بنیادی صفحہ -> اداریہ،کالم -> چلی جا رہی ہے خدا کے سہارے

چلی جا رہی ہے خدا کے سہارے

چلی جا رہی ہے خدا کے سہارے
: چوہدری دلاور حسین
یہ درست ہے کہ انسان تنہا زندگی بسر نہیں کر سکتا۔کیونکہ تنہائی سے بڑا کوئی روگ نہیں ہے۔معاشرہ میں رہنے کیلئے ایک دوسرے کے ساتھ روابط استوار کرنا پڑتے ہیں۔معاشرہ دراصل بہت سے انسانوں کے ملکر وجود میں آنے کا نام ہے۔بیشک اسی طرح خاندان و برادریاں وجود میں آتی ہیں۔یہ تعلقات صرف گلی،محلے تک محدود نہیں ہوتے بلکہ بعض اوقات یہ ایک شہر سے دوسرے شہر تک اور ایک ملک سے دوسرے ملک تک بھی قائم کئے جاتے ہیں۔ان کے احترام اور مضبوطی کیلئے ڈاک، ریل، بسوں اور ہوائی جہازوں کو خاص طور پر فوقیت حاصل ہو تی ہے۔بنیادی مقصد صرف ایک دوسرے کی دلجوئی اور خبر گیری ہے۔ورنہ اختتام حیات کے موقع پر تو اپنے پرائے سب ہی دور اور نزدیک سے شرکت کرتے ہیں۔ہمارے اس پیارے دیس میں یوں تو عوامی خدمت کیلئے بہت سے ادارے کارفرما ہیں لیکن مسافت کیلئے پاکستان ریلوے کو خاص طور پر فوقیت دی جاتی ہے۔ریل میں چونکہ ایکانومی کلاس زیادہ اہمیت کی حامل ہے اور زیادہ تر عوام مالی حالت غیر مستحکم ہونے کی بنا ء پر اس کا انتخاب کرتے ہیں۔تاکہ کم پیسوں میں جلد از جلد منزل مقصود تک پہنچا جا سکے۔یوں تو دُنیا کے زیادہ تر ممالک جدید سے جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ لیس ہو کر اپنی عوام کوبے پناہ سفری سہولیات فراہم کر رہے ہیں لیکن بدقسمتی سے ہمارے ملک میں آج بھی وہی پرانی طرز کی دھکا سٹارٹ غیر محفوظ ریل گاڑیاں موجود ہیں جو ایک مسافروں کو ایک شہر پہنچانے کے بعد جبراً دوسرے شہر روانگی کیلئے کمربستہ ہوتی ہیں۔ان ریل گاڑیوں میں نہ تو درست طور پرباتھ موجود ہیں نہ پانی کا انتظام ہوگا اور سب سے بڑھ کر یہ کہ ٹوٹی پھوٹی سیٹیں اور گرمی کے موسم میں خراب کھڑ کھڑ کرتے مغلیہ دور کے عمر رسیدہ پنکھے جو ان گاڑیوں میں نصب ہو کر اور جبراً خدمات دے دے کر اپنی قسمت پر آنسو بہا رہے ہیں۔رات کے اوقات میں ریل گاڑی جیسے ہی اسٹیشن سے روانہ ہوئی یکدم ٹرین میں اندھیرا چھا گیا اور سرکاری بلب مدھم ہوتے ہوئے بجھ گئے۔ایسے میں ٹرین کے ساتھ ڈیوٹی کرنے والا ایس ٹی ٹکٹ چیکنگ کیلئے موبائل کی لائٹ پر اپنی ڈیوٹی نہایت ایمانداری کے ساتھ سرانجام دینے لگا۔بغل میں موجود سپاہی بغیر ٹکٹ سفر کرنے والوں سے مک مکا کر کے اپنی اور اپنے افسران کی خوشنودی کیلئے اشرفی جمع کرتا رہا۔بدقسمتی سے بیچارے غریب افراد جو فیملی کے ساتھ سفر کر رہے تھے وہ اس کی مکاری و عیاری کا شکار ہو گئے۔ اور اُن سوتے ہوئے مسافروں کو جگا کر تلاشی کے نام پر بھتہ اکٹھا کرنا بھی ان اہلکاران کا پرانا شیوہ ہے۔لیکن جو مسافر بااثر ہیں اور پروں پر پانی بھی نہیں پڑنے دیتے وہ ایکانومی کلاس کی ٹکٹ یا بغیر ٹکٹ کے ان کے ساتھ لین دین کرکے سلیپر میں اے سی کے مزے لوٹ رہے ہوتے ہیں۔جناب شیخ رشیدریلوے وزیر آپ گاڑیوں میں اضافہ کرنے پر تو مصر ہیں لیکن کبھی رات کے اوقات میں ایکانومی کلاس میں سفر کریں آپ کو معلوم ہوگا کہ گاڑی آئے گی،گاڑی جائے گی شاید کے یہ منزل مقصود پر بھی پہنچ پائے گی۔اسٹیشن پر تعینات اسٹیشن ماسٹر اور اسٹیشن سپرنٹنڈنٹ گاڑی کی روانگی اور آمد کا مکمل ذمہ دار ہوتا ہے۔جبکہ ڈی سی او،ڈی ٹی او، ڈی ایس ریلوے اور اسی طرح سے ڈیپارٹمنٹ میں موجود ذمہ داران افسران کی یہ اوّلین ذمہ داری ہے کہ وہ ریل گاڑیوں سے متعلق تمام عوامی شکایات پر بلا چوں چراں اور سیاسی دباؤ سے بالا تر ہو کر ذمہ داران کے خلاف سخت سے سخت تادیبی کاروائی عمل میں لائیں۔لیکن دام بنائے کام، جس کی لاٹھی اُس کی بھینس کے قانون پر عملدرآمد کرتے ہوئے محکمانہ قوانین کو بالائے طاق ردی کی ٹوکریوں میں ڈال کر خوب خواب خرگوش کے مزے لئے جاتے ہیں۔پارسل بکنگ عملہ کی کارکردگی بھی جدید نظام سے آراستہ ہے۔یعنی جو چیز ان کے سپرد کی جائے وہ بخیر و عافیت منزل تک پہنچ جائے تو شکرانے کے نوافل ادا کریں ورنہ راستے ہی سے نو دو گیارہ کر دینا بھی عملہ کیلئے بائیں ہاتھ سے کم نہیں ہے۔ رہی بات سینئر سیٹزنز و نوعمر بچوں کی رعایتی ٹکٹ کی تو یہ بھی ٹکٹنگ کلرک مافیا کی ہیرا پھیری سے بچ نہیں پاتے۔ٹکٹ کی عدم دستیابی کا بہانہ تو ریلوے بکنگ کلرکس کا پرانا شیوہ ہے۔وزیر ریلوے آپ کے دور مبارک میں نہ صرف ریل کے کرایوں میں بے پناہ اضافہ کیا جار ہا ہے روزبروز حادثات تیزی سے رونما ہو رہے ہیں بلکہ جو آپ نے گاڑی کے بروقت منزل تک پہنچنے کا فرمان جاری کر رکھا ہے وہ ذمہ داران ہواؤں میں اُڑا رہے ہیں بلکہ مذاق بنا کر لطائف کی شکل میں دوران سفر مسافروں کو سنا کر خوب خوش گپی کا ماحول پیدا کرتے ہیں۔یہ درست ہے کہ آج پاکستان ریلوے جدید نظام سے آراستہ ہے۔آن لائن بکنگ ہی کو لیجئے دُنیا میں یہ نظام تیزی سے ترقی پا رہا ہے اور وہاں اِنٹرنیٹ کی تیز ترین سروس صارف کو بغیر کوئی لمحہ ضائع کئے بروقت سروس مہیا کر رہی ہے لیکن اگر ہم اس کا موازنہ یہاں کے نظام سے کریں تو سوائے شرمندگی کے اور کچھ حاصل نہ ہوگا۔ٹکٹ کی بکنگ کیلئے انتظار کی گھڑی کو سینے سے لگا کر بیٹھنا پڑتا ہے اور تب کہیں جا کر ٹکٹ کی بکنگ کا مرحلہ طے پاتا ہے۔راقم یہاں قارئین و انتظامیہ کی تو جہ مبذول کروانا چاہتا ہے کہ دوران سفر پلیٹ فارم و ٹرین میں سگریٹ نوشی پر پابندی کیلئے قوانین کا سختی سے عملدرآمد نہایت ضروری ہے۔ریل گاڑ ی کے ساتھ کارآمد انجن کا ہونا نہایت ضروری ہے اور مسافری ڈبوں کی مکمل دیکھ بھال و مرمت روانہ ہونے سے پہلے از حد ضروری ہے۔مزید یہ کہ ذمہ داران کا اپنے فرائض سے دیانتداری نہ صرف قیمتی جانوں کو دوران سفر محفوظ طریقوں پر عمل پیرا ہوتے ہوئے منزل تک پہنچانا ہے بلکہ حادثات کی صورت میں مسافروں کی انشورنس ہونا بھی ضروری ہے تاکہ محکمہ ریلوے اپنے مسافروں کو جانی نقصان کی صورت میں تحفظ فراہم کر سکے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*