بنیادی صفحہ -> اداریہ،کالم -> مقبوضہ کشمیر خواتین کی بے حرمتی انسانی حقوق کے علمبرادکہاں ہیں
مقبوضہ کشمیر

مقبوضہ کشمیر خواتین کی بے حرمتی انسانی حقوق کے علمبرادکہاں ہیں

مقبوضہ کشمیر خواتین کی بے حرمتی انسانی حقوق کے علمبرادکہاں ہیں؟؟؟
نسیم الحق زاہدی

(مقبوضہ کشمیر خواتین کی بے حرمتی انسانی حقوق کے علمبرادکہاں ہیں)مقبوضہ کشمیر میں مظلوم کشمیری خواتین پر گزشتہ 71 برسوں سے درندہ صفت بھارتی فوجیوں کی طرف سے ظلم و ستم کا سلسلہ جاری ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق مقبوضہ وادی میں 1989ء سے لے کر اب تک بھارتی وحشی درندوں نے پندرہ ہزار خواتین کی بے حرمتی کی لیکن یہ تعداد اس سے بھی زیادہ بنتی ہے۔ فوجیوں کے ہاتھوں خواتین کی عصمت دری کو بین الاقوامی سطح پر ایک جنگی جرم اور طریقہ اذیت قرار دیا گیا ہے۔لیکن مقبوضہ کشمیر میں عزت مآب مسلمان خواتین کی آبرو کی پامالی کو درندہ صفت بھارتی فوج اسے جنگی ڈھال کے طور پر استعمال کر رہی ہے مگر مجال ہے کوئی بھارت افواج کی طرف سے کئے جانے والے ان جنگی جرائم کی وجہ سے اس کے خلاف کوئی اقدام کیا ہو؟یا کسی ایک بھی فوجی کو سزا ملی ہو۔
بھارتی فوجی آئے روزکشمیری خواتین اپنی درندگی کا نشانہ بناتے رہتے ہیں ۔کبھی سرچ آپریشن کی آڑ میں گھروں کی تلاشی لی جاتی ہے اوراس دوران گھروں کے مردوں کو باہرنکال دیا جاتا ہے اور گھر میں موجود تمام عورتوں کی آبرو ریزی کی جاتی ہے۔جس کی بدترین مثا ل سانحہ کنن پوش پورہ ہے فروری1981 ء کی ایک سرد رات کپواڑہ میں قیامت کی رات بن گئی تھی جب گھروں میں تلاشی کے نام پر قصبے کے مردوں کو گھروں سے باہر نکال کر کھلے میدان میں کھڑا کر دیا تھا اورسات سال کی عمر سے لیکر 77 سال کے ضیعف العمر عورت کے ساتھ جانوروں سے بھی بدتر سلوک کیا گیا اور ان مظلوم عورتوں اور نوجوان کشمیری لڑکیوں کو عزتوں کو بھارتی فوج کے اہلکاروں نے طاقت کے نشے میں چور اپنے بوٹوں تلے روند ڈالا ۔ متاثرہ خواتین آج بھی انصاف کی منتظر ہیں اور عالمی حقوق انسانی اداروں کے منہ پر ایک طمانچہ ہے۔ہندوستان سے دوستی کا دم بھرنے والے مسلم حکمرانوں کے لئے تازیانہء عبرت ہے۔اس قیامت کی رات کو یاد کر کے متاثرہ خواتین کے دل آج بھی دہل جاتے ہیں بھارتی فوج کے ظلم کی شکار ایک عورت کے مطابق وہ رات کو سونے کی تیاری کر رہی تھی، کہ اچانک دروازے پر دستک ہوئی اور فوجیوں نے پہلے مردوں کو باہر نکالا۔ کچھ فو جیوں نے میرے سامنے شراب پی۔ میری دو سال کی بچی میری گود میں تھی ،ہاتھا پائی میں وہ کھڑکی سے باہر گر گئی وہ زندگی بھر کے لیے معذور ہو گئی۔ تین فوجیوں نے مجھے پکڑ لیا۔ میرا پھیرن، میری قمیض پھاڑ دی۔ اس کے بعد مجھے نہیں معلوم کہ کیا کیا ہوا وہ پانچ لوگ تھے۔ ان کی شکلیں مجھے اب بھی یاد ہیں۔’’ایک اور متاثرہ عورت کی شادی کو صرف 11 دن ہوئے تھے۔ان کا کہنا ہے کہ ‘‘میں اسی دن میکے سے واپس آئی تھی۔ فوجیوں نے میری ساس سے پوچھا کہ یہ نئے کپڑے کس کے ہیں۔ میری ساس نے کہا یہ ہماری نئی دلہن کے ہیں اس کے بعد جو ہوا میں بیان نہیں کر سکتی۔ ہمارے ساتھ صرف زیادتی نہیں ہوئی، ایسا ظلم ہوا ہے جس کی کوئی حد نہیں۔ 2013 ء میں کچھ کشمیری عورتوں نے کنن پوشپورا کے حوالے سے مقامی کورٹ میں ایک پٹیشن دائر کر کے اس کیس کو دوبارہ کھولنے کی کوشش کی۔ کنن پوشپورا اجتماعی ریپ پر ایک کتاب بھی لکھی جا چکی ہے۔بھارتی سپریم کورٹ میں یہ کیس آج بھی جاری ہے۔اس رات کنن پوشپورا میں واقعی کیا ہوا، سچائی شاید کبھی سامنے نہ آئے۔کتاب’’ کیا آپ کو کنن پوش پورہ یاد ہے ؟‘‘
Do you remember kunan poshpora ? ۔یہ دراصل ایک انگریزی کتاب کا نام ہے۔ جو 2016میں شائع ہوئی۔ اس کتاب میں اس رات کی داستان بیان کی گئی ہے ۔درندہ صفت فوجیوں کی حیوانگی کا شکار ایک اور عورت کے مطابق’ تین آرمی والوں نے مجھے پکڑ ا اور 8 سے لیکر دس اہلکاروں نے مجھ سے باری باری عصمت دری کی۔ان کے پاس بڑی بڑی بیٹریاں تھیں وہ ان کو جلا کر روشن کرتے تھے اور میری ننگے جسم کو دیکھتے اور پھر فحش کمنٹس پاس کرتے تھے۔انہوں نے میرے ساتھ یہ حیوانیت کا فعل تقریباً4 گھنٹے تک جاری رکھا۔جس سے میں بعد میں بے ہوش ہو کر گر پڑی تھی۔‘‘ ایک کشمیری مجاہدہ کا کہنا ہے کہ کشمیری عورتوں کی ایک بڑی تعداد کا ریپ کیا گیا ہے اس کی مثال پہلی اور دوسری جنگ عظیم میں بھی نہیں ملتی ۔ ایک اور دلدوز واقعہ 2004 میں ہندوارہ میں پیش آیا، جہاں راشٹریہ رایفلز کے ایک میجر نے ایک خاتون اور اْس کی نابالغ بچی کا انتہائی بے رحمی سے ریپ کیا۔ اِسی طرح جنوبی کشمیر کے مٹن علاقے میں انڈین آرمی ایک صوبیدار اور اْس کا باڑی گارڈ ریپ کے ایک اور بھیانک واقعہ میں ملوث رہے ہیں۔ اِس واقعہ کے خلاف سرکاری سطح پر ابھی تک بھی کوئی کارروائی نہیں کی گئی تھی۔لِسر چوگام کی ایک دو شیزہ نئی نویلی دلہن بانو کے ساتھ ریپ کا واقعہ اعصاب کو مفلوج کر دیتا ہے۔ 18 مئی 1990 کے دِن وہ اپنے خوابوں کی دنیا بسانے کے لئے پنے معزز باراتیوں کے ہمراہ سسرال کے سفر پر تھی اور اْسی موقعہ پر نیم فوجیوں کے ایک دستے نے خوفناک طریقے سے اِس دلہن کی خوشیاں لوٹ لیں۔ دولہا ملک اور اْس کے کچھ ساتھیوں پر کوئی گناہ کئے بغیر گولیوں کی بوچھاڑ کر دی گئی۔ نوخیز دلہن کی آہ فغان سے پتھر دل انسان بھی زخمی ہوجاتے اس دلہن کوبے آبرو کر دیا گیا تھاوہی بد نصیب دلہن اب ایک لاغر عورت بن چکی ہے اور بس ایک ہی سوچ میں ڈوبی ہے کہ کیا کشمیری خواتین آزادی کی قیمت اپنی عزت لوٹا کر کب تک ادا کرتی رہیں گی ؟کیا ان کے لئے کوئی محمد بن قاسم نہیں آئے گا جو انہیں ظالم برہمن سے نجات دلوائے۔جنوری 1992ء میں ریشی پورہ انت ناگ میں 5 راشڑیا ریفلز نے ایک گھر میں جاکر پہلے دولڑکیوں کے باپ کو اغوا کیا اور پھر ایک میجر نے بڑی بیٹی اور ایک سپاہی نے چوتھی بیٹی کے ساتھ 90 منٹوں تک درندگی کا کھیل کھیلا اس کی عصمت دری کی اور بعد میں ان کے گھر کو آگ لگا دی۔ حیوانیت کا شکار دونوں بہنوں نے رات اس وقت ندی کے کنارے ایک غسل خانے میں گزاری تھی۔ شوپیاں میں 9عورتوں کے ساتھ 22 Grenadiers آرمی نے ریپ کیا تھا جس میں ایک گیارہ سال کی معصوم لڑکی کے ساتھ ساٹھ سال کی خاتون کی بھی بے حرمتی کی گئی تھی۔اس کیس کو بعد میں untrace کہہ کر ختم کر دیا گیاتھا۔فوجی اہلکاروں نے 2009ء مئی میں دو کشمیری خواتین نیلوفر اور آسیہ کو اغوا کر کے درندگی کا نشانہ بنا کر بے دردی سے قتل قریبی جنگل میں پھینک دیا تھا۔کشمیر کے ایک علاقے کٹھوعہ کی 9سالہ ننھی آصفہ بانوکی ایک ہفتے تک مسلسل اجتماعی عصمت دری کی گئی،آصفہ کو اغوا کرقریبی مندر میں میں قید کر کے رکھا گیا تھا۔اس گھناؤنے فعل میں مندر کے پروہت ،اس کا بیٹااور اس کے دوست ملوث پائے گئے۔ننھی کلی کو نشہ آور ادویات پلا ئی جاتی رہی، مزید حالت خراب ہونے اور جرم چھپانے کے لئے معصوم بچی کو پتھروں سے موت کے گھاٹ اتار دیا گیا اور اس کی لاش کو بھی جنگل میں پھینک دیا گیا تھا۔ بھارتی فوجیوں نے کشمیری خواتین کو گزشتہ کئی دہائیوں سے جس طرح بے دردی کا نشانہ بنایا ہے وہ نہ صرف حقوق انسانی کی پامالیوں کی سیاہ تاریخ ہے بلکہ اس سے کشمیری خواتین کئی نفسیاتی امراض کا شکار ہو گئی ہیں۔کشمیر کے واحد ذہنی امراض ہسپتال کے مطابق مردوں کی نسبت سینکڑوں خواتین روزانہ ذہنی و نفسیاتی بیماریوں کے علاج کے لئے آتی ہیں۔بھارتی فوج کی وحشت و درندگی اور عورتوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کی ایسی سیاہ تاریخ ہے کہ بعض بھارتی صحافی بھی اس کے خلاف لکھنے پر مجبور پائے گئے۔ ایک بھارتی صحافی نے لکھاہے کہ:’’ جو کچھ یہاں ہو رہا ہے اس میں انسانیت کے خلاف اتنے جرائم ہوئے ہیں کہ بھارت اگر ان جرائم کی پردہ پوشی کرنا بھی چاہے تو نہیں کر سکتا۔‘‘کشمیری خواتین کو جن تکالیف اور مصائب کا سامنا ہے اور وہ جس طرح اپنے شوہروں کے شہید ہو جانے یا لاپتہ ہو جانے کی صورت میں بیوگی کی کیفیت سے دوچار ہیں اس کا اندازہ مسلم ممالک میں حقوق انسانی کے اصول کی خلاف ورزی کا ڈھنڈورا پیٹنے والے عالمی ادارے کر ہی نہیں سکتے۔انہیں کسی بھی مسلمان ملک میں چھوٹی سی بات بہت سنگین جرم لگتی ہے اور اسے عالمی میڈیا میں بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا ہے لیکن سب سے بڑی جمہوریت کے دعویدار بھارت کی قابض درندہ صفت افواج کی طرف سے مقبوضہ کشمیر میں خواتین پر ڈھائے جانے والے ہولناک مناظر نظر نہیں آتے۔حقیقت یہ ہے کہ مقبوضہ وادی میں بسنے والی عورت اس وقت شاید دنیا کی سب سے زیادہ بے بسی والی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*