم ذمہ دار ایران بھی ہے،دیکھنا یہ ہے کہ اس بار اس صورت حال سے کونسے ممالک کی معیشت متاثر ہوگئی، اس وقت سعودی معیشت اس کا اہم ہدف ہے،وقت کم ہے اور گریٹراسرائیل کے منصوبے کو عملی جامہ پہنانے والے بے چین ہیں۔ایران امریکی جنگ تو نہ ہوئی،البتہ تھانیدار عرب ممالک کو ڈرانے میں کامیاب رہا ہے،

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*