بنیادی صفحہ -> اداریہ،کالم -> ابلیس کی واپسی
ابلےس کی واپسی

ابلیس کی واپسی

ابلےس کی واپسی
رائٹ وے
عارف محمود قریشی
موجودہ دور کے حالات واقعات اےسے ہو گئے ہےں کہ اب تو ابلےس بھی سوچنے پر مجبور ہو گےا ہے کہ انسان کو سجدہ کرہی لےا جائے۔اللہ کرےم نے جس وقت اپنی مخلوق مےں سے انسان کو بناےاتو اس لمحہ ابلےس کو اللہ کرےم کا ےہ کرنا اچھا نہ لگا اور اس نے رب کرےم کا حکم بجا نہ لاتے ہوئے آدم علےہ سلام کو سجدہ نہ کےا ۔اےسا انسان جس کا دل ، طبےعت اور جان نرم و نازک ، شفاف، پاک ہونے کے ساتھ ساتھ محبت ، خلوص اور ہمدردی کے جذبے سے سرشار بھی تھے وہ حوس ،لالچ،مطلب پرستی، نفرت اورظلم کی اےسی راہ پر چل نکلا کہ جہاں واپسی مشکل ہی نہےں ناممکن ہو گئی۔وقت گزرتا گےا اور اب اسی انسان کی شرارتےں ، گناہ ،بدنےتی، شراور ظلم و ستم اتنی حد تک چلا گےا کہ جےسے اس کے ےہ اعمال شےطان پر بھی مسلط اور ہاوی ہو گئے ہوں۔ابھی کچھ دن پہلے دھرنا بطور احتجاج پےش کےا گےا مگر اس کا طرےقہ اور لائن آف اےکشن سرا سر غلط اور بے بنےاد تھا کےونکہ جہاں جہاں ےہ دھرنا دےا گےا وہےں سے ان ہی کے بھائےوں بہنوں اور عزےز و اقرباءنے گزرنا تھا جو ان کے دھرنے کی وجہ سے مقررہ وقت پر نہ پہنچ پائے ۔کسی کی فلائٹ مس ہو گئی،کسی کو اپنے ضروری کام سے چھٹی کرنا پڑی، کوئی سکول کالج اور مدرسہ نہ جاسکا اور کوئی راستے مےں اللہ کو پےا رہ ہوگےا اور اےسی پےش رفت سے کاروباری زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی ۔ہونا تو ےہ چاہےے تھا کہ اس جگہ کا گھےراﺅ کےا جائے جہاں سے ےہ فےصلہ آےاوہاں جا کر دھرنا دےا اور احتجاج کےا جاتامگر نہ کوئی سمجھانے والا ہے اور نہ کسی کا دل و دماغ سمجھانے والے کی بات کو قبول کرتا ہے۔ابلےس کہتا ہے کہ اس سے پہلے کہ مےں اےک تماشا بن کہ رہ جاﺅں اس سے بہتر ہے کہ مےںاسی انسان کو سجدہ کر لوںجس کا مےں منکر تھا۔کچھ لوگ اس ےقےن پر زندہ ہےں کہ ان کو موت نہےں آنی حالانکہ ےہ اےک خام خےالی ہے ۔حقےقت مےں اےک لاوا سا ہر وقت انسان کے اندر ہی اندر پکتا رہتا ہے اور ےہ آگ جو فتنے کی صورت اختےار کر کے شعلوں کی مانند اسے برے راستے پر چلارہی ہے ۔دلچسپ بات ےہ ہے کہ ابلےس کو آگ سے بناےاگےا ہے جب کہ انسان کو ناپاک پانی کی بوند اورمٹی سے تو پانی مٹی اس آگ پر ہاوی کےسے ہوگئی ہے ۔اس آگ کی شدت اتنی ہے کہ اس مےں باپ ، بھائی ، بےٹے کی تمےز نہےں رہی ہے بلکہ کسی بھی رشتے کی اہمےت اپنی اصل کھو چکی ہے۔اور ےہی انسان اپنی خود ساختہ انا پر آئے تو اکڑ اتنی کہ ابلےس بھی ےہ کہے اس کے شراور شےطانےت کا توازن بھی انسان نے بگاڑ کے رکھ دےا ہے۔کہ جسے مےں اپنے سے کم تر سمجھتا تھا اس کی سےاست اور پالےسی اےسی ہے کہ مےرے کان بھی وہ قائد بن کر کترتا چلا جا رہا ہے ۔اور مجھے بھی اس انسان کی ےہ فطرت اتنی اچھی لگی کہ دل چاہتا ہے کہ مےں بھی اپنی شےطانےت چھوڑ کر اےسی سےاست کرنا شروع کر دوں۔ےہی انسان برے کاموں ، غلطےوں اور گناہوں کو اےسے باوقار طرےقہ اور نئے انداز سے کرتا ہے کہ اس کے اندر دور دور تک جھجھک، ڈر اور شرم و حےا نظر نہےں آتی ہے۔ظلم کی انتہاءاےسی ہے کہ مےں ابھی سوچ ہی رہا ہوتا ہوں کہ مےرے بہکانے کی نوبت ہی نہےں آتی اورےہ حدےں کراس کر دےتا ہے۔کچھ لوگ تو حسد اےسے کرتے ہےں جےسے کوئی ثواب کا کام ہوحالانکہ ےہ اےک اےسی بےماری ہے جو انسان کو اندر ہی اندر سے کھوکھلا کر دےتی ہے جےسے دےمک لکٹری کو ناکارہ کر دےتی ہے ۔اللہ کرےم سے دعا کرنی چاہےے کہ ہمےں اپنا خوف عطا فرمائے کہ جس رب کرےم کی شان ہے کن فےکون وہ جس وقت جو چاہے کر سکتا ہے۔ماضی مےں اپنے اےک کالم مےں تحرےر کر چکا ہوں کہ مےرا اےک قرےبی دوست تھا جو ضلع جہلم ہی کا رہائشی ہے اور اپنے آپ کو وڑائچ چوہدری کہلوانا پسند کرتا ہے مگر حقےقت مےں وہ آستےن مےں چھپا سانپ نکلے گا مےں نہےں جانتا تھااورمجھے اس پر اندھا اعتماد تھا کہ کچھ بھی ہو ےہ اےسا نہےں نکلے گا ۔اس مےرے دوست نے اپنے دوسرے دوست سے مل کر مےرے ہزاروں روپے ضائع کر دےے جس تھالی مےں کھاےا اسی مےں چھےد کےا ۔اور آخری بار اپنی اےک اےسی مجبوری بتا کر مجھ سے قرض رقم لی کہ مےں انکار نہ کر سکا اوراس کی پرابلم کے حل کے لےے مےں نے اےک اور نےکی کر دی۔مگر آج تک اس کوےہ خےال نہ آےا کہ جب اس دنےا سے جانے کا وقت آئے گا تو رب کرےم کو کےا منہ دکھائے گااور علماءاکرم بتاتے ہےں کہ اےسے شخص کا جنازہ نہےں ہوتا جو مقروض ہو۔اسی جہلم کی سرزمےن پر مےں نے اےسے لوگ بھی دےکھے کہ جو قرض ادا کےے بغےر رات کو سوتے نہےں ہےں۔ہمےں نماز کے بعد ےہ بھی دعا کرنی چاہےے کہ اللہ کرےم وقت نزع سے پہلے ہمےں اپنا اپنا قرض ادا کرنے کی توفےق عطا فرمائے ۔ابلےس کہتا ہے کہ مےراتو اب اس دھرتی پر کوئی ٹھکانہ ہی نہ رہا ہے کےونکہ ےہ انسان مجھ سے زےادہ شر انگےز اور فسادی ہو چکا ہے اور بہتر ےہی ہے کہ سپر پاور کے پہنچنے سے پہلے مےں اپنا ٹھکانہ کہےں اور تلاش کر لوں۔ہر بندے کااپنا مذہب ،طور طرےقے اور مفروضے ہےں جو اس کی نظر مےں بلک صحےح ہےں ۔لےکن بجائے اس کے ےہ اجالے ، خوشےاں اور بہارےں لےکر آئےں الٹا ان اجالوں کو قےد کر دےا گےا ہے اور ابلےس کے تمام کام عمدہ طرےقہ سے انسان نے سنبھال لےے گئے ہےں۔اب تو ابلےس کا کہنا ہے کہ اس سے قبل مےرا تماشابنے، رسوائی ہوےہ لازم ہو گےا ہے کہ مےں اپنے آپ کو سےدھا کر لوں اور شےطانےت، برے دھندے، فتنے فساد، لگائی بجھائی،سےاسی جوہر، بہکاوے اور گناہ چھوڑ کراسی انسان کو سجدہ رےز ہو جاﺅں، اس کی مرےدی اختےار کر لوں جس کا مےںنے اللہ کرےم کے سامنے انکار کےا تھا اور واپس اسی جگہ آ جاﺅں جہاں سے نکالا گےا تھا۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*