بنیادی صفحہ -> اداریہ،کالم -> آب بیتی ………..!!!! کالم نویس روشن آراء
آب بیتی

آب بیتی ………..!!!! کالم نویس روشن آراء

آب بیتی ………..!!!!
روشن آراء
چپ رہیں؟آہ بھریں ؟چیخ اٹھیں ؟یا مرجائیں؟
کیا کریں ،بے خبرو! تم کو خبر ہونے تک؟
(آب بیتی)قارعین آپ نے آپ بیتی تو بہت سنی اور پڑھی ہوگی .ہم نے سوچا کیوں نہ آج ہم آپ کو آب بیتی سنائیں ،قلت آب کے تناظر میں پائی جانے والی یہ غمناک داستان ہے کہ جس نے عوام کو آٹھ آٹھ آنسوں رولایا ہے ،ویسے تو جی جلانے کے لیے شہر کراچی میں بے پناہ مسائل موجود ہیں مگر فی الوقت ہم قلت آب پر قلم طرازی کرکے دل کے پھپھوڑے پھوڑ رہے ہیں کیوں کہ اس وقت وطن عزیز میں سب سے زیادہ زیر بحث موضوع قلت آب ہے.
دہر کے اندھے کنوئیں میں کس کے آواز لگا
کوئی پتھر پھینک کر ، پانی کا اندازہ لگا
پانی انسان کی بنیادی ضرورت ہے .مگر بد قسمتی سے کرتا دھرتا ؤ نے کمال غفلت برتتے ہوئے اس اہم ترین انسانی ضرورت کو مکمل طور پر نظر انداز کیا ،گذشتہ کئی ماہ و سال سے شہر کراچی میں پانی کا بحران شدت اختیار کرگیا ہے قلت آب پاکستان کا بہت بڑا اور توجہ طلب مسئلہ ہے .ملک آج خشک سالی کاشکار اور قحط کے سنگین خطرات سے دو چار ہے تو دوسرے جانب عوام کے ٹیکسوں پر پلنے والے واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کے ذمہ داران اپنے فرائض کی ادائیگی سے یکسر کوتاہی برت رہے ہیں .قلت آب کے سبب عوام کی زندگی اجیرن ہوکر رہ گئی ہے .بسا اوقات پانی زہرمار کرتے ہوئے یہ فیصلہ کرنا ذرا مشکل ہوجاتا ہے کہ جو پانی بیشتر مقامات پر فراہم کیا جارہا ہے وہ نکاسی آب کا نتیجہ ہے یا فراہمی آب کا،واٹر بورڈ کے ملازمین کی جانب سے اکثر اوقات پانی میں شامل کی جانے والی کلورین کی مقداراتنی زیادہ کردی جاتی ہے کہ ایک گھونٹ پینا بھی محال ہوجاتاہے تو کبھی اتنی کم کہ پانی میں پائے جانے والے جراثیم کو مارنے کے لیے یہ مقدار ناکافی ہوتی ہے جس کی وجہ سے ہیضہ،ڈائریاِ،نیگلیریا،ٹائیفاہڈ اور ہیپاٹائٹس جیسے امراض وباء کی صورت اختیار کرجاتے ہیں شہری گندہ پانی پینے پر مجبور ہیں ،صاف پانی کے لیے لاکھوں روپے بجٹ کے فلٹریشن پلانٹ عدم توجہی کی بناء پر ناکارہ ہوگئے ہیں.
آنکھوں میں اشک آئے تو پینا پڑے مجھے
ورنہ کراچی شہر ، کا پانی حرام تھا
اگرچہ پانی زندگی کی علامت ہے.مگر پاکستان کی عوام کے لیے یہی پانی اب موت کی نوید بن گیا ہے کیوں کہ وطن عزیز میں اس وقت غیر معیاری اور آلودہ پانی کے سبب ۳۵ فیصد اموات سالانہ واقع ہورہی ہیں جو متعلقہ اداروں کے شرم سے پانی پانی ہونے کے لیے کافی ہے ،چلو بھر پانی میں ڈوب مرو کبھی محاورتا کہا جاتا تھا مگر اب مرنے کے لیے پانی میں ڈوبنے کی چنداں ضرورت نہیں کہ اگر مرنا ہی ٹہرا تو کراچی کے مضافاتی علاقوں کا پانی ایک گلاس پی لینا ہی کافی ہے .سقراط کے لیے جو کام زہر بھر پیالے نے ادا کیا وہ کام اب شہر کراچی میں گلاس بھر پانی بحسن و خوبی سرانجام دے رہا ہے ،قلت آب پر ہماری تحریر پڑھ کر ہمارے سامنے بھی سقراط کی مانند ایسا ہی کوئی مرحلہ آجائے کہ کراچی فراہم کیا جانے والا گندہ پانی زہر مار کرو یا پانی کی بابت لکھنا چھوڑ دو یقیناًہم فورا لکھنا بند کردیں گے کیوں کہ جان ہے تو جہان ہے.
اکثر میسرز آرسی سی کنسلٹینس کی زیر نگرانی جاری ترقیاتی کاموں کے دوران ہونے والی ،بد احتیاطی اور لاپرواہی کے باعث اکثرفراہمی آب کی لائنیں جگہ جگہ سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوجاتی ہیں .اور سیوریج اور پانی کی لائینوں میں زیادہ فاصلہ نہ ہونے کی سبب صاف پانی میں سیوریج کا پانی ملنے کی شکایات عام ہیں .جس پر ارباب اختیار نظر چراتے نظر آتے ہیں ،اکثر علاقے اب بھی پانی جیسی نعمت سے محروم ہیں .کیوں کہ جس قسم کا پانی بیشتر علاقوں میں فراہم کیا جارہاہے اسے پانی جیسی چیز ہی کہا جاسکتا ہے اسے صاف پانی کہنا سراسر غلط ہوگا .مضرصحت پانی کی مسلسل فراہمی کے پیش نظر کاروباری حضرات نے موقع سے خوب فائدہ اٹھایا اور پورے شہر میں آر او پلانٹ کی جیسے بہار آگئی اور جا بہ جا آر او پلانٹ برسات میں اگنے والی کھمبیوں کی طرح نمودار ہونے لگے ،اب تیرا نہ پتہ پائیں تو ناچار کیا کریں ،مجبورا غریب عوام نے صاف پانی کے حصول کے لیے ان پلانٹس کا رخ کیا جہاں معقول رقم کے عیوض صاف پانی دستیاب ہے.لوگ بالآخر ان پلانٹس کے جیسے اسیر ہی ہوکر رہ گئے کہ میں جھکا نہیں ،بکا نہیں،ہمیں واٹر کولر کے ساتھ آر او پلانٹ کی صفوں میں تلاش کر ،کہ یہ صاف پانی کے حصول کا واحد ذریعہ جوہے تو جناب پھر کیا عمر دراز مانگ کر لائے تھے چار دن دو صاف پانی کے انتظار میں گذرگئے اور بقایا بچے کچے دو دن آر او پلانٹ کی قطار میں گذر رہے ہیں .
المیہ یہ ہے کہ شہر کراچی کے ۷۰فیصد علاقے بری طرح متاثر ہیں شہریوں میں صبروتحمل کا پیمانہ لبریز ہوچکا ہے خواتین بھی پانی کی تلاش میں ماری ماری پھرتی ہیں اس صورتحال میں حکومت کے خلاف منفی جذبات پیدا ہورہے ہیں جو لاوا بن کر کسی بھی وقت انتشار اور فساد کا باعث بن سکتا ہے ،آئے دن کسی نہ کسی علاقے میں شہری قلت آب سے تنگ آکر پمپنگ اسٹیشن پر جمع ہوکر احتجاج کرتے ہیں اور واٹر بورڈ کے والو مین کی جگہ خود والومین بن کر پانی فراہم کرنے والا والو کھول دیتے ہیں جو کسی طور درست نہیں ہے.
یہاں غور طلب امر یہ ہے کہ شہر میں پانی کا شدید بحران ،احتجاج،بحران شدہ علاقوں میں پانی غائب ،قلت آب کے سبب عوام ذہنی مریض بن کر رہ گئے ہیں .مگرٹینکر مافیا کو وافر مقدار میں پانی کہاں سے اور کیسے دستیاب ہے ؟
یہ کرامت واٹر اینڈ سیوریج بورڈ میں موجود پہنچے ہوئے حضرات سے ظہور پذیر ہوتی ہے.واٹربورڈ میں چھپی ہوئی کالی بھیڑیں اپنا اثر رسوخ استعمال کرتے ہوئے پانی کی منصفانہ تقسیم میں ایک بڑی رکاوٹ ہیں ،اور واٹر بورڈ میں موجود یونینز بھی اس صورتحال میں اپنا فعال کردار ادا کرنے میں یکسر ناکام نظر آتی ہیں .کراچی میں بعض علاقوں میں پانی بلاتعطل پورا سال فراہم کیاجاتا ہے یہ کراچی کا صنعتی زون ہے جہاں واٹر بورڈ کے بدعنوان عناصر بھاری بھرکم نذرانے وصول کرکے پانی کی مسلسل فراہمی یقینی بناتے ہیں جب کہ ان کی نسبت دیگر علاقے ایسے بھی ہیں جہاں پانی ہفتہ یا پندرہ دن میں دو سے تین دن فراہم کیا جاتا ہے .ایک وقت تھا فراہمی آب کے اوقات مقررتھے مگر اب ان اوقات کی کوئی اوقات نہیں رہی اور جب چاہا پانی بند کردیا .ان حالات سے سب سے زیادہ فائدہ ٹینکرمافیانے اٹھایا ،پانی سے لبالب بھرے ہائیڈرینٹس سے ٹینکر مافیا پانی بھر بھر کر پیاسے شہریوں کو یہ سستا پانی سونے کے بھاؤ فروخت کررہے ہیں ان ٹینکر مافیا کے کاروبار کو چار چاند لگانے کے لیے واٹر بورڈ کے بد عنوان افسران شبانہ روز انتھک کوششوں کے بعد پانی کا مصنوعی بحران پیدا کرکے ٹینکر مافیا کو یہ سہولت فراہم کرتے ہیں جب کہ ہائیڈرینٹس پر پانی وافر مقدار میں موجود ہوتا ہے جو ٹینکر مافیا کے ساتھ مل کرتجارتی بنیادوں پر استعمال کیاجارہاہے .واٹربورڈ ملازمین اس کار خیر میں برابر کے شریک ہیں ان خدمات کے عیوض بھاری بھرکم رقوم وصول کی جاتی ہیں ،متعلقہ محکمے کی غفلت کے سبب حب ڈیم سے پانی سپلائی کے راستے میں غیر قانونی کنوئیں بن گئے جس کی وجہ سے ضلع غربی کو پانی کی سپلائی میں اکثر تعطل آتاہے اور علاقہ مکین پانی کے انتظار میں رات بھر جاگتے ہیں اس کے باوجود پانی میسر نہیں ان حالات میں شہری جبرا یا صبرا مہنگے داموں پانی ٹینکر مافیا سے خریدنے پر مجبور ہیں.
واٹر بورڈ کے بدعنوان عناصر کے ان ہی کارہائے نمایاں کی سبب بعض مقامات پر کچی اور غیرقانونی آبادیوں میں پانی کے غیر قانونی کنکشن فراہم کیے جانے سے بھی پانی کا بحران پیدا ہوا ہے ،یہ غیر قانونی کنکشن واٹربورڈ کے آشیر باد کے ساتھ شہر بھر میں موجود ہیں جب کرتا دھرتا افراد سے قلت آب کی بابت بازپرس کی جاتی ہے تو یہ سوچا سمجھا بہانہ یعنی حب ڈیم میں پانی کی سطح میں کمی کا جواز ،یا بجلی کی عدم فراہمی کا بہانہ پیش کرکے بری الذمہ ہوجاتے ہیں .مجبورا شہری اپنا حق پانی ٹینکرز مافیا سے اس ہوشربا مہنگائی میں ہزاروں روپوں کے عیوض لمبی قطاریں لگاکر لینے پر مجبور ہیں .
حکومت وقت تمام معاملات بالائے طاق رکھتے ہوے قلت آب کے مسئلے کو ہنگامی بنیادوں پر حل کرے اور ارباب اختیار سے درخواست ہے کہ واٹر بورڈ میں موجود بد عنوان عناصر کے خلاف محکمہ جاتی کاروائی کی جاے اور ایسی موثر حکمت عملی ترتیب دی جاے کہ اس محکمے میں چھپی ہوئی کالی بھیڑوں کا خاتمہ کرکے پانی کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنایا جائے اور پانی چوری کے عمل کی روک تھام کی جائے .کیوں کہ عوام کی قوت برداشت ختم ہوچکی ہے اس سے پہلے کہ پانی سر سے گذر جائے کچھ سدباب کیجیے ،شومئی قسمت پانی سر سے گذرنے کے لیے بھی پانی کا ہونا ضروری ہے اور پانی ؟
سنو غور سے سنو ،کیا کہہ رہا ہے پاکستان ،چیخ رہاہے،بول رہاہے۔مانگ رہاہے پاکستان ….جی ہاں پیاسا ہے میرا پاکستان..!!
بجلی،گیس کے بعد پانی بھی ہوگیا رخصت
کراچی شہر کا منظر بھی اب گاؤں جیسا ہے

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*