بنیادی صفحہ -> اداریہ،کالم -> طبی سہولیات کی کمی و طبی عملے پر تشدد کا بڑھتا ہوا رجحان کیوں؟
طبی سہولیات

طبی سہولیات کی کمی و طبی عملے پر تشدد کا بڑھتا ہوا رجحان کیوں؟

طبی سہولیات کی کمی و طبی عملے پر تشدد کا بڑھتا ہوا رجحان کیوں؟
بادشاہ خان
ایک سروے کے مطابق اسپتال میں داخل ہونے والوں میں سے 40%مریضوں کو اپنے علاج کے اخراجات برداشت کرنے کے لئے قرض لینا پڑتا ہے یا اپنی جائداد فروخت کرنا پڑتی ہے ایک اندازے کے مطابق اسپتال میں داخل ہونے والا ہر چوتھا مریض خط افلاس سے نیچے آجاتا ہے ۔صحت کا شعبہ کسی بھی ملک کی ترقی میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے ،اورحکومت کی یہ بنیادی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ ملک کے ہر شہری کو بنیادی صحت کی سہولتیں فراہم کرے ،پاکستان میں طبی سہولیات کی ناقص صورت حال کی وجہ سے ہر ایک منٹ بعد ایک بچہ ہلاک ہو جاتا ہے ۔پاکستان میں ہر سال بہت سے مریض صرف غربت کی وجہ سے اسپتال کا خرچ نہیں اٹھا پاتے اور اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ دیہی علاقوں میں مراکز صحت کی بڑی تعداد عملے اور دواؤں سے محروم ہے ۔ شہروں میں بھی چند سرکاری اسپتالوں کو چھوڑ کر بیشتر سرکاری ڈسپنسریوں کی حالت غیرتسلی بخش ہے ۔صرف شہر قائد کراچی میں 1980 کے بعد تاحال کوئی بڑا سرکاری اسپتال نہیں بن سکا، کراچی میں جو اسپتال سرکاری موجود ہیں ،موجود بڑے اسپتال اسی کی دہاہی سے قبل بنائے گئے ہیں، اور دوسری جانب آبادی کا اژدھام ہے کہ ہزار گنا بڑ چکا ہے ،سہراب گوٹھ، نادرن بائی پاس اور بن قاسم ٹاون کے مرکزی شاہراوں پر کوئی بڑا اسپتال نہیں ہے ،یہ صرف ایک شہر کا حال ہے ،پورے میں سرکاری سطح پر سہولیات کی کمی کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔
دنیا بھر میں حکومتیں اپنی عوام کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کے لئے کوشاں ہیں،اور اس اہم بنیادی عوامی شعبے میں کوتاہی برادشت نہیں کی جاتی ،وقتا فوقتا طبی عملے کی تربیت بھی جاری رہتی ہے ،دوسری ترقی پذیر ممالک میں طبی سہولیات کی فراہمی،طبی عملے کی کمی سے لیکرعوام اور حکومت کی عدم توجہی کی وجہ سے یہ اہم شعبہ کئی مسائل سے دچار ہے،جس کی وجہ سے عوام اور طبی عملے میں ڈپریشن بڑھ رہا ہے،حکومتی چیک اینڈ بیلنس کمزور ہونے کی وجہ سے طبی عملہ اپنے آپ کوپابند نہیں سمجھتا ،یہ اثرات سرکاری اور نجی دونوں طبی شعبوں میں نظر آرہے ہیں،جس کی وجہ سے طبی عملے پر تشدد کا رجحان بڑھ رہا ہے،پاکستان بھی ان ممالک میں شامل ہے جہاں طبی سہولیات کی کمی و دیگر وجوہات کی وجہ سے تیمارداروں کی طرف سے طبی عملے پر تشدد بڑھ رہا ہے جس کے روک تھام کے لئے عوام و طبی عملے دونوں کی آگاہی میں اضافے کے لئے کام کی ضرورت ہے۔
پاکستان میں سرکاری سطح پر حکومت کی جانب سے فراہم کی جانے والی سہولیات کے بارے میں دعوی کیا جاتا ہے کہ سب کچھ فری برابری کی بنیاد موجود ہے ،مگر ایسا نہیں ہے،ہر جگہ کرپشن موجود ہے ،ادویات میں کمیشن،کمیشن کی لالچ میں غیر معروف ادویات کی خرید،مہنگی سرکاری ادویات کا بازار میں فروخت،ڈاکٹروں کا وقت پر نہیں آنا ،مقامی سطح پر بی ایچ یوز ، ضلعی اور ٹاون ،تحصیل سطح پر قائم رورل سینٹر کا غیر فعال ہونا،بڑے اسپتالوں کے عملے پر ورک لوڈ ، نئے اسپتالوں کا نہ بننا،سرکاری ڈاکٹروں کا نجی اسپتالوں کا چلانا ،سرکاری اسپتال میں موجود جدید طبی آلات کی کمی اور خرابی،سرکاری عملے کا عوام اور تیمارداروں سے بدتمیزی ،اپنی غلطی تسلیم نہیں کرنا ،عوام کی جانب سے علاج میں جلدی کی خواہش ،تعلیم کی کمی،اسپتالوں میں موجود کاونٹرز پر معلومات فراہم کرنے والوں کی کمی،پرچی سے لیکر معائنہ تک مریضوں کا خوار ہونا ،اور اس کے بعد لکھے گئے ٹسٹ کروانا جوئے شیر لانے کے مترادف بن چکا ہے ،اس کے علاوہ بے روزگاری ،ایکسیڈنٹ سمیت کئی دیگر وجوہات بھی شامل ہیں،جس کی وجہ سے یہ تشدد کا رجحان دونوں جانب سے بڑھ رہا ہے جس کی بنیادی وجہ حکومتی چیک اینڈ بیلنس کا نا ہونا،پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا غیر فعال ہونا،قابل ڈاکٹروں کی کمی،طبی تعلیم فراہم کرنے والے اداروں میں اکثر کی پست معیار تعلیم بھی وجوہات میں شامل ہے۔دوسری جانب نجی ادارے دو اقسام کی ہیں ایک غیر سرکاری اداروں ،تنظیموں کی جانب سے فراہم کی جانے والی مفت طبی سہولیات جس سے عوام کافی حد تک مطمئن ہے مگر یہ محدود اور آٹے سے نمک کے برابر بھی نہیں ہے ، اور دوسری قسم نجی(پرائیویٹ )اسپتالوں کو حد سے زیادہ کمرشلز ہونا ، جہاں علاج کرنا عام آدمی کے پہنچ سے باہر ہوگیا ہے جس کی وجہ سے ملک کی اکثریتی آبادی ان اسپتالوں میں علاج سے محروم ہے یہ بھی ڈپریشن کی ایک اہم وجہ ہے۔
پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کی رپورٹ کے مطابق ملک میں اسپتالوں کی تعداد انتہائی ناکافی ہے ۔صحت پر GDPکا صرف 0۔۔۔7فیصد لگایا جاتا ہے جو کہ انتہائی ناکافی ہے ۔ اس پر مستزاد کرپشن اور بدعنوانی کی عفریت ہے ۔ لہٰذا چھوٹے شہروں اور قصبوں کو تو جانے دیجیے ، بڑے شہروں میں سرکاری اسپتال زبوں حالی کی منہ بولتی تصویر بنے ہوئے ہیں۔غریب اور نچلے متوسط طبقے کے لوگ جو کل آبادی کا 70فیصد کے لگ بھگ ہیں انھی سرکاری اسپتالوں میں علاج کروانے پر مجبور ہیں، جہاں ہر قسم کی طبی سہولیات کا فقدان ہے ۔ امراء اور مقتدر اشرافیہ سے تعلق رکھنے والے خاندان بیرون ملک علاج کروانے کو ترجیح دیتے ہیں۔ مقتدراشرافیہ سیاسی اور غیر سیاسی اپنے علاج کا بوجھ سرکاری خزانے پر ڈالتی ہے ۔ جب کہ دولت مند اور متمول افراد کے لیے ملک اندر گو کہ گنتی کے چند ہی پنج ستارہ قسم کے اسپتال موجود ہیں، جہاں وہ پرآسائش انداز میں اپنا علاج کرواتے ہیں۔یہ حقیقت ہے کہ ملک میں نجی زمرے کے اسپتال بھاری منافع کمارہے ہیں۔
دوسری جانب ملک میں میڈیکل کالجوں کی تعداد بھی نہ ہونے کے برابرہے جہاں سے ہر سال ڈاکٹر بننے والوں کی تعداد انتہائی کم ہے ہے ۔ملک میں بڑھتی آبادی کو دیکھتے ہوئے میڈیکل کالجوں اور میڈیکل طلبا کی تعداد دگنی کرنے کی ضرورت ہے ۔ ایک رپورٹ کے مطابق ملک میں ڈاکٹروں، نرسوں اور دانتوں کے ڈاکٹروں کی کمی ہے ،کئی وجوہات ہیں اور حل بہت ہی سادہ اور آسان ہے ، ملک بھر میں مقامی سطح پر قائم غیر فعال صحت کے مراکز کو فعال کرنا،ضلعی سطح پر ایک اچھے اور بڑے اسپتال کا قیام ،ڈاکٹرزو طبی عملے کی تربیت پر توجہ اور چیک اینڈ بیلنس کو سخت بنانا آدھے مسائل کم ہوسکتے ہیں اگر صرف یہ ہی کرلیا جائے ۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*