بنیادی صفحہ -> اداریہ،کالم -> نیا پاکستان،ا نوکھا چاند اور نئی عیدیں

نیا پاکستان،ا نوکھا چاند اور نئی عیدیں

نیا پاکستان،ا نوکھا چاند اور نئی عیدیں
ڈاکٹر محمد جاسر آفتاب
سماجی پہلو ایک طرف، دوسری جانب سیاسی، اور ساتھ میں ریاستی بھی۔ ایک مذہبی تہوار جس میں روایتی رنگ بھی موجود ہے اور جو بغیر کسی لسانی، طبقاتی تقسیم کے ہر کسی کے لئے خوشی کا سامان مہیا کرتا ہے۔ وہ تہوار جودلوں کو جوڑتا ہے، بچھڑوں کو ملاتا ہے، ناراضگیاں دور کرتا ہے؛اس موقع پر سماجی طور پر دو حصے کر دیے ایک قوم کے۔
سیاسی پہلو انتہائی خطرناک کہ ایک ہی قوم میں، ایک ہی مذہب کے ماننے والوں نے،ایک مذہبی تہوار اس طرح سے منایا کہ قوم میں واضح تقسیم ظاہر ہوگئی۔ ریاستی پہلو تو اس سے بھی خطرناک کہ ریاست کی رِٹ کو چیلنج کرتے ہوئے ایک شخص نے قومی ادارے کے فیصلے کو ماننے سے انکار کیا اور ریاست کا ایک حصہ اس کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا تے ہوئے وفاق کے سامنے کھڑا ہو گیا۔
مفتی منیب الرحمٰن کی ذات سے لاکھ اختلافات ہو سکتے ہیں اور علمی بنیاد پر بحث بھی۔ مگر یہاں منیب الرحمٰن نامی شخص کی حیثیت نہیں بلکہ ایک ادارے کی اہمیت ہے۔ مرکزی رویتِ حلال کمیٹی ریاستِ پاکستان کا ادارہ ہے اور مفتی منیب الرحمٰن کو ریاست نے یہ ذمہ داری سونپی ہے کہ وہ اس ادارے کے چیئرمین کی حیثیت سے دیگر ممبران کی مشاورت سے چاند کے نظر آنے یا نہ آنے کا فیصلہ کریں۔ بطور پاکستانی میری یہ آئینی اور قانونی ذمہ داری ہے کہ میں اُس وقت تک مفتی منیب الرحمٰن کے فیصلے کو تسلیم کرتے ہوئے اس پر عمل کروں جب تک ان کے پاس یہ ریاستی ذمہ داری موجودہے۔ اسی طرح یہ بھی مجھ پر لازم ہے کہ اُس وقت تک چاند دیکھنے کے معاملے میں اِس ادارے کے فیصلے کو مقدم جانوں جب تک اسے اس اہم ترین فیصلے کا قانونی اختیار حاصل ہے۔
مسئلہ کوئی نیا نہیں، بات پرانی ہے اور معمول بھی کہ ہر سال چاند کی رویت پر مسئلہ پیدا ہوتا ہے۔ ہر سال ایک شخص ریاست کے ایک ادارے کی رِٹ کو چیلنج کرتا ہے اور لوگوں کو اس کے فیصلے کے خلاف جانے پر اکساتا ہے۔ مگر یہ سب انفرادی طور پر تھا۔ ریاست کے ادارے کو انفرادی طور پر چیلنج کیا جاتا اور لوگ انفرادی حیثیت میں اس کے پیچھے چل پڑتے۔ یہاں اس نئے پاکستان میں مسئلہ وہی پرانا پیش آیا مگر اس کو منفرد اور غیر سنجیدہ انداز سے ہینڈل کرتے ہوئے انتہائی خطرناک بنا دیا گیا۔ بجائے یہ کہ صوبائی حکومت وفاق کے فیصلے پر عملدرآمد کروانے کی اپنی آئینی ذمہ داری پوری کرتے ہوئے حکومتی رِٹ کو چیلنج کرنے والے اس شخص کے خلاف کارروائی عمل میں لاتی،خود اس کے ساتھ کھڑی ہو گئی اورقومی فیصلے کو چیلنج کر دیا۔
علم ہوا کہ وزیر اعظم پاکستان کی مشاورت سے یہ فیصلہ کیا گیا کہ خیبر پختونخواہ کی حکومت ایک دن پہلے عید منانے کا اعلان کردے۔ اس قدر غیر سنجیدہ رویے کی توقع اعلیٰ ترین سطح سے نہیں کی جاسکتی۔ اگر حکمران اس طرح کے حساس اور اہم ترین معاملات کو مذاق سمجھنے لگیں اور کسی سے مشاورت کئے بغیر غیر سنجیدہ انداز میں فیصلے کرنے لگیں تو ریاستی امور چلانا مشکل ہو جاتا ہے۔
معاملہ یہاں تک ایک دن میں نہیں پہنچا بلکہ گزشتہ ایک ماہ سے محترم فواد چوہدری کی جانب سے اس پر بات ہو رہی تھی اور توقع تھی کی یہ مسئلہ اس سال کسی خطرناک شکل میں سامنے آئے گا۔مگر اس کے باوجود اعلیٰ ترین سطح سے اس پر خاموش رہا جانا اور حکومت کے ساتھ ساتھ اداروں کا مذاق بننے دیا جانا، سمجھ سے باہر ہے۔
اگر نئے پاکستان کی انوکھی حکومت یہ سمجھتی ہے کہ چاند کی رویت کے لئے کسی ادارے کی بات کو تسلیم کرنا ضروری نہیں اور کوئی بھی شخص رویت حلال کمیٹی کے فیصلے کو نہ مانتے ہوئے الگ سے عید منانے یا روزے رکھنے کا اعلان کر سکتا ہے تو پھر حکومت اس ادارے کو ختم کر دے تاکہ نہ اس ادارے کا مذاق بنے اور نہ ہی حکومت کا۔ لوگ اپنے اپنے محلے کی مسجد میں چاند دیکھنے کا انتظام کر لیں۔ پھر جس کسی کو چاند نظر آ جائے وہ عید کر لے اور جسے نہ آئے وہ روزہ رکھ لے۔ ہاں اگر خواہش ہے کہ قومی یکجہتی اس معاملے پر باقی رہے اور ساری قوم ایک ہی دن عید منائے تو پھر کسی ایک ادارے کا موجود رہنا، اس موقع پر قومی فیصلے کا سنایا جانا اور پھر پوری قوم سے اس فیصلے پر عملدرآمد کروانا بہت ضروری ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ریاستی ادارے کے خلاف کھڑے ہونے والوں کے خلاف کھڑا ہونا بھی لازم ہے۔
اگرچاہتے ہیں کہ اگلے سال یہ تماشا نہ لگے جو حکومت اور اس کے وزراء نے خود لگایا تو اس کے لئے ابھی سے کوئی سنجیدہ قدم اٹھانا چاہئے۔ سب سے پہلے مفتی پوپلزئی جیسے عناصر کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لانی چاہئے جو ریاست کے فیصلے کو چیلنج کرتے ہوئے ہر سال قوم کو تقسیم کرتے ہیں۔ جب ایک فرض کی ادائیگی کے لئے ادارہ موجود ہے تو بطور پاکستانی اس ادارے کی بات کو تسلیم کرنا ہم سب پر فرض ہے۔ دوسری جانب اس ادارے میں بہتری کے لئے اقدامات اٹھانے چاہئیں تاکہ جہاں کہیں کمزوری موجود ہے وہ دور ہو سکے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*