بنیادی صفحہ -> اداریہ،کالم -> رمضان المبارک کا دوسرا عشرہ مغفرت

رمضان المبارک کا دوسرا عشرہ مغفرت

رمضان المبارک کا دوسرا عشرہ مغفرت
بادشاہ خان
اللہ کے محبوب ﷺ نے فرمایا جو شخص کثرت سے استغفار کرے گا،اللہ ہر تنگی سے اس کو نجات دے گا، اور دوسری جگہ فرمایا کہ کسی مومن بندہ کی آنکھوں سے آنسو ندا مت کے اور اللہ کے خوف سے نکل آئیں اگر چہ وہ مکھی کے سر کے برابر ہوں، تو اس چہرے پر اللہ تعالی جہنم کی آگ حرام فرمادیتے ہیں۔سبحان اللہ رب کتنے رحیم اور مہربان ہیں، بس اس کی طرف متوجہ ہونے کی دیر ہے، اللہ تو اپنے بندوں کو نوازنا چاہتا ہے، کوئی سائل مانگ کر تو دیکھے،در در کی ٹھوکروں سے نجات نہ مل جائے تو پھر کہنا،ایک کو چھوڑ کرہزاروں الہ کے پیچھے بھاگنے سے معاشرے تباہ ہوگئے ہیں،گناہ کو گناہ سمجھنے کا تصور ختم ہوکر رہ گیا ہے، دل گناہوں کی سیاہی کی وجہ سے سخت ہوگئے ہیں،ہمارے حضرت مولانا شاہ حکیم اختر ؒ فرماتے تھے آج کل اس پر فتن دور میں ہم روحانیت سے کٹ کر مادیت کی طرف دوڑ رہے ہیں جس کی وجہ سے اعمال صالحہ سے غفلت اور گناہوں کی طرف رغبت بڑھتی جارہی ہے اور توبہ استغفار کا تصور ختم ہوتا جارہا ہے حالانکہ اللہ کی ذات سب سے زیادہ رحیم و کریم ہے برابر توبہ کرتے رہیں۔
رمضان المبارک کا دوسرا عشرہ شروع ہوچکا ہے،اللہ تعالیٰ نے رمضان المبارک کو اپنا مہینہ قرار دیا ہے۔ اس مہینے میں رحمت‘ مغفرت اور جہنم سے آزادی کو مسلمانوں کے لئے عام کر دیا جاتا ہے اور جو لوگ نیک کام کرتے ہیں وہ فائدے میں رہتے ہیں اور برائی کرنے والے اور دور ہو جاتے ہیں۔ رمضان کا دوسرا عشرہ آپﷺ نے فرمایا مغفرت ہے‘ یعنی اس میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے بخشش عام ہو جاتی ہے اور جو لوگ اللہ کے سامنے جھکتے ہیں اور اپنے گناہوں پر نادم ہوتے ہیں۔ اللہ ان کی مغفرت کر دیتا ہے اور توبہ کرنے میں جلدی کرنی چاہیے اور اس مبارک مہینے میں تو ہر عمل کا ثواب بڑھ جاتا ہے اور جو اس مہینے میں بھی مغفرت سے محروم رہ جائے تو بدنصیبی نہیں ہے تو کیا ہے۔
آپﷺ نے ایک مرتبہ فرمایا کہ منبر کے قریب ہو جاؤ حضرت کعبؓ فرماتے ہیں ہم لوگ حاضر ہوگے جب آپﷺ نے منبر کے پہلے درجہ پر قدم رکھا تو فرمایا آمین جب دوسرے پر قدم رکھا تو پھر فرمایا آمین۔ جب تیسرے درجے پر قدم رکھا تو پھر فرمایا آمین۔ جب آپﷺ خطبے سے فارغ ہو کر نیچے تشریف لائے تو ہم نے عرض کیا کہ ہم نے آج آپ سے (منبر پر چڑھتے وقت) ایسی بات سنی جو پہلے کبھی نہ سنی تھی۔ آپﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اس وقت جبرئیل علیہ السلام میرے سامنے آئے تھے (جب پہلے درجہ پر میں نے قدم رکھا تو) انہوں نے کہا کہ ہلاک ہو جائے وہ شخص جس نے رمضان المبارک کا مہینہ پایا پھر بھی اس کی مغفرت نہ ہوئی میں نے کہا آمین پھر جب میں نے دوسرے درجہ پر چڑھا تو انہوں نے کہا ہلاک ہو جائے وہ شخص جس کے سامنے آپﷺ کا ذکر ہوا اور وہ درود نہ بھیجے میں نے کہا آمین۔ جب میں تیسرے درجہ پر چڑھا تو انہوں نے کہا ہلاک ہو وہ شخص جس کے سامنے اس کے والدین یا ان میں سے کوئی ایک بڑھاپے کو پہنچے اور وہ اس کو جنت میں داخل نہ کرائیں میں نے کہا آمین۔
اس حدیث میں حضرت جبرئیل علیہ السلام نے تین بددعائیں کی ہیں اور آپﷺ نے ان تینوں پر آمین فرمائی اور پہلا وہ شخص ہے جو رمضان المبار ک کے مہینے میں بھی کامیاب نہ ہوسکے اور رمضان کا مہینہ ضائع کر دے اور توبہ نہ کرسکے اور نہ تلاوت تراویح پڑھ سکے تو اس سے بڑا محروم کون ہوگا۔ توبہ کرنے میں جلدی کرنی چاہیے۔
حضرت ابولیلث سمرقندیؒ نے تنیبہ الفافلین میں لکھا ہے کہ:
حضرت آدم علیہ السلام کی توبہ پانچ باتوں کی وجہ سے قبول ہوئی اور شیطان کی توبہ پانچ باتوں کی وجہ سے رد کر دی گئی۔
حضرت آدم علیہ السلام کی توبہ کی قبولیت کے اسباب:
-1حضرت آدم علیہ السلام نے اپنے گناہ کا اقرار کیا۔
-2اس پر شرمندہ ہوئے
-3جلدی سے توبہ کی طرف متوجہ ہوئے
-4اپنے نفس کو ملامت کیا۔
-5اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہوئے۔
اور شیطان کی توبہ قبول نہ ہونے کے اسباب:
-1اپنے گناہ کا اقرار نہ کیا۔
-2اپنے فعل پر شرمندہ نہ ہوا۔
-3نفس کی ملامت نہ کی (تکبر مانع رہا)
-4توبہ کرنے میں جلدی نہ کی(بلکہ اللہ کے مقابلے میں اکڑتا رہا)
-5اللہ کی رحمت سے مایوس ہوگیا۔
میرے بھائیو، بہنوں اوربزرگوں رمضان المبارک کا مقدس مہینہ کہیں چینلز دیکھنے میں نہ گزر جائے۔جس پر انعامات کی لالچ اور دین سے دوری کی سوا کچھ نہیں دیکھایا جارہا، کہیں فیس بک اور سوشل میڈیا پر سیلفیوں میں نہ ضائع ہوجائے، زندگی کا کوئی بھروسہ نہیں، آنے کی ترتیب ہے مگر دنیا سے رخصت ہونے کا کسی کو اندازہ نہیں،اب بھی وقت ہے، مغفرت کا عشرہ تیزی سے گذر رہا ہے، کہیں دیر نہ ہوجائے،دوستوں گنہگاروں کا رب بھی اللہ ہے اور نیکوں کابھی وہی ہے اللہ کو چھوڑ کر ہم کہاں جائیں گے اور کوئی راہ بھی نہیں ہے، توبہ واستغفار کا اہتمام نہایت ضروری ہے شیطان تو توبہ سے روکے گا لیکن اور کوئی راستہ نہیں، قرآن میں ارشاد باری ہے کہ؛ اللہ تعالی توبہ کرنے والوں کو محبوب رکھتے ہیں، مزید فرمایا اور مستغفرین تائبین کو اللہ ایسی جگہ سے روزی دیتا ہے جہاں سے ان کا گمان بھی نہیں ہوتا۔دوستوں تلاوت‘توبہ‘ذکر اذکار مراقبہ اس میں وقت لگانے کی کوشش کیجئے… رمضان کا دوسرا عشرہ شروع ہو چکا ہے اور یہ خصوصی مغفرت کا عشرہ ہے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ مغفرت سے محروم رہ جائیں۔ اللہ مجھے اور تمام مسلمانوں کو توبہ کرنے کی توفیق نصب فرمائیں۔ آمین

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*