بنیادی صفحہ -> اداریہ،کالم -> قربانی کی کھالیں، الائشیں اور گوشت کی تقسیم

قربانی کی کھالیں، الائشیں اور گوشت کی تقسیم

قربانی کی کھالیں، الائشیں اور گوشت کی تقسیم
ڈاکٹر محمد جاسر آفتاب
پاکستان کو ہر سال قومی سطح پر بڑے معاشی نقصان کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور اس کی وجہ عید الاضحیٰ کے موقع پر صرف جانور کی خریداری، گوشت اور اس کی تقسیم کو اہمیت دیتے ہوئے کھالوں کو نظر انداز کرنا ہے۔ جس طرح قربانی ایک عبادت ہے اسی طرح کھال کی حفاظت بھی عبادت ہے اور یہ صرف مذہبی ہی نہیں بلکہ قومی فریضہ بھی ہے۔ کھال قربانی کے جانورکا بنیادی حصہ ہے اور اس کے استعمال کے شرعی پہلو اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ یہ کسی کی امانت ہے۔اس لئے اس کی حفاظت اور اس ضمن میں احتیاط انتہائی ضروری ہے۔
کھال اتارتے ہوئے اسے کٹ لگ جاتے ہیں جس سے کھال کی قیمت کئی گنا گر جاتی ہے۔ جتنے کٹ زیادہ ہوں گے، کھال کی اتنی ہی وقعت کم ہو گی۔ اس مناسبت سے ضروری ہے کہ تجربہ کار قصائی سے خدمات حاصل کی جائیں۔ چونکہ ہمارے ہاں بہت بڑی تعداد میں لوگ آج بھی جانور کی قربانی خود کرتے ہیں اس لئے بھی کھال میں کٹ زیادہ لگتے ہیں۔ اس موقع پر کھال اتارنے کا ہر ایک کو شوق ہوتا ہے اور اس شوق میں کھال کا ستیا ناس کر دیا جاتا ہے۔
کھال کو کٹ سے بچانے کے ساتھ ساتھ ضروری ہے کہ اسے گرمی، دھوپ اور بارش سے بچایا جائے۔ کھال اتارنے کے فوراََ بعد اسے کھلی جگہ پر پھیلا دیں اور اس پر اندر کی جانب نمک چھڑک دیں۔ اس چھوٹی سی سرگرمی سے بڑی تعداد میں کھالوں کومحفوظ کیا جا سکتا ہے، اس پر نہ زیادہ وقت لگتا ہے اور نہ ہی پیسہ۔ مزید کوشش کریں کہ کھال کو فوراََ اس شخص یا ادارے تک پہنچائیں جسے دینی ہو تاکہ وہ اپنے طریقے سے اسے محفوظ کر لیں۔ اس حوالے سے یاد رکھنا چاہئے کہ بغیر نمک لگی کھال چار گھنٹے کے بعد خراب ہونا شروع ہو جاتی ہے۔مزید اس بات کا بھی خیال رکھنا چاہئے کہ کھال کو پلاسٹک کے شاپر میں نہ ڈالا جائے۔
الائشیں گھر سے باہر گلی، سڑک کے کنارے یا خالی پلاٹ میں پھینکنے سے وقتی طور پر تو جان چھڑائی جا سکتی ہے مگر کچھ عرصہ بعد اس کی بدبو اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی بیماریوں نے مجموعی طور پر دیگر لوگوں کے ساتھ ساتھ پھینکنے والے کو بھی متاثر کرنا ہوتا ہے۔ ضروری ہے کہ الائشیں ایسی جگہ پر پھینکی جائیں جو اداروں کی جانب سے مختص کی گئی ہو۔اگر الائشیں خود پھینکنا ممکن نہ ہو تو کسی شخص سے عید سے قبل بات کر لی جائے اور اسے معاوضہ دے دیا جائے کہ وہ ان الائشوں کو مقررہ وقت پر مختص جگہ پر پہنچا دے۔
کھال کے بعد اہم ترین پہلو گوشت اور اس کی تقسیم ہے۔ یاد رہنا چاہئے کہ وقت کے ساتھ ساتھ غربت میں اضافے کے باعث جہاں غریبوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے وہاں سفید پوش لوگوں کا حلقہ بھی بڑھتا چلا جا رہا ہے۔ ہمارے گلی محلوں اور رشتے داروں میں کئی ایسے گھرانے موجود ہوتے ہیں جنہیں سارا سال گوشت کھانا نصیب نہیں ہوتا ہے یا پھر بہت کم ہوتا ہے۔ بد قسمتی سے ایسے گھرانے بھی مل جاتے ہیں جہاں دن میں ایک وقت کھانا پکایا جاتا ہے۔ گوشت کی تقسیم کے وقت ایسے لوگوں کو یاد رکھنا چاہئے۔
اگر آپ اس قابل ہیں کہ سارا سال گوشت کھاتے رہتے ہیں تو قربانی کے موقع پر اپنے پیٹ اور زبان کی قربانی بھی دیں اور فریج اور فریزر بھرنے کی بجائے مستحق لوگوں تک گوشت پہنچائیں تاکہ وہ اسے محفوظ کر کے کچھ عرصہ تک کھاتے رہیں۔ اسی طرح بہت سے ایسے لوگ بھی ہمارے ارد گرد موجود ہوتے ہیں جنہیں جانور کے پائے کھانے کا عید ہی پر موقع ملتا ہے۔ سری، پائے، کلیجی، اوجھڑی وغیرہ دیتے وقت بھی ایسے لوگوں کو یاد رکھنا چاہئے اور اگر کو ئی ان چیزوں کی خواہش کر ے تو اپنی خواہش کی قربانی دیتے ہوئے اس کے جذبات کا احترام کرنا چاہئے۔
قربانی میں حصہ کی صورت میں حصے داروں کو باہمی احترام کو ملحوظ خاطر رکھنا چاہئے۔ شرعی پہلو اس کا تو ہے ہی کہ تقسیم برابری کی بنیاد پر ہونی چاہئے لیکن اگر نادانستہ طور پر کسی جگہ اونچ نیچ ہو جائے یا کوئی حصے دار گوشت کے خاص حصے میں سے کچھ زیادہ لینے کی خواہش کر لے تو اسے دل میں نہیں رکھنا چاہئے اور منفی سوچ سے قربانی کے مقصد پر اثر انداز نہیں ہونا چاہئے۔ اسی طرح جانور کے کچھ حصے ایسے ہوتے ہیں جن کی تقسیم برابر نہیں ہو سکتی۔ مثال کے طور پر اگر حصے سات ہیں اور پائے چار، تو اب یا تو پائے توڑ کر تقسیم کئے جائیں یا پھر ایک دوسرے کو برداشت کرتے ہوئے باہمی رضا مندی سے انہیں ثابت ہی تقسیم کر لیا جائے۔
عید الاضحٰی کے موقع پر فریج میں رکھے گوشت کو جلد از جلد ختم کرنا چاہئے کیونکہ بجلی کے بار بار بند ہونے سے گوشت فریز اور ڈی فریز ہوتا رہتا ہے جس سے گوشت کی کوالٹی متاثر ہوتی ہے جبکہ ایسا گوشت کھانے سے صحت کے مسائل بھی جنم لیتے ہیں۔ اس موقع پر دن رات صرف گوشت ہی نہیں کھانا چاہئے بلکہ ترتیب ایسی بنانی چاہئے کہ دن میں ایک دفعہ سبزی کھالی جائے تاکہ خوراک میں توازن قائم رہے اور معدے کی بیماریوں کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*