بنیادی صفحہ -> اداریہ،کالم -> فکر و عمل کی بات کرو… کالم نویس سلمان احمد قریشی
فکر و عمل

فکر و عمل کی بات کرو… کالم نویس سلمان احمد قریشی

فکر و عمل کی بات کرو
سلمان احمد قریشی
(فکر و عمل کی بات کرو)راقم الحروف نے اپنے گزشتہ کالم میں یہ سمجھانے کی جسارت کی تھی کہ فکری کم ظرفی سچائی کی سب سے بڑی دشمن ہے۔ امید تھی درد مند فکری بیداری کا ثبوت دیں گے ۔ قارئین اور کچھ احباب نے تو اتفاق کرتے ہوئے تائید کی مگر ایک بڑی اکثریت پر خاموشی چھائی دکھائی دی۔ شائد آج ہمارے پاس اخبارات کی ورق گردانی کیلئے وقت ہی نہیں۔ محبتوں کے فقدان، اپنائیت کی جگہ خود غرضی اور مصنوعی پن نے معاشرے میں بگاڑ پیدا کیا۔ آج خود غرضی کا عنصر ہر طرف نمایا ں ہے ۔ ذاتی مفادات اجتماعی فوائد پر غالب ہیں۔ احساس ذمہ داری اور اجتماعی سوچ کی جگہ مفادات اور خواہشات کے اسیر ریڈی میڈ صحافی جن کا اعجاز ہے وہ کچھ بھی کر سکتے ہیں مگر نہیں کر سکتے تو سچائی کا ساتھ نہیں دے سکتے ۔ حق کے ساتھ کھڑے نہیں ہو سکتے اپنے پیشہ ورانہ فرائض کی ادائیگی میں ز مینی خداؤں کے سامنے سینہ سپر نہیں ہو سکتے ۔ معاشرتی بگاڑ اپنی جگہ صحافیوں کا یہ کردار اس سے بھی زیادہ نقصان دہ اور تکلیف کا باعث ہے۔غور و فکر ، بات چیت اور حکمت عملی ۔۔ وغیرہ بے کار کی باتیں ہیں مصلحت اسی میں ہے خاموش رہا جائے او رہم تو اس قدر بے حس ہو چکے ہیں کہ شرمناک واقعات پر بھی دکھاوے کیلئے افسوس کا اظہار کر کے آگے بڑھ جاتے ہیں۔یہ ظلم جس کے ساتھ ہوا وہ جانے ، اس سے ہمارا کیا لینا دینا، کسی کی حق تلفی ہوئی تو ہمیں اس سے کیا۔مودبانہ عرض ہے اس سوچ نے ہمیں عملی طور پر مفلوج کر دیا ہے ۔
خوش نمائی کی جگہ خود نمائی آگئی ، خود نمائی اور خود پسندی اس حد تک بڑھ گئی کہ معاملہ خود پرستی تک پہنچ گیا جو بت پرستی سے بھی برا فعل ہے ۔ایسے میں کسی کے مرتبے اور عزت کا خیال تودرکنار ، کردار کشی فرض سمجھ کر نبھائی جا رہی ہے ۔ گالی گلوچ ، بے ہودہ زبان جس کو بد تمیزی اور عیب تصور کیا جاتا تھا آج محفل یاراں میں اسے زندہ دلی کا نام دیا جا تا ہے ۔ایسا اس لئے ہو رہا ہے کہ فکری کم ظرفی غالب آچکی ہے ۔ قابلیت اور اہلیت کا معیار علم نہیں دولت ہے ، دھوکہ دینے کی صلاحیت ہے ۔ یہ تماشہ ستم ہر شعبہ زندگی میں جاری ہے ۔ذاتی مفادات کے تحفظ کا کلیہ ہر با اثر فرد خواہ اسکا تعلق کسی بھی شعبہ زندگی سے ہو ، کسی بھی ایسے فارمولے پر راضی نہیں جس میں اجتماعیت اور اجتماعی مفاد کی بات کی جائے ۔
قارئین ! مطمئن ، پر وقار ، پر سکون اور بہتر زندگی گزارنے کیلئے ہمیں کسی اسرار و رموز سیکھنے کی ضرورت نہیں ،باہمی احترام ، ایمانداری اور فرض شناسی ہی کافی ہے ۔ ان الفاظ کو سمجھ لیا جائے تو بہت ساری مشکلات کا حل نکل سکتا ہے اس سلسلہ میں میڈیا کے ذریعے شعور اجاگر کیا جاسکتا ہے ۔ معاشرے کی اصلاح کا کام رہبروں کے ساتھ میڈیا کا فرض ہے ۔ لیکن فی الحقیقت صورتحال اس کے بر عکس نظر آتی ہے کیونکہ سیاسی میدان میں پیسہ فیصلہ کن کردار ادا کرتا ہے تو اسی پیسہ نے صحافت میں بھی اپنا عمل دخل حاصل کیا ۔ من پسند خبریں ، مضامین، تجزیے اور قلم کی سیاہی سے سفید کو سیاہ اور سیاہ کو سفید ثابت کرنے کی کوششیں کی جاتی ہیں۔ یہ غیر صحت مندانہ طرز عمل ہے جو جاری و ساری ہے ۔
ہمیں اپنے ذہنوں سے منفی رویوں کو کھرچ کر باہر نکالنا ہو گا ، کسی کے انفرادی فعل کو جو تباہی کا باعث بنتا ہے بطور دلیل ماننا اور اپنے لئے اس سے عمل کا راستہ نکالنا ہر گز مناسب نہیں۔یہ وقتی فائدے ، انفرادی سوچ معاشرے کی بربادی کا باعث بنتے ہیں اس لئے ہمیں چاہئے کہ فکری طور پر خود کو مضبوط کریں، میدان سیاست ہو یا صحافت معاملات بہتر تب ہی ہوں گے جب معاشرے میں شعور کی پختگی اور نظریات کی بات ہو گی۔ ابن الوقت اور ریڈی میڈ احباب کو ہدف تنقید بنایا جائے گا ، ان ریڈی میڈ کرداروں کو بے نقاب کرنا ہی شعور کی پختگی کا باعث بنتا ہے ۔ عوامی نمائندہ وہ ہوتا ہے جو عوام میں سے ہو یہ دولت برادری ، دھونس ، دھاندلی کے شاہکار خود کو عوامی نمائندہ کہلوا تو سکتے ہیں حقیقی عوامی نمائندے نہیں ہو سکتے ۔اسی طرح پریس کارڈ کا حامل خود کو صحافی کہلوانے کی خواہش تو رکھ سکتا ہے ، اس کیلئے جتن کرتا بھی نظر آتا ہے لیکن صحافی ہو نہیں سکتا جب تک اس کا تعلق قلم اور الفاظ سے مضبوط نہیں ہوتا ۔لائیو کوریج کیلئے حالات سے مکمل آگاہی اور انداز تکلم نہ ہو ، معاملہ بنتا نہیں ۔ ایسے کرداروں کیلئے نظریہ کیا افکار کیا،یہ خود پرست ، خودنمائی کے خواہش مند اپنے پیشہ کی بدنامی کا باعث ہی بنتے ہیں۔ آج پاکستان کی سیاست میں ایسے کردار نمایاں ہیں جو خود نمائی کیلئے اپنی جماعت اور سیاست کو بھی نقصان پہنچانے میں کسی سے پیچھے نہیں۔ سیاست نام ہے نا ممکنات کو ممکن بنانے کا ،اختلاف رائے کو اتفاق رائے میں بدلنے کا اور بہترین فیصلہ سازی کا مگر وطن عزیز میں ہارڈ لائنر ، کردار کشی کرنے ، بلند و بالا دعوے اور معاملات کو بگاڑنا ہی کامیابی سمجھتے ہیں ۔ کون چور ہے کون ڈاکو ، فیصلہ اداروں نے کرنا ہے، عدالت نے کرنا ہے اور قانون نے کرناہے ۔ایسی سیاسی بیان بازی ماحول تلخ تو بنا سکتی ہے سیاست اور ملک کیلئے بہتری نہیں لا سکتی۔معاملہ نظریاتی سیاست کے کمزور ہونے کا ہی ہے اگر سیاسی جماعت کے نظریات ہوں گے تو اس کے لیڈر اس کی بات کرتے نظر آئیں گے ۔جب سیاست کا محور و مرکز وقتی فائدہ ہو گا پھر اوئے توئے ہی سیاست قرار دی جائے گی ۔ سیاست ہی نہیں ہر شعبہ زندگی میں خود پرست اپنی خواہشات کی تکمیل کیلئے معاملات کو بگاڑنے اور بگڑے معاملات میں منفی کردار ہی منتخب کرتے ہیں ۔ اختلافات کی بڑھتی آگ کو بجھانے کی بجائے اسے ہوا دے کر سمجھتے ہیں کہ فائدہ اسی میں ہے ۔ یہ عبداللہ دیوانے نہیں جانتے کہ پرائی بارات پر ناچنے سے کچھ حاصل نہیں، حقیقی خوشی اور جدو جہد کا مزہ تب ہی ہے جب انسان اپنے نظریے پر کھڑا ہوتا ہے ۔ اپنے نظریے کیلئے لڑتا ہے ، یہ مہمان اداکار ،یہ وقتی فائدے کیلئے اردگرد اکٹھے ابن الوقت لوگ کچھ دنوں بعدرسوائی ہی کا سامنا کرتے ہیں ۔اصل عزت نظریہ کی سچائی ، محنت اور وقت کے ساتھ ہی حاصل ہوتی ہے ۔ریڈی میڈ کردار حتمی طور پر کامیاب نہیں ہو سکتے ۔یہ وقت ہی ہے جو انسان کو سکھاتا ہے ، بناتا ہے ۔ ہر نیا دن نئے علوم اور رموز انسان کو فکر اور ترقی کی وسعتو ں سے روشناس کرواتا ہے ۔ اہل دانش دوستو منفی تاثر زائل کرنے کیلئے جہاں شفاف احتسابی عمل ضروری ہے وہاں فکری اور شعوری تربیت بھی لازم ہے ۔ اسی میں ہماری بقاء اور معاشرے کی اصلاح ہے ۔ بقول شاعر ؂ تقریر کی لذت بے معنی تحریر کی ندرت لاحاصل یہ فکرو عمل کی دنیا ہے کچھ فکرو عمل کی بات کرو ۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*