بنیادی صفحہ -> اداریہ،کالم -> پاکستان سے نیل کے ساحل تک

پاکستان سے نیل کے ساحل تک

پاکستان سے نیل کے ساحل تک
ڈاکٹر محمد اکرم الاسدی
(گزشتہ سے پیوستہ)گنبدِ خضراء نگاہوں کے سامنے تھا۔ اللہ اللہ یہ اس شہنشاہ کونین کا دربار ہے جس کے آستانِ جنت نشان کی اپنی پلکوں سے جاروب کشی کو شاہانِ زمانہ اپنے لیے سب سے بڑی سعادت تصور کرتے ہیں۔ بارگاہِ رسالتمآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں درودوسلام کا نذرانہ پیش کیا۔ مسجد میں نمازِ عشاء ادا کر کے واپس ہوٹل لوٹ آیا۔ میراخالہ زاد بھائی حافظ محمد سجاد حصول روزگار کے سلسلے میں کئی سالوں سے مدینہ منورہ میں مقیم ہے۔ جتنے دن میں وہاں رہا اس نے مقدماتِ مقدسہ کی خوب سیر کروائی۔ مدینہ منورہ میں ہی ایک دن اپنے دوست ڈاکٹر محمد مفتی محمد کریم خان صاحب سے ملاقات ہوئی۔ وہ بھی عمرہ کرنے آئے ہوئے تھے۔ انہی کی معیت میں مَیں ایک
دن ڈاکٹر رضوان مدنی نبیرہ حضرت شیخ ضیاء الدین مدنی علیہ الرحمہ کی زیارت کے لیے بھی گیا۔
۵۲ دسمبر کو پھر مدینہ سے مکہ آئے۔ مفتی کریم خان صاحب بھی اسی دن مکہ واپس آئے۔ ڈاکٹر حافظ نوید اقبال اور ڈاکٹر رضوان یونس جو میرے دوست ہیں‘ وہ بھی عمرہ کے لیے آئے ہوئے ہیں۔ان سے بھی مکہ میں ملاقات ہوئی۔ ایک دن رات کا کھانا بھی اکٹھے کھایا۔ مکہ مکرمہ میں رہتے ہوئے ایک دن غارِ حرا کی زیارت کے لیے بھی گیا۔ غار کی طرف چڑھائی اگرچہ بڑی مشکل تھی لیکن اس سفر سعادت میں
بڑا لطف تھا۔
۷۲ دسمبر کو جدہ ائیرپورٹ پہنچنا تھا اور جانب مصر روانہ ہونا تھا‘ چنانچہ رات ۲ بجے بس پر بیٹھ کر جدہ ائیرپورٹ کی طرف روانہ ہوا۔ فجر کی نماز سے پہلے وہاں پہنچ گئے۔ یہاں سے راقم کا سفر مصر شروع ہوا۔ائیرپورٹ پر نمازِ فجر کی ادائیگی اور دیگر مراحل سے گزر کر سعودی ائیرلائنز کے مصر کی طرف جانے والے جہاز میں سوار ہوا۔جہاز تقریباً پونے دس بجے جانب مصر روانہ ہوا اور مصری وقت کے مطابق گیارہ بجے قاہرہ ائیرپورٹ پرپہنچا۔ ایک گھنٹہ چیکنگ وغیرہ کے مراحل پر لگا۔ ڈاکٹر منیر صاحب کی ہدایت پر وسیم شاہ صاحب ائیرپورٹ پہنچ چکے تھے۔ ائیرپورٹ سے باہر نکلا تو شاہ صاحب تیزی سے میری طرف لپکے۔ سلام دُعا کے بعد اُنہوں نے میرا سامان ٹیکسی میں رکھوایا۔ ہم دونوں ٹیکسی میں بیٹھ کر وادیئ حوف‘ جہاں ڈاکٹر منیر صاحب کی رہائش گاہ تھی‘ کی جانب روانہ ہو گئے۔گاڑی فراٹے بھرتی جا رہی تھی۔ راستے میں وسیم صاحب اور ڈرائیور سے گپ شپ ہوتی رہی۔ سوا ایک بجے ہم وادیئ حوف میں ڈاکٹرمنیر صاحب کی فراہم کردہ رہائش گاہ پہنچ گئے۔ ڈاکٹر صاحب ان دنوں چند روز کی چھٹی پر پاکستان آئے ہوئے تھے‘ چند دنوں بعد واپس پہنچ جائیں گے۔رہائش گاہ پر موجود دو پاکستانی دوستوں نے جو کہ جامعۃ الازھر میں زیر تعلیم تھے‘ نے استقبال کیا اور بڑی محبت سے ملے‘ ایک کا نام حافظ عبدالرزاق اور دوسرے کا نام قاری حسن رضا اسدی تھا۔ جب تک میں یہاں رہا کچھ دن حافظ عبدالرزاق کھانا تیار کرتے رہے اور زیادہ دنوں تک قاری حسن رضا
نے یہ ذمہ داری باحسن طریق نبھائی۔ ان کے علاوہ کچھ دیگر پاکستانی طلبہ بھی یہاں مقیم تھے۔
مصر میں مجھے ۳ فروری تک ٹھہرنا تھا۔ اس مختصر سی مدت میں مَیں بہت کچھ حاصل کرنا چاہتا تھا‘ جن میں تین چیزیں زیادہ اہم تھیں:
۱) جامعۃ الازھر کے عریبک لینگوئج سنڑ میں باقاعدہ داخلہ لے کر وہاں کے اساتذہ سے فیضیاب ہونا۔
۲) الجامع الازھر (جامعۃ الازھر کی مسجد) میں ہونے والی اوپن کلاسز میں شرکت کرنا۔
۳) قاہرہ اور سکندریہ میں موجود اہلِ بیت اطہار‘ صحابہ کرام‘ فقہائے عظام‘ محدثین کرام اور صوفیاء کرام کے مزارات کی زیارت کرنا۔
اللہ تعالیٰ نے میری یہ تینوں خواہشیں پوری کیں بلکہ اور بھی بہت کچھ حاصل کرنے کا موقع ملا۔
قاری حسن رضاصاحب جامعۃ الازھر کے اولڈ کیمپس کے سامنے واقع مدرسۃ الحسین میں قرآن کریم کی مختلف قراء توں میں منزل سنانے جاتے تھے‘ ۱۳ دسمبر کو وہ راقم کو بھی ساتھ لے گئے۔ وہاں پر موجود مدرسہ کے مدیر شیخ عدلان اور قاری صاحب کے اُستاد محترم شیخ زید بن محمود الازہری سے ملاقات ہوئی۔ تعارف کے بعد شیخ عدلان نے کہا کہ آپ یہاں منزل سنائیں اور سند حاصل کریں۔ چنانچہ میں نے حامی بھر لی اور شیخ زید صاحب کو روزانہ روایت حفص عن عاصم میں دو دو پارے زبانی سنانے شروع کر دئیے۔ شیخ صاحب کا شیڈول کچھ اس طرح کا تھا کہ ایک دن مدرسہ الحسین میں آتے اور ایک دن مقطم میں موجود ایک مدرسہ میں جاتے۔ چنانچہ میں اور قاری حسن صاحب ایک دن مدرسۃ الحسین اور ایک دن مقطم والے مدرسہ میں جاتے۔ اللہ تعالیٰ کی توفیق شاملِ حال رہی اور ۵۲ جنوری کو راقم کا قرآنِ کریم مکمل ہو گیا۔ راقم نے ۵۲ جنوری کو مدرسۃ الحسین میں شیخ صاحب کو انتیسواں پارہ آدھا اورتیسواں پارہ مکمل سنایا۔ یوں جو سفر سعادت چند دن پہلے شروع ہوا تھا وہ بخیروعافیت مکمل ہو گیا۔ شیخ صاحب نے بڑی حوصلہ افزائی فرمائی اور ناچیز کو روایت حفص عن عاصم کی اجازت عطا فرمائی۔ اپنی گفتگو میں اُنہوں نے راقم کے لیے یہ الفاظ بھی اپنی زبان مبارک سے فرمائے: ھو صاحب الھمۃ العالیۃ (یہ بڑا بلند ہمت والا
ہے)۔چند دن کے بعد شیخ عدلان اور اُستاد محترم نے راقم کو خوبصورت سند بھی اپنے دستِ مبارک سے عطا فرمادی۔
۰۳ دسمبر بعد از نمازِ عشاء علامہ محمد نعیم الدین الازہری‘ علامہ ثاقب شریف الازہری اور علامہ غلام مصطفی الازہری راقم سے ملنے وادیئ حوف رہائش گاہ پر آئے۔ علامہ نعیم الدین راقم کے قابل فخر اور بڑے لائق شاگرد ہیں۔ الازھر سے کلیہ اصول الدین مکمل کرنے کے بعد جامعۃ الدول العربیۃ‘ القاھرہ سے ایم فل کر چکے ہیں اور اب وہیں سے پی ایچ ڈی کر رہے ہیں۔ ان دنوں وہ دارالعلوم محمدیہ غوثیہ‘ بھیرہ شریف میں مدرس ہیں۔ چند دن کے لیے مصر میں ایک انٹرنیشنل کانفرنس میں شرکت کے لیے آئے ہوئے ہیں۔ علامہ ثاقب شریف میرے ایک شاگرد عاصم شریف کے چھوٹے بھائی ہیں‘ بڑے لائق انسان ہیں۔ علامہ غلام مصطفی بھی بڑی صلاحیتوں کے مالک ہیں۔ تینوں احباب بڑی محبت سے ملے۔ بڑی علمی محفل جم گئی۔ اکٹھے مل کر چائے پی۔ تقریباً ایک گھنٹے کے بعدیہ احباب رُخصت ہوگئے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*