بنیادی صفحہ -> اداریہ،کالم -> جان ہے تو جہان ہے!

جان ہے تو جہان ہے!

جان ہے تو جہان ہے!
تحریر۔۔۔ڈاکٹر فیاض احمد
حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ایک بار اللہ تعالیٰ سے پوچھا یا باری تعالیٰ انسان آپ سے آپ کی نعمتوں میں سے کوئی ایک نعمت مانگے تو کیا مانگے اللہ تعالیٰ نے فرمایا صحت،صحت اللہ تعالیٰ کا حقیقتاً بہت بڑا تحفہ ہے اور قدرت نے جتنی محبت اور منصوبہ بندی انسان کو صحت مند رکھنے کے لئے کی ہے اتنی شاید کائنات کے لئے نہیں کی ہمارے جسم کے اندر ایسے ایسے نظام موجود ہیں کہ ہم جب ان پر غور کرتے ہیں تو عقل حیران رہ جاتی ہے ہم میں سے ہر شخص ساڑھے چار ہزار بیماریاں لے کر پیدا ہوتا ہے یہ بیماریاں ہر وقت سرگرم عمل رہتی ہیں مگر ہماری قوت مدافعت ہمارے جسم کے نظام ان کی ہلاکت آفرینیوں کو کنٹرول کرتا ہے مثلاً ہمارا منہ روزانہ ایسے جراثیم پیدا کرتا ہے جو ہمارے دل کو کمزور کردیتے ہیں مگر ہم جب تیز چلتے ہیں یا جاگنگ کرتے ہیں تو ہمارا منہ کھل جاتا ہے ہم تیز تیز سانس لیتے ہیں یہ تیز تیز سانسیں ان جراثیموں کو مار دیتی ہیں اور یوں ہمارا دل ان جریثیموں سے بچ جاتا ہے
دنیا کا پہلا بائی پاس مئی انیس صد ساٹھ میں ہوا مگر قدرت نے اس بائی پاس میں استعمال ہونے والی نالی لاکھوں، کروڑوں سال قبل ہماری پنڈلی میں رکھ دی یہ نالی نہ ہوتی تو شاید دل کا بائی پاس ممکن نہ ہوتا اسی طرح گردوں کی ٹرانسپلانٹیشن جون انیس صد پچاس میں شروع ہوئی مگر قدرت نے کروڑوں سال قبل ہمارے دو گردوں کے درمیان جگہ رکھ دی جہاں تیسرا گردہ فٹ ہو جاتا ہے اسی طرح ہماری پسلیوں میں چند انتہائی چھوٹی چھوٹی ہڈیاں ہیں یہ ہڈیاں ہمیشہ فالتو سمجھی جاتی تھیں مگر آج پتہ چلاکہ دنیا میں چند ایسے بچے پیدا ہوتے ہیں جن کے نرخرے جڑے ہوتے ہیں یہ بچے اس عارضے کی وجہ سے نہ اپنی گردن سیدھی کرسکتے ہیں اور نہ ہی نگل سکتے ہیں اور نہ ہیں عام بچوں کی طرح بول سکتے ہیں سرجنوں نے جب ان بچوں کے نرخروں اور پسلی کی فالتو ہڈیوں کا تجزیہ کیا تو معلوم ہوا پسلی کی یہ فالتو ہڈیاں اور نرخرے کی ہڈی ایک جیسی ہیں چنانچہ سرجنوں نے پسلی کی چھوٹی ہڈیاں کاٹ کر حلق میں فٹ کردیں اور یوں یہ معذور بچے نارمل زندگی گزارنے لگے جیسے ہمارا جگر جسم کا واحد عضو ہے جو کٹنے کے بعد دوبارہ پیدا ہو جاتا ہے ہماری انگلی کٹ جائے، بازو الگ ہو جائے یا جسم کا کوئی دوسرا حصہ کٹ جائے تو یہ دوبارہ نہیں اگتا جب کہ جگر واحد عضو ہے جو کٹنے کے بعد دوبارہ اگ جاتاہے سائنس دان حیران تھے کہ قدرت نے جگر میں یہ اہلیت کیوں رکھی آج پتہ چلا کہ جگر عضو رئیس ہے اس کے بغیر زندگی ممکن نہیں اور اس کی اس اہلیت کی وجہ سے یہ ٹرانسپلانٹ ہو سکتا ہے ہم دوسروں کو جگر ڈونیٹ کر سکتے ہیں یہ قدرت کے چند ایسے معجزے ہیں جو انسان کی عقل کو حیران کر دیتے ہیں جبکہ ہمارے بدن میں ایسے ہزاروں معجزے چھپے پڑے ہیں اور یہ معجزے ہمیں صحت مند رکھتے ہیں ہم روزانہ سوتے ہیں ہماری نیند موت کا ٹریلر ہوتی ہے انسان کی اونگھ، نیند، گہری نیند، بے ہوشی اور موت پانچوں ایک ہی سلسلے کے مختلف مراحل ہیں ہم جب گہری نیند میں جاتے ہیں تو ہم اور موت کے درمیان صرف بے ہوشی کا ایک مرحلہ رہ جاتا ہے ہم روز صبح موت کی دہلیز سے واپس آتے ہیں مگر ہمیں احساس تک نہیں ہوتا
ہم اگر کسی دن میز پر بیٹھ جائیں اور سر کے بالوں سے لے کر پاؤں کی انگلیوں تک صحت کا تخمینہ لگائیں تو ہمیں معلوم ہو گا کہ ہم میں سے ہر شخص ارب پتی ہے ہماری پلکوں میں چند مسل ہوتے ہیں یہ مسل ہماری پلکوں کو اٹھاتے اور گراتے ہیں اگر یہ مسل جواب دے دیں تو انسان پلکیں نہیں کھول سکتا دنیا میں اس مرض کا کوئی علاج نہیں ہے دنیا کے پچاس امیر ترین لوگ اس وقت اس مرض میں مبتلا ہیں اور یہ صرف اپنی پلک اٹھانے کے لئے دنیا بھر کے سرجنوں اور ڈاکٹروں کو کروڑوں ڈالر دینے کے لئے تیار ہیں اسی طرح ہمارے کانوں میں کبوتر کے آنسو کے برابر مائع ہوتا ہے یہ پارے کی قسم کا ایک لیکوڈ ہے ہم اس کی وجہ سے سیدھا چلتے ہیں یہ اگر ضائع ہو جائے تو ہم سمت کا تعین نہیں کر پاتے ہم چلتے ہوئے چیزوں سے الجھنا اور ٹکرانا شروع کردیتے
اسی طرح لوگ صحت مند گردے کے لئے تیس چالیس لاکھ دینے کو تیار ہو جاتے ہیں آنکھوں کا قرینا لاکھوں روپے میں بکتا ہے دل کی قیمت لاکھوں کروڑوں میں چلی جاتی ہے ہماری ایڑی میں درد ہو تو ہم اس درد سے چھٹکارے کے لئے لاکھوں روپے دینے کو تیار ہو جاتے ہیں دنیا کے لاکھوں امیر لوگ کمر درد کا شکار ہیں گردن کے مہروں کی خرابی انسان کی زندگی کو اجیرن کردیتی ہے انگلیوں کے جوڑوں میں نمک جمع ہو جائے تو انسان موت کی دعائیں مانگنے لگتا ہے اسی طرح قبض اور بواسیر نے لاکھوں کروڑوں لوگوں کی مت مار دی ہے دانت اور داڑھ کا درد راتوں کو بے چین بنادیتا ہے اسی طرح آدھے سر کا درد ہزاروں لوگوں کو پاگل بنا دیتا ہے شوگر، کولیسٹرول اور بلڈپریشر کی ادویات بنانے والی کمپنیاں ہر سال اربوں ڈالر کماتی ہیں اور آپ اگر خدانخواستہ کسی جلدی مرض کا شکار ہو گئے ہیں تو آپ جیب میں لاکھوں روپے ڈال کر پھریں گے مگر آپ کو شفا نہیں ملے گی اسی طرح منہ کی بدبو کا مسئلہ بھی ہے ہم لاکھوں روپے جیب میں ڈال کر گھومتے ہیں لیکن اس کو کوئی حل نہیں کر سکتا ہے ان سب باتوں سے ثابت ہوتا ہے کہ انسان چاہے کچھ بھی کر لے لیکن صحت جیسی نعمت کسی ڈاکٹر یا سرجنوں سے خرید نہیں سکتا کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا ہوتی ہے اس لئے جب بھی اللہ تعالیٰ سے کچھ مانگو تو سب سے پہلے اپنی صحت مانگو اس لئے کہ اس سے بہتر دنیا میں کوئی چیز نہیں ہے لیکن آجکل لوگ صحت کے بجائے پیسے کے پیچھے زیادہ بھاگتے ہیں لیکن صحت سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں مگر بعد میں انہی پیسوں سے صحت خریدنے چل پڑتے ہیں لیکن بے سود
اب پچھتائے کیا ہو جب چڑیاں چن گئی کھیت

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*