بنیادی صفحہ -> اداریہ،کالم -> آگاہی اور احتیاط سے ایڈز کاپھیلاؤ روکا جا سکتا ہے

آگاہی اور احتیاط سے ایڈز کاپھیلاؤ روکا جا سکتا ہے

آگاہی اور احتیاط سے ایڈز کاپھیلاؤ روکا جا سکتا ہے
ڈاکٹر فیصل سلطان

دنیا بھر میں ہر سال یکم دسمبر کو ایچ آئی وی /ایڈز سے بچاؤ اور آگاہی کا عالمی دن منایا جا تا ہے۔ Human Immunodeficiency Virus (HIV) ایک وائرس ہے جو جسم کے اندر داخل ہو جائے تو بیماریوں کے خلاف جسم میں موجود مدافعتی نظام کو کمزور کرنے کا عمل شروع کر دیتاہے اور جس شخص کے جسم میں یہ وائرس شناخت ہو جائے اسے ایچ آئی وی پازیٹو کہا جا تا ہے۔ یہ وائرس کئی سالوں تک خاموشی سے جسم کے مدافعتی نظام کے خلاف اپناکام کرتا رہتا ہے اور ایک سٹیج ایسی آتی ہے جب یہ اس نظام کو ناکارہ بنادیتاہے اور ایڈز یعنی Acquired Immune Deficiency Syndrome (AIDS) میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ یو ں کہا جا سکتا ہے کہ ایچ آئی وی کا وائرس ایک وجہ ہے جبکہ ایڈز اس وجہ سے ہونے والی ایک بیماری ہے۔

ایچ آئی وی کے وائرس کی جسم میں موجودگی کا خود مریض کو بھی کئی سالوں تک علم نہیں ہوتا۔ اسے کوئی بیماری محسوس نہیں ہوتی اور وہ بظاہر بالکل تندرست دکھائی دیتاہے۔ یہ ہی اس کے پھیلاؤ کی ایک وجہ بھی ہے جس میں مریض نا دانستگی میں اس وائرس کو اپنے جسم سے کسی اور شخص کے جسم میں منتقل کر سکتاہے۔ لیکن جیسے ہی وائرس جسم کے قوت مدافعت کے نظام پر حاوی ہو تا ہے تو پھر علامات نظر آنا شروع ہو جاتی ہیں۔ مریضکا وزن کم ہونا شروع ہو جاتا ہے اور اس کو وجہ سمجھ نہیں آتی، مریض کو کئی کئی مہینے ہلکا ہلکا بخار رہ سکتا ہے، جسم میں گلٹیا ں بننا شروع ہو جاتی ہیں، پیٹ خراب رہنا شروع ہو جاتا ہے۔ اس کے علاوہ کچھ لوگوں کو جلد کی مختلف بیماریا ں یا نمونیہ یا ٹی بی جیسی بیماریاں ہو جاتی ہیں جو کہ ویسے تو کسی بھی شخص کو ہو سکتی ہیں لیکن ایچ آئی وہ پازیٹو کو زیادہ جلدی اس لیے ہو جاتی ہیں کیونکہ ان کی قوت مدافعت کمزور ہو تی ہے۔ یعنی کوئی ایک وجہ یا علامت ایسی نہیں ہے جو اس کے ساتھ مخصوص کی جاسکے بلکہ اس کی بہت سی مختلف علامات ہو سکتی ہیں۔عام طور پراس وائرس کو جسم کے مدافعتی نظام کے خلاف کامیاب ہونے میں پانچ سے دس سا ل کا عرصہ لگ سکتا ہے اور دس سال کے بعد یہ اپنے عروج پر پہنچنا شروع ہو جاتا ہے۔
اگرچہ یہ مختلف طریقوں سے ایک شخص سے دوسرے کو منتقل ہو سکتاہے لیکن جنسی تعلقات کے ذریعے سب سے زیادہ پھیلتاہے۔ اس میں یہ مرد سے عورت، عورت سے مرد یا مرد سے مرد میں منتقل ہو جاتا ہے۔ اس کے علاوہ متاثرہ شخص کے انتقال خون اور میڈیکل سرنج کے بار بار استعمال سے بھی منتقل ہو سکتاہے۔ اس لیے بہت ضروری ہے کہ سرنج ہمیشہ ڈسپوزیبل ہی استعمال کی جائے اور استعمال کے بعد اسے تلف کر دیا جائے۔ اسی طرح ایڈز متائثرہ ماں سے بچے میں بھی منتقل ہو جاتا ہے اور یہ ایک ایسی قسم ہے جسے ادویات کے ذریعے کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔ یہ مرض معمول کے انسانی رابطوں جیسا کہ ہاتھ ملانے، گلے ملنے، ایک برتن یا کمرہ استعمال کرنے سے نہیں منتقل ہوتالیکن اگر متاثرہ شخص کے جسم سے خون یا کوئی رطوبت خارج ہو رہی ہو اور وہ صحت مند شخص کے جسم میں داخل ہو جائے تو اس سے یہ وائرس منتقل ہو سکتاہے۔ البتہ یہ ایک موروثی بیماری نہیں ہے۔
ایڈز کے پھیلاؤ کو روکنے کے ضمن میں سب سے اہم بات اس حوالے سے آگاہی ہے۔ ظاہری بات ہے جب کسی شخص کو اس کے پھیلاؤ کے اسباب کے بارے میں علم ہو گاتو وہ اس سے بچنے کی زیادہ کوشش کرے گا۔ اس کے علاوہ محفوظ جنسی تعلقات اور محفوظ انتقال خون کے ذریعے اس کو کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔ لیکن ہماری سوسائٹی میں اس حوالے سے سب سے اہم اقدامات ہیلتھ کئیر کے نظام میں کرنے کی ضرورت ہے ڈاکٹرز اور ڈینٹسٹ کے کلینک یا جہاں کہیں بھی سرنج کا استعمال کیا جاتا ہے وہاں اس بات کو یقینی بناناانتہائی ضروری ہے کہ وہ سرنج دوبارہ استعمال نہ ہو۔
اس مرض کے علاج کے حوالے سے تحقیق و تجربا ت جا ری ہیں اور آج کل ایسی ادویات بھی آچکی ہیں جو اس صورتحال میں انفیکشن کے رسک کو کم سے کم کرنے میں مددگار ہیں۔ لیکن اگر علاج سے مراد یہ لی جائے کہ دوائی کھائی اور یہ وائرس جسم سے ختم گیا تو ایسا ممکن نہیں ہے۔ البتہ ادویات کے استعمال سے وائرس کی مقدار جسم میں اتنی کم ہو جاتی ہے کہ وہ نقصان پہنچانے کے قابل نہیں رہتا۔ ایچ آئی وی ایڈز کا علاج حکومتِ پاکستان کے نیشنل ایڈز کنٹرول پروگرام کے تحت بلا معاوضہ فراہم کیا جاتا ہے۔ اس پروگرام کے تحت 20 ٹریٹمنٹ سنٹرز ہیں جہاں سے مریضوں کو یہ ادویات دی جاتی ہیں اور یہ اتنی موئثر ادویات ہیں کہ ایک گولی جس میں تین اینٹی وائرل دوائیاں ہوتی ہیں اس کے کھانے سے وائرس جسم کو نقصان پہنچانے کے قابل نہیں رہتا بلکہ اس کا ایک اضافی فائدہ یہ بھی ہوتا ہے کہ ایسا شخص جس کے جسم میں وائرس موجود ہے لیکن وہ باقاعدگی سے دوائیاں لے رہا ہے تو اس کے ذریعے اس وائرس کے کسی اورشخص کو منتقل کرنے کے امکانات بھی بہت کم ہو جاتے ہیں۔

یو ں تو پاکستان میں اس حوالے سے کافی کام ہو رہا ہے لیکن میں یہ سمجھتا ہوں کہ ہم ان ممالک میں شامل ہیں جہاں ابھی یہ مرض ختم ہوتا نظر نہیں آرہا۔ 2018کے اعدادو شمار کے مطابق پاکستان میں تقریباً 160000ایچ آئی وی پازیٹو افراد موجود ہیں جبکہ اس کے تقریباً 22000نئے مریض رجسٹر ہوئے ہیں۔ یہ ایک پریشان کن صورتحال ہے کیوں کہ بہت سے ایسے ممالک جہاں یہ وائرس ہم سے پہلے آیا وہاں اب اس کے نئے کیس رجسٹر ہونے کی تعداد کم ہوچکی ہے۔ اس کی ایک وجہ اس بیماری کا ٹیبو (taboo) ہونا بھی ہے۔ اس حوالے سے بات کرنا، سکریننگ اور ٹیسٹنگ کے مرحلے سے گزرنا ایک نا پسندیدہ عمل سمجھا جاتا ہے۔پاکستان بھر میں HIV کے ٹیسٹ کی سہولت با آسانی دستیاب ہے اور یہ کسی بھی مستند لیبارٹری سے کروایاجا سکتا ہے لیکن اس ٹیسٹ کی کنفرمیشن بہت ضروری ہے کیونکہ ابتدائی رپورٹ پر بھروسہ کر نا غلط بھی ہوسکتا ہے۔ ایڈز کی ٹیسٹنگ ہمیشہ دو مرحلوں میں ہوتی ہے پہلے ٹیسٹ کے بعد کنفرمیٹری ٹیسٹ کروایا جاتا ہے لیکن اس حوالے سے انتہائی ماہر اور مستند ڈاکٹرسے مشورہ کرنا ضروری ہوتا ہے تا کہ کسی قسم کی غلطی کا امکان نہ رہے۔ اس کے علاوہ ایڈز کی سکریننگ کے لیے سرکاری طور پر بہت سارے والنٹئیری ٹیسٹنگ سنٹر اور 20ٹریٹمنٹ سنٹر ز میں بھی یہ سہولت فراہم کی جارہی ہے۔ ان سنٹرزمیں کی جانے والی تمام کاروائی کو خفیہ رکھا جاتا ہے اور کسی بھی مریض کی معلومات کو سوائے نیشنل ایڈز کنٹرول پروگرام کے ریکارڈ کے کہیں اورنہیں دیا جاتا۔
اگرچہ شوکت خانم میموریل کینسر ہسپتال اور ریسرچ سنٹر کی اولین ترجیح کینسر کے مریضوں کو تشخیص و علاج کی بین الاقوامی معیار کی سہولیات کرنا ہے لیکن جب ایک کینسر کے مریض کا علاج شروع کیا جاتا ہے تو اس کے ساتھ ساتھ مریض کولاحق دیگر بیماریوں کو بھی کنٹرول کرنا پڑتا ہے۔ شوکت خانم میموریل کینسر ہسپتال اور ریسرچ سنٹر میں انفیکشس ڈیزیز کنٹرول کی نہایت قابل اور تجربہ کار ٹیم موجود ہے جو مریضوں کو اس حوالے سے راہنمائی فراہم کرتی ہے۔
پاکستان میں ایڈز کو کنٹرول کرنے کا علاج با آسانی اور مفت دستیاب ہے۔ اگر کسی شخص میں اس بیماری کی تصدیق ہو گئی ہے تو اسے چاہییکہ وہ فوری طور پراس کا علاج شروع کروائے۔ اس طرح نہ صرف وہ خود معاشرے کا ایک کار آمد فرد بن سکتاہے بلکہ اس کے ذریعے ایڈز کے آگے پھیلاؤ کے امکانات بھی کم ہو جائیں گے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*