بنیادی صفحہ -> اداریہ،کالم -> رمضان المبارک، صدقات، مستحقین اور تقسیم

رمضان المبارک، صدقات، مستحقین اور تقسیم

رمضان المبارک، صدقات، مستحقین اور تقسیم
ڈاکٹر محمد جاسر آفتاب
بہت سے ایسے لوگ بھی ہمارے ارد گرد موجود ہوتے ہیں اور بڑی تعداد میں ہوتے ہیں، جن کے گھر دو وقت نہیں بلکہ ایک وقت کا کھانا پکتا ہے۔ ایسے لوگ بھی ملیں گے جو کھانا تو شاید کھا لیتے ہوں مگر ان کے پاس سال میں ایک دفعہ بھی کپڑے بنانے کے پیسے نہیں ہوتے۔ اسی طرح بہت سے سفید پوش لوگ بھی ملتے ہیں جو بظاہر تو آسان زندگی گزار رہے ہوتے ہیں مگر اندر سے انتہائی مشکلات کا شکار ہوتے ہیں۔ اکثرلوگ اپنی خواہشات کا گلا دبا کر اور حتیٰ کہ پیٹ کاٹ کراپنے بچوں کی فیسیں پوری کررہے ہوتے ہیں۔ بے شمار لوگ ایسے بھی موجود ہوتے ہیں جو کسی وجہ سے قرضے میں ڈوب جاتے ہیں اور پھر قرض ادا کرنے کی طاقت نہیں رکھتے یا پھر قرض ادا کرتے کرتے عمر کا ایک حصہ گزار دیتے ہیں۔ ایسے لوگ بھی ہمارے ارد گرد ہی ہوتے ہیں جو کاروبار میں نقصان کے باعث شدید مالی مشکلات کا شکار ہو جاتے ہیں۔
ٹیلی ویژن اور اخبارات کے اشتہاروں اور سڑکوں پر لگے سٹیمرز اور سائن بورڈوں سے اگر ہٹ کر دیکھیں تو ہمارے رشتے داروں، اور اس سے قریب،ہمارے گلی محلوں میں ایسے بے شمار لوگ ملتے ہیں۔یہ وہ لوگ ہیں جن کے لئے نہ تو کوئی آواز اٹھاتا ہے اور نہ ہی یہ لوگ اپنی حالت بارے لوگوں کو آگاہ کر سکتے ہیں۔ یہ نہ تو کسی سے مانگتے ہیں اور نہ ہی کسی اشتہار کے ذریعے ہماری توجہ حاصل کر سکتے ہیں۔
رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں ہمارے ہاں خیرات اور صدقات دینے کا سلسلہ بڑھ جاتا ہے۔ اسی طرح اکثر لوگ زکوٰۃ بھی اسی مہینے میں ادا کرتے ہیں۔ مخیر حضرات کی جانب سے راشن کی تقسیم، دسترخوانوں کے انتظام اور افطاری کے اہتمام جیسی چیزیں بھی سامنے آتی ہیں۔ دوسری جانب افطار پارٹی کے انعقاد کے ساتھ ساتھ دیگ پکوا کر رشتے داروں اور ہمسایوں میں تقسیم کرنے کا بھی رواج ہے۔ ہر صاحب استطاعت شخص اپنی اپنی جگہ اپنی اپنی حیثیت کے مطابق بانٹتا ہے۔
اگر دیگ کی بات کریں تو اس پر 4500 سے 7000 روپے تک کا خرچہ آتا ہے۔ اتنی رقم سے پکنے والی یہ دیگ اس انداز میں تقسیم ہوتی ہے کہ اس سے شاید کسی ایک شخص کا بھی پیٹ نہ بھرتا ہو۔ دوسری جانب عام طور پر یہ انہی لوگوں میں تقسیم ہوتی ہے جنہیں علم ہی نہیں ہوتا کہ بھوک کیا چیز ہے اور چولہے کیسے ٹھنڈے ہوتے ہیں۔ یہی 5000 روپے اگر کسی غریب آدمی کو دیے جائیں تو اس کے پورے خاندان کے عید کے کپڑے بن سکتے ہیں جو نہ صرف اس کی عید کو اچھابنا دیں گے بلکہ اگلے دو سال تک اس کے کام آئیں گے۔ اسی طرح فطرانہ دس دس روپے کر کے بانٹنے کی بجائے مکمل رقم کسی ایسے گھرانے کو دیں جہاں بچوں کے کپڑے وغیرہ بن سکیں اورعید سے کچھ دن پہلے دیں تاکہ بروقت انتظام ہو سکے۔
ممکن ہے کہ میرے پاس جو سو روپیہ ہے اس کی کوئی اہمیت نہ ہو اور وہ میں بچے کو جیب سے نکال کر دے دوں۔ مگر ہمارے ارد گرد ایسے لوگ بھی موجود ہیں جن کے لئے 100 رپے کی اتنی اہمیت ہے جتنی کہ ایک عام آدمی کے لئے1000 روپے کی۔ بہت سے گھرانے ایسے ہیں کہ اگر انہیں ایک سو روپے مل جائیں تو ان کا ٹھنڈا چولہا دو دن تک جل سکتا ہے۔ اسی طرح ہوسکتا ہے کہ کسی ایک شخص کے لئے ایک ہزار روپے کی وقعت نہ ہو یا کسی کو ایک ہزار دینے سے اسے کوئی فرق نہ پڑتا ہو مگر ممکن ہے کہ وہی ایک ہزار کسی اور شخص کے لئے اتنی اہمیت کا حامل ہو جتنا کہ پہلے کے لئے ایک لاکھ۔
لاکھوں اور کروڑوں پتی لوگ، اگر کسی کو دو لاکھ، پانچ لاکھ، دس لاکھ بھی دے دیں، تو انہیں کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ ان کی گاڑیاں، ان کے کاروبار اور ان کے عیش و آرام ایسے ہی چلتے رہیں گے۔ لیکن ان لوگوں کے اپنے ہی قریبی رشتے داروں، دوستوں اور ہمسایوں میں ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں جن کو اگر یہ چند لاکھ دے دیے جائیں تو ان کی ساری زندگی سنور جائے۔ نہ صرف ان کی زندگی کے بڑے مسائل حل ہو جائیں بلکہ ان کی آنے والی نسلیں بھی بہتر ہو جائیں۔
ہمیں صدقات، خیرات، زکوٰۃ وغیرہ کی ادائیگی کے لئے کوشش کرنی چاہئے کہ بجائے اسے چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں تقسیم کر کے بانٹیں، یکمشت کسی ایسے شخص کو دیں جس سے اس کے حالات میں واضح تبدیلی آ سکے۔ اس کے لئے دور نہیں، اپنے ہمسائے، اپنے رشتے داروں، اپنے ملازمین، اپنے Colleagues اور اپنے دوستوں میں نظر دوڑانی چاہئے؛ بہت سے پریشان حال، بہت سے کسم پرسی کے مارے اور بہت سے سفید پوش مل جائیں گے جن کے لئے تھوڑی سی رقم بھی زندگی واپس لانے کے مترادف ہو سکتی ہے۔

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*