بنیادی صفحہ -> اداریہ،کالم -> گداگری اور ریاست مدینہ کا خواب… کالم نویس اقبال عباسی
گداگری اور ریاست مدینہ

گداگری اور ریاست مدینہ کا خواب… کالم نویس اقبال عباسی

گداگری اور ریاست مدینہ کا خواب
تحریر: اقبال عباسی
(گداگری اور ریاست مدینہ کا خواب)گزشتہ سال ایک ہٹی کٹی بھکاری خاتون ہفتے میں ایک بار میرے پاس آتی اور کہتی "دور سے آئی ہوں گھر میں کمانے والا کوئی نہیں میری مدد کریں” ، میں اسے سو روپے کا نوٹ دیتا تو وہ دعائیں دیتی ہوئی چلی جاتی، پھر میں نے اسے پچاس روپے دینا شروع کردئے ، چھ ماہ کے بعد میں نے اس کو کہہ دیا کہ اگر تم میرے دفتر میں شام تک کام کرو تو میں تم کو پانچ سو روپے دوں گا لیکن وہ خاموشی سے کھڑی رہی اور چند لمحے رک کر چلتی بنی ، اگلے ہفتے وہ پھر وارد ہوئی لیکن میرا وہی جواب تھا کہ کام کرو اور پانچ سو لے لو ، تنگ آکر اس نے آنا ہی چھوڑ دیا ، پہلے پہل میرے ذہن میں آ یا کہ ایک سائل میرے دروازے پہ اللہ تعالی نے بھیجا اور میں نے اسے دھتکار دیا لیکن ساتھ ہی ایک سوال ذہن میں آیا کہ آج تک ہمارے دین کے نام نہاد ٹھیکیداروں نے ہمیں یہ نہیں بتایا کہ سائل اور بھکاری میں کیا فرق ہے ایک پیشہ ور گداگر اور محتاج سائل میں کوئی تو فرق ہو گا؟ لیکن ہماری تربیت ہی ایسے انداز میں کی جاتی ہے کہ بھکاری کو خالی ہاتھ نہیں موڑنا ، اسی طرح ہمارے اکثر دکان دار حضرات سے اپنے کیش بکس میں رکھے سکّوں کا مقصد پوچھ لو توجواب ملتا ہے کہ یہ بھکاریوں کو دینے ہیں تو میں سوچ میں پڑ جاتا ہوں کہ اگر ایک بھکاری پورا دن 300دکانوں سے فی دکان 5روپے سکہ رائج الوقت بھی لیتا ہو تو شام تک وہ 1500روپے یومیہ اور 45000روپے ماہانہ کمانے والا معاشرے کا ایک با روزگار فرد ہے۔ لیکن ابتدا میں مجھے یہ سمجھ نہیں آسکی کہ یہ پھر بھی کیوں غریب ہیں ، جب مشاہدہ کیا توپتہ چلا کہ یہ بھکاری جو بھی کما کر لے جاتے ہیں ان کو اڑانے میں بھی اپنا ثانی نہیں رکھتے ،آج بھی ان کی جھونپڑیوں کا معائنہ کریں تو لاکھوں روپے کے قیمتی نسل کے کتے اور جانور ان کے ساتھ ہوں گے ، جب ان کی عورتیں بھیک مانگنے جاتی ہیں تو مرد خود ان جھونپڑیوں میں پڑے آرام کر رہے ہوتے ہیں لیکن اپنی شاموں کو مے نوشی،جواء، عیاشی اور منشیات جیسی لعنتوں سے رنگین بنانا ان کا ایک پرانا شیوہ ہے۔ تشویشناک بات یہ بھی ہے کہ خانہ بدوش گداگر کئی جرائم پیشہ افرادسے مل جاتے ہیں جو گداگرو ں کے روپ میں معلومات حاصل کر کے اپنے گروہ کے ذریعے چوری اور ڈکیتیاں بھی کرواتے ہیں۔ اگر شہروں اور قصبوں میں موجود گداگروں کا سروے کیا جائے تو ان میں سے اکثریت جرائم پیشہ افراد کی ہے جو بچوں کو اغواء کرنے کے ساتھ ساتھ ان کو ذہنی اور جسمانی طور پر معذوور بنا کر ان سے بھیک منگواتے ہیں۔
کچھ اہل خرد کے نظریات کے مطابق گداگری کی سب سے بنیادی وجہ بے روزگاری ہے جس کو کچھ یوں بیان کیا جاتا ہے کہ جب دیہات کے لوگ شہروں کا رخ کرتے ہیں تو مناسب روزگار نہ ملنے کی وجہ سے وہ مجبوراً گداگری جیسے پیشے کو اختیار کرتے ہیں لیکن اگر سرمایہ کاران اور صنعتکاران سے بات کی جائے تو وہ مزدورں کی کمی کا رونا روتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں ،دیکھا جائے تو پاکستان ایک جنت نظیر ملک ہے جہاں کوئی بھی شخص شام کو بھوکا نہیں سوتا، چاہے وہ سڑک کے کنارے چھابڑی لگانے والا بھی کیوں نہ ہو لیکن ضرورتوں کے پہاڑ اور اشیائے صرف کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے ہاتھوں اگر کوئی مجبور ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ بھیک مانگنا شروع کر دے کیونکہ میرے خیال میں بھیک مانگنے والا ایک تن آسان ، کاہل اور عزت نفس سے عاری انسان ہوتا ہے جس کو آسانی سے یہ پیشہ چھوڑنا سخت مشکل لگتا ہے جس کی اہم اور بنیادی وجہ تعلیم کی کمی اور کونسلنگ کا نہ ہونا ہے ۔
دنیا کو کوئی بھی مذہب گداگری کی اجازت نہیں ،خاص طور دین اسلام میں توگداگری کی شدید مذمت کی گئی ہے حضور اکرم ﷺ کاارشاد پاک ہے ’’حلال روزی کی تلاش عبادت کے بعد دوسرا فرض ہے۔‘‘ بلکہ اسلام نے تومحنت کر کے کمانے والے کو اللہ کا دوست قرار دیا ہے ۔سورۃالبقرہ میں ہے ’’اے محمد ﷺلوگ آپ سے پوچھتے ہیں کہ خدا کی راہ میں کس طرح کا مال خرچ کرنا، کہہ دو جو چاہو خرچ کرو لیکن جو مال خرچ کرنا چاہو وہ (درجہ بدرجہ اہل استحقاق یعنی) ماں باپ کو اور قریب کے رشتے داروں کو اور یتیموں کو اور مسافروں کو (سب کو دو)اور جو بھلائی تم کرو گے خدا اس کو جانتا ہے‘‘اگر اسلام کی تاریخ کا مطالعہ کریں تو زکواۃ فرض ہونے کے بعد اسلام کے ابتدائی سالوں میں ہی صورت حال یہ ہوگئی کہ زکواۃ دینے والے مدینہ منورہ کی گلیوں میں صدا لگاتے پھرتے مگر کوئی زکواۃ لینے والا نہ ملتا۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سائل اور پیشہ ور بھکاری میں کیا فرق ہے تو ذرا ملاحظہ فرمائیں کہ خلیفہ دوئم حضرت عمر فاروقؓ کے دروازے پر ایک سائل صدا لگا تا ہے اور ایک روٹی کا سوال کرتا ہے جو اسے دی جاتی ہے، پھر حضرت عمرؓ اس کا تعا قب کرتے ہیں ، دیکھتے ہیں کہ اس نے بہت سی روٹیاں جمع کر لی ہیں تو اسے روک کر اس کی تمام روٹیاں اپنے اونٹ کے آگے ڈال کر کہتے ہیں کہ تم سائل نہیں ،تاجر ہو جو اپنی ضرورت سے زیادہ روٹیاں جمع کر رہے ہو۔ حضرت علیؓ نے یوم عرفہ کو ایک شخص کو لوگوں سے بھیک مانگتے دیکھا تو اسے ایک درّہ مارتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ تیری کتنی بد نصیبی اور بد بختی ہے کہ آج کے دن جو قبولیت اور دعا کا دن ہے تو مقدس اور بابرکت میدان میں خدا سے مانگنے کی بجائے لوگوں کے سامنے ہاتھ پھیلاتا پھر رہا ہے۔ کیونکہ اسلام بغیر ضرورت و حاجت مانگنے کو حرام قرار دیتا ہے اس لئے سائل کیلئے غربت اور محتاجی کی ایک حد مقرر کی ہے کہ جس شخص کے پاس ایک دن کیلئے غذا اور سطر چھپانے کیلئے کپڑا ہو تو اسے کسی کے آگے دست سوال دراز نہیں کرنا چاہئے۔
ایک محتاط اندازے کے مطابق پاکستان میں اس وقت سات ارب سے زیادہ افراد حد غربت کے خط سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں بے روزگاری ،مہنگائی اور غربت کی بنا پر لوگوں کی اکثریت روٹی ، کپڑا اور مکان کی خاطرابتداء میں تو بھیک مانگنے پر مجبور ہوتی ہے لیکن بعد میں اس عادتِ بد کو ایک نشہ کے طور پر اختیار کر لیتی ہے ۔ آئین پاکستان کے آرٹیکل 3 اور11میں گداگری کو ایک جرم قرار دیا گیا ہے،یکم اکتوبر 1958ء کو حکومت پاکستان نے انسداد گداگری کے لئے ایک آرڈی نینس جا ری کیا، یہ آرڈیننس شروع میں ویسٹ پاکستان بیگرنسی آرڈیننس 1958ء کے نام سے جاری ہو مگر 1974ء میں اسے پنجاب بیگرنسی آرڈیننس 1958 ء کا ہی نام دیا گیا، لیکن 44 سال کا عرصہ گزرنے کے باوجود اس قانون کا عملی طور پر نفاذ نہیں ہوسکا ۔
اگربحالی گداگران کی بات کی جائے تو اس کے لئے دور نبوی ؐ کی وہ مثال ہی کافی ہے کہ خاتم النبین ﷺ کے پاس ایک سوالی آیا توحضور ﷺ نے اس شخص کے گھر کا سامان فروخت کر کے کلہاڑی خرید کر دی ،اپنے دست مبارک سے کلہاڑی کو دستہ لگایا اور فرمایا کہ جنگل میں جاؤ لکڑیاں کاٹو اور بازار میں بیچو، لیکن ہم میں سے کسی نے بھی یہ نہیں سوچا کہ قوم کوگداگر بنانے اور بھیک جیسا قابل نفرت پیشہ اختیار کرنے میں جہاں معاشرے کا خاص کردار ہے وہاں اہل اقتدار اور NGOs نے بھی اپنی ذمہ داری کو بااحسن طریقے سے نہیں نبھایا ،جنہوں نے آج تک غربت زدہ چہروں کے فوٹو سیشن ، دو وقت کے کھانے اور امداد کے نام پر 1000روپے ماہانہ سے زیادہ کچھ نہیں کیا اور غربت مکاؤ پروگرام کے نام پر نہ صرف جائیدادیں بنائی ہیں بلکہ اس بھیک اور زکواۃ کے پیسے کو اپنا ذاتی حق سمجھتے ہوئے بے دریغ لٹایا بھی گیا ہے۔پاکستان میں گداگران کی مردم شماری( ایک اندزے کے مطابق صرف صوبہ پنجاب میں دو لاکھ کے قریب گداگر موجود ہیں) ، بحالی اور آباد کاری جیسے اہم مسئلہ پر آج تک کسی بھی حکومت نے توجہ نہیں دی ، اس کے لئے صرف محکمہ سوشل ویلفئیر کے ذریعے وقتاً فوقتاً کچھ کاغذی اور فرضی پروگرام تو چلائے جاتے ہیں لیکن ایک مربوط بحالی گداگاران پروگرام ابھی تک شروع نہیں کیا جا سکا۔ میری اہل عنان سے یہ گزارش ہے کہ اس لعنت کو پورے ملک سے ختم کرنے کے لئے نہ صرف ٹاسک فورس تشکیل دی جائے بلکہ قانون نافذ کرنے والوں کو بھی اس سلسلے میں بیدار کیا جائے کیونکہ ماضی میں بھی کڑھی کے ابال کی طرح پاکستان کے مختلف اضلاع میں پیشہ ور بھکاریوں کے خلاف کاروائی شروع تو کی گئی لیکن اس کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لئے ایک منظم منصوبہ بندی اور پروگرام کی ضرورت ہے ، اکثر دیکھا گیا ہے کہ ہماری عوام جب دکھ اور تکلیف میں ہوتی ہے تو ایک مخصوص طبقہ ان کے دکھ اور ہمدردیاں سمیٹنے کے لئے دعائیں دیتا ہواعوام کی جیب کاٹ لیتا ہے اس لئے ضرورت اس امر کی ہے کہ محکمہ سوشل ویلفئیر، لیبر ڈیپارٹمنٹ،اولڈ ایج بینیفٹ اور محکمہ سوشل سیکورٹی مل کر ان کے خلاف عوامی بیداری کی ایک مہم چلائیں اور ایسے مراکز بھی بنائے جائیں جہاں ایسے تمام بھکاریوں کی کونسلنگ کی جائے جو اپنی یہ عادت بد چھوڑ نہیں سکتے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*