بنیادی صفحہ -> اداریہ،کالم -> کتاب دوستی کا سفر
کتاب دوستی کا سفر

کتاب دوستی کا سفر

کتاب دوستی کا سفر
آوارگی
شہزاد اسلم راجہ
صاحبو! کتاب سے دوستی تو اسی دن سے ہو گئی تھی جس دن میں نے کچی جماعت والا سبز رنگ کا قاعدہ پکڑ کر پڑھنا شروع کیا تھا اور یہ سفر کتاب پڑھنے سے کتاب لکھوانے تک بھی چل نکلا ۔بچپن میں میرے والد صاحب مجھے اور میرے بڑے بھائی صاحب کو بچوں کے رسائل پڑھنے ک لئے لا دیتے تھے اور کبھی کبھار اچھی اچھی کہانیوں پر مشتمل کتابیں بھی پڑھنے کے لئے لا دیتے ۔مجھے یاد پڑتا ہے کہ میں نے جو پہلی کتاب خود جا کر خریدی تھی وہ کرنل اشفاق حسین کی ”فاتح سبونہ“ تھی ۔کتاب سے دوستی کا میرا یہ سفر تقریبا ۰۳ سال پر محیط ہو گا۔بقول پیارے دوست علی عمران کے جو کتاب دوست ہے وہ ادب دوست ہے اور کتاب سے تعلق انسان کا سب سے بہترین تعلق ہے،کتاب سے دوستی علم و محبت کا رشتہ ہے۔فقیر کا بھی کتاب سے تعلق ہے اور فقیر ادب دوست بھی ہے۔ اور یہ کتاب دوستی کا سفر چلتے چلتے آج لاہور کے سب سے بڑے کتاب میلے ”لاہور بیسٹیول “ تک پہنچا۔اس برس گزشتہ ماہ جب لاہور کے سب سے بڑے کتاب میلے ”لاہور بیسٹیول“ کا انعقاد کیا جانے لگا تو ”کتاب سرائے“ والے جناب محمد جمال الدین افغانی صاحب کا بھلا ہو جنہوں نے اس کتاب میلے کے سفر میں کتاب دوستی میں بڑے بڑے نام جیسے واصف علی واصف ، قاسم علی شاہ ، آغا طاہر اعجاز، بانو قدسیہ،اشفاق احمد، بل گیٹس، شہزاد نیئر ، امجد جاوید، زاہد شمسی ، یاسمین بخاری صاحبہ، مرزا یٰسین بیگ ، شہزاد عاطر ، ڈاکٹر تنویر سرور چوہدری اور اسعد نقوی کے ساتھ ساتھ فقیر کو بھی شامل رکھا۔لاہور کا یہ سب سے بڑاکتاب میلہ گزشتہ ہفتے پانچ دن ایکسپو سنٹر میں سجا رہا ۔ اگرچہ یہ کتاب میلہ شروع ہونے کے دنوں میں راستے آسیہ مسیح کیس کے احتجاجی دھرنوںکی وجہ سے بند تھے پھربھی بہت سے کتاب دوست اور ادب دوست لوگ بندراستوں میں رکاوٹوں کی پرواہ نا کئے بنا لاہوربیسٹیول ایک محتاط اندازے کے مطابق تین لاکھ کی تعدادمیں پہنچے ۔ اس کتاب میلے میں تقریبا اڑھائی سو (۰۵۲) زائد پبلشرزنے اپنے سٹال لگائے ۔ جہاں بہت ساری کتابیں مختلف موضوعات پر رعائتی نرخوں پر ایک چھت تلے دستیاب تھیں ۔اس کتاب میلے کا انعقاد قاسم علی شاہ صاحب کی سرپرستی میں کتاب سرائے کے محمد جمال الدین افغانی ، مکتبہ رحمانیہ سے عقیل مقبول ، علم و عرفان پبلشرزسے گل فراز اور دارلسلام پبلشرز سے عکاشہ مجاہد نے کیا۔شاہد ڈوگر صاحب بھی ان کے پیش پیش تھے ۔ اس کتاب میلے میں جہاں کتابیں فروخت ہوئیں وہاں پر بہت سی ادبی نشستیں اور ادبی پروگرام بھی ہوتے رہے ۔ ڈاکٹر حسن صہیب مراد کے حوالے سے ”کچھ یادیں ۔۔کچھ باتیں “کے عنوان سے ایک بہت اچھی اور یاد گار تقریب ہوئی جس میں ڈاکٹر صہیب حسن مراد کی صاحبزادی اور ان کے بھائی نے خصوصی شرکت کی ۔اس لاہور بیسٹیول میں جہاں بہت سارے مصنفین اور مولفین آئے وہاں خصوصی طور پر جناب قاسم علی شاہ، میاں محمد اسلم صوبائی وزیر صنعت و تجارت ، چیف جستس لاہور ہائی کورٹ جناب جسٹس انوارلحق، معروف اداکارہ ثمینہ پیرزادہ ، جگن کاظم ، معروف شاعرو مصنف جناب امجد اسلام امجد ، جناب قیوم نظامی، جناب فرخ سہیل گوئندی بھی تشریف لائے ۔ آنے والے کتاب دوست اور ادب دوست کتابیں خریدنے کے ساتھ ساتھ وہاں آئے ہوئے دیگر مصنفین و مولفین سے بھی ملاقاتیں کر تے رہے ۔بیسٹیول کے تیسرے روز کی قابل ذکر تقریب اکادمی ادبیات اطفال کے زیر اہتمام ”بچوں کا دب اور ہماری ذمہ داریاں “کے عنوان سے منعقد کی گئی ۔پھول شعیب مرزا اور سیکرٹری اکادمی وسیم عالم نے مقابلوںمیں شریک بچوں میں تحائف ااور کتب بھی تقسیم کیں۔کتاب میلے کا چوتھا دن اتوار کا روز تھا ۔ اس دن پچھلے تین دنوں کی نسبت زیادہ کتاب دوست اور ادب دوست اس لاہور بیسٹیول میں آئے ۔ راقم الحروف بھی اسی دن کتاب میلے میں اپنی بیگم اور اپنی بیٹی قراةالعین کے ساتھ حاضر ہوا ۔سب سے پہلے رابعہ بک ہاﺅس کے سٹال پر بچوں کے لئے لکھائی تربیت کے لئے کاپیاں خریدنے لگا تو بہت ہی پیارے اور پھولوں کی مہک والے بھائی عبد الصمد مظفرسے ٹاکرا ہوا ۔ اس کے ساتھ ہمارے ایک بہت ہی محبت کرنے والے دوست عابد قادری بھی تھے ۔ ابھی عابد قادری سے بغل گیر ہوکے گلے سے الگ ہونے ہی والے تھے کہ من موہنے دوست شہباز اکبر الفت بھی آن پہنچے ان کے ساتھ کرن کرن روشنی کے چیف ایڈیٹر علی عمران ممتاز اور ادب اطفال کے رورواں ندیم اختر بھائی بھی تھے ۔ ندیم اختر بھائی نے راقم الحروف پر یہ انکشاف کیا کہی ابھی وہ راستے میں ایک جگہ کتاب دوستی کے سفر کے سلسلے میں لگے ایک فیلکس جو کہ راقم الحروف کے نام سے ہی تھا دیکھ کر یہاںپہنچے ہیںجو کہ ایک آٹو رکشہ کے پیچھے لگا ہواتھا۔یہ بھی پتہ چلا کہ ٓج کے وفائے پاکستان ادبی فورم کے سرپرست اعلیٰ حاجی محمد لطیف کھوکھر نبے بچوں کے وہ ادیب جو آج کتاب میلے میں آنے کی خواہش رکھتے ہیں ان کے لئے لاہورہ ناشتہ کی دعوت تھی۔ یہ سب احباب حاجی لطیف کھوکھر صاحب کی طرف سے دیئے گئے لاہوری ناشتہ سے دو دو ہاتھ کر کے لاہور بیسٹیول میں آئے تھے۔پھول اور کلیاں ملتان کے سنیئر لکھاری ذولفقار باری صاحب سے ملاقات بھی رابعہ بک ہاﺅس کے سٹال پر ہوئی۔پھر پھول بھائی کے یہ کہنے پر کہ ”پیراں دی مٹی چھڈو تے اگے وی سٹالاں تے وی چلو“ سب دوست باقی لگے ہوئے کتب کے سٹال دیکھنے نکلے ۔اسی دوران ہماری ملاقات بزم قرآن میگزین کے ایڈیٹر محمد سرفراز اجمل سے ہوئی ۔ بہت پر تپاک انداز سے سرفراز اجمل صاحب سب سے ملے ۔صدارتی ایوارڈ یافتہ لکھاری فہیم عالم صاحب سے ملاقات کی خواہش لئے جب ہم سب دوست ”بچوں کا کتاب گھر“ کے سٹال پر پہنچے تو وہاں پر ابولحسن طارق صاحب ، قاری محمد عبداللہ صاحب اور امان اللہ نیئر شوکت صاحب سے بھی ملاقات ہوئی ۔سیلفیوں کادور چلا اور پھر جناب فہیم عالم صاحب سے ملاقات کی ۔اس دوران تمام ساتھی کتابوں کی خریداری بھی کرتے رہے ۔اکادمی ادبیات اطفال کے سٹال پر پہنچے تو جناب شعیب مرزا نے ہم سب کا کھلی بانہوں سے استقبال کیا ۔ اکادمی ادبیات کے سٹال سے رخصت ہوتے وقت شعیب مرزا صاحب نے میری بیٹی قراةالعین کو ڈھیرساری دعاﺅں کے ساتھ ساتھ ڈھیر ساری ٹافیاں بھی دیں ۔یہاں سے تھوڑا آگے چلے ہی تھے کہ بہت ہی پیارے بڑے بھائی وسیم عباس اور سنیئر استاد شاعر محمد علی صابری صاحب سے ملاقات ہوئی ۔ ڈھیر ساری دعائیں ان دونوں احباب سے لیں ایک بار پھر سیلفیوں کا دور چلا ۔آج کے دن جو خاص ادبی پروگرام منعقد ہوا وہ تھا ادبی تنظیم ”اثبات انٹرنیشنل “ اور لاہور ادبی فورم کے زیر اہتمام مشاعرہ۔ حاضرین و سامعین مشاعرہ کی بہت بڑی تعداد موجود تھی کہ بہت سے لوگوں نے تو یہ مشاعرہ کھڑے ہو کر سنا اور شعراءکرام کو داد سے نوازا۔اس مشاعرے کی نظامت کے فرائض شاہد رضا نے انجام دیئے ۔اس مشاعرہ میں ملک بھر سے شعراءکرام نے شرکت کی جن میں خاص طور پر نذیر قیصر ، ڈاکٹر اختر شمار حمیدہ شاہین ، عباس تابش، طارق چغتائی ، ممتاز راشد لاہوری، محمد علی صابری، وسیم عباس، شہباز نیئر ، شازیہ مفتی ، فراصت بخاری ، ڈاکٹر فخر عباس اور عاصم تنہا کا ذکرنا کرنا کنجوسی ہو گی ۔اس کتاب میلے میں جو تین یا ساڑھے تین لاکھ کی تعداد میں کتاب دوست اور ادب دوست لوگ آئے اس بات کی عکاس ہے کہ آج کے جدید اور ٹیکنالوجی کے دور میں بھی کتاب کی اہمیت کم نہیں ہوئی ۔ آج بھی ایسے کتاب دوست ہیں جو کتاب خرید کر پڑھنے کے شوقین ہیں ۔ کتابوں سے محبت کرتے ہیں ۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*