بنیادی صفحہ -> اداریہ،کالم -> ماڈرن… کالم نویس آصف ظہوری
ماڈرن

ماڈرن… کالم نویس آصف ظہوری

ماڈرن
آصف ظہوری
(ماڈرن)جب کہیں کوئی خلا آتا ہے تو اس کو پر کرنے کیلئے بھی کچھ نہ کچھ آہی جاتا ہے ۔ بالکل اسی طرح ہماری زندگیوں میں جو بدلاؤ آرہاہے یا جس طرح نوجوان نسل کو ہم آزادی اور ماڈرن ہونے کے راستے پر لے کر چل رہے ہیں۔یہ بھی ہمارے معاشرے میں ہمارے اسلامی کلچر کے خلا ہونے کے نتیجے میں پیدا ہورہا ہے۔ نجانے کیوں ہم خوفزدہ ہورہے ہیں۔ اپنے دین سے ، اپنے کلچر سے اور نجانے کیوں اپنی اولاد کو ماڈرن اور آزاد بنانے پر تلے ہوئے ہیں۔سادگی والی آسان زندگی ہمیں کیوں پسند نہیں آرہی؟ دکھاوے اور پھیلاوے میں ہم اپنے آپ کو مصروف کرکے کیوں اپنے آپ کو جھوٹی تسلی دینا چاہتے ہیں، ایک صاف وستھری آسان زندگی جس میں جھوٹ اور منافقت نہ ہو جس میں ہم سب کیلئے آسانیا ں ہو اور سب سے اعلیٰ کہ ہماری نسل کیلئے ان کے آگے بڑھنے کیلئے ایک صاف ستھرا آسان راستہ ہو، بالکل ویسا ہے جیسا کہ ہم مسلمانوں کو اللہ دیتا ہے اور فرماتا ہے کہ ’’اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رہو‘‘ بغیر کسی حیل وحجت کے بے شک اللہ کا بتایا ہوا راستہ ہی بہترین ہوگا۔ میرے لیے بھی اور میری نسل کیلئے بھی، اس کے باوجود بھی سب کچھ جانتے ہوئے بھی ہم کھائی میں گرنے کو تیار ہیں اور تکلیف بے حد اس لیے ہے کہ ہم اپنی اولاد کو اپنے بیٹے بیٹیوں کو اندھے کنویں میں خود اپنے ہاتھوں سے دھکیل رہے ہیں کہ صرف اس لیے کہ ہم لبرل بن جائیں۔ ماڈرن بن جائیں اور اس سوچ کو ہم کہاں تک لے کر جارہے ہیں ۔ اللہ جانے یہ ہم سوچتے ہیں یا نہیں۔ 14 فروری کی دھوم بہت خوب رہی۔ شاپنگ سنٹر لال غباروں سے بھرے ہوئے ۔ جگہ جگہ سڑکوں پر لال کلر کی بھر مار رہی ، سنا ہے کہ سرخ گلاب بھی نہیں مل رہے تھے۔ چاکلیٹ اور کیک کی فروخت بھی خوب اعلیٰ ہے ۔ وجہ یہ ہے کہ ہم اور ہمارے بچے ویلنٹائن ڈے منارہے ہیں اور خوب اعلیٰ منار ہے ہیں، بیٹی باپ کو پھول دے رہی ہے، بیٹا ماں کو پھول دے رہا ہے۔ یعنی محبت کے اظہار کا دن ہمارے معاشرے میں منایا جارہا ہے۔اب یہ وقت ہم پر آگیا ہے کہ ہم بھی انگریزوں کے قدم بہ قدم چل رہے ہیں۔ وہ کیوں کہ بہت مصروف قوم ہے اور ان کے یوم ہیں، والدین old House میں رہتے ہیں، اس لیے وہ بھی مدر ڈے منا لیتے ہیں، کبھی فاد رڈے وغیرہ مگر یہ جو ہماری سوسائٹی ویلنٹائن ڈے منا رہی ہے اس کا تعلق صرف اور صرف ایک لڑکے اور لڑکی کی محبت پر یورپ و امریکا میں منایا جاتا ہے ، اس کا دور دور سے بھی ہم اور ہماری سوسائٹی کا تعلق نہیں۔ اب وقت یہ ہے کہ لڑکیاں اپنے والدین کے ساتھ پھولوں کے باکس اور گفٹ کی بکنگ کروا رہی ہیں اور وہ اپنے میل دوستیوں کو wish بھی کررہی ہوتی ہیں اور والدین کو کوئی اعتراض بھی نہیں ہوتا۔ نوجوان لڑکے اپنے والدین کے ساتھ شاپنگ سنٹر سے اپنی فیمیل دوستوں کیلئے گفٹ خرید رہے ہوتے ہیں اور اکثر والدہ ماجدہ سے مشورہ بھی لے رہے ہوتے ہیں اور والدہ ماجدہ بھی خوب مشورہ دے رہی ہوتی ہے۔ اس لیے اس چودہ فروری کی بھی خوب گہما گہمی رہی اور سرخ رنگ چاروں طرف چھایا رہا، اس ڈگر پر ہم چل نکلے ہیں کہاں جائیں گے کچھ پتہ نہیں۔گمراہی اور راست بازی ساتھ ساتھ چلاکر قوم کو الجھایا نہ جائے تمام لالچ وحرص کودفن کرکے اپنی نوجوان نسل کو سنوارنے کے اقدامات فوری بنیادوں پر کرنے چاہیے۔ ایک زمانے میں جب پرائیویٹ اسکولز کا ٹرینڈ بڑھا، تو والدین اپنے بچوں کیلئے Co education اسکول منتخب کرنے لگے تھے۔ پھر تجربات کچھ خطرناک ہوئے، نتیجے خلاف توقع نکلے اب پھر سے والدین کی خواہش ہے کہ سیکنڈری کلاسز لڑکے اور لڑکیوں کی الگ ہونی چاہیے اور جب والدین کی ڈیمانڈ بڑھی تو ان ہی پرائیویٹ اسکولز نے اپنی برانچز کو الگ الگ کیا۔ بالکل اسی طرح اب بھی والدین کی ذمے داری ہے کہ وہ ان بے معنی ، فضول اور بگاڑ پیدا کرنے والی رسموں کو degrade کرنے اور اپنے بچوں کو اس طرف جانے سے روکیں۔ ہم تو ان خوش نصیب لوگوں میں سے ہیں جہاں والدین اولاد کیلئے رحمت وبرکت ہوتے ہیں جہاں محبتیں کسی دن کی محتاج نہیں، جہاں تحفہ وتحائف دینا سنت رسول ہے اور وہ کسی بھی وقت اور کسی بھی دن دیے جاسکتے ہیں۔اکثر لوگ جب اپنی گاڑیوں کو سگنلز پر روکتے ہیں تو موتیے کی لڑیاں اور گجرے خرید لیتے ہیں اچھی خوشبو کی وجہ سے ان لوگوں کی Help کیلئے جو یہ بیچ رہے ہوتے ہیں۔ گھر وں میں لاکر بھی رکھ دیے جاتے ہیں ۔ اپنے سینٹر ٹیبل پر رکھ دیے جاتے ہیں اور یہ کوئی آج کی بات نہیں کئی سالوں سے ایسا ہوتا رہا ہے مگر آج جب ایک دکھاوے کی صورت میں ہورہا ہے تو بے حد مصنوعی اور بے معنی ہے۔ اس کا کوئی اثر نہیں اس کا کوئی انداز نہیں، فضول اور گمراہی ہے۔ اللہ ہم سب پر رحم کرے اور ہمارے لیے آسانیاں پیدا کرے۔ جہاں ہم بھٹکنے والے بن گئے ہیں وہاں ہمیں بھٹکانے والے بھی اپنی ماڈرن شکلیں بنا کر بھٹکا رہے ہیں، مزے کی بات یہ ہے کہ یہ جو بھٹکانے والے ہیں یہ باقاعدہ paid ہوتے ہیں او ایک ایجنڈا لے کر چل رہے ہوتے ہیں مگر جو بھٹک رہے ہیں وہ بے چارے اپنے آپ کو ماڈر ن اور لبرل بننے کے چکر میں نہ ادھر کے اور نہ ادھر کے ہیں۔اساتذہ، والدین، ادیب ، شاعراور تمام لکھنے والے اپنی اپنی ذمے داریوں کو سمجھیں اور سچائی کے ساتھ قلم کو طاقت بنائیں۔ اس نازک وقت میں ہماری نوجوان نسل کو صحیح رہنمائی کی شدید ضرورت ہے ورنہ ہم ایسی گمراہی میں چلے جائیں گے کہ جہاں نہ دنیا ہوگی اور نہ دین ، ترقی وکامیابیاں ہر انسان کی خواہش ہوتی ہے ، بہتر زندگی ،�آسان اور آرام دہ زندگی کا سفر، اگر اس کی کوئی بھی انسان یا شہری خواہش رکھتا ہے تو بے جا نہیں، ان خواہشات کو منفی طرف کھینچنا یا اندھیروں کی طرف دھکیلنا بالکل مناسب عمل نہیں، جو کلچر دکھایا جارہا ہے پھیلایا جارہا ہے وہی ہوبھی رہا ہے اور پھر تکلیفیں اورے بے عزتیاں عام بھی ہوتی جارہی ہے، جو جس کا مقام ہے وہ اسی پر سجتا ہے۔ ویسٹرن کلچر ہمارے کلچر سے بالکل مختلف کلچر ہے تو ہمارا فیملی سسٹم ہے وہ ان کا نہیں جو ہماری روایات ہے وہ ان کی نہیں، آخر ہم ہی کیوں ان کی نقل کرتے ہیں، وہ ہماری نقل کیوں نہیں کرتے ؟
اگرہم اپنے آپ کو جاہل اور پسماندہ سمجھتے رہیں گے تو اسی طرح بھٹکتے رہیں گے،محبتیں بانٹیں اور محبتیں پھیلائیں یہ رہتی دنیا تک ہوتا رہے گا کیوں کہ یہی اللہ کا حکم ہے مگر جاہلانہ طریقوں سے بچیے اور اپنی نسلوں کو بھی بچائیں ، عزت واحترام ، پیار ، شفقت اور ایک دوسرے کی مدد، ایک دوسرے کے کام آنا ، خدمت خلق، یہی سب ذریعے ہیں محبتیں پھیلانے کیلئے ، فضول کام ، بے جا اسراف ، ہمیشہ ناپسندیدہ عمل رہے ہیں۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*