بنیادی صفحہ -> اداریہ،کالم -> فسادی اب تیری بربادی!!!

فسادی اب تیری بربادی!!!

فسادی اب تیری بربادی!!!
تحریر:ڈاکٹرظہوراحمد دانش
ایک شخص سے دوسرے شخص کی طرف، یا ایک جماعت سے دوسری جماعت کی طرف، یا ایک قبیلہ سے دوسرے قبیلہ کی طرف فساد اور جھگڑے کی غرض سے کوئی کلام منتقل کرنا، یعنی ہر اس چیز یا راز کو کھول دینا جس کا کھل جانا نا پسندیدہ ہو، خواہ اس شخص کو ناپسند ہو جس سے متعلق نقل کیا گیا یا اس شخص کو جس کی طرف نقل کیا گیا، یا تیسرا شخص اس کو ناپسند کرتا ہو، چاہے یہ برائی قول سے ہو یا فعل سے ہو یا اشارے سے ہو، اور چاہے منقولہ چیز قول کی شکل میں یا فعل کی شکل میں، اور چاہے یہ چیز منقول عنہ کے لئے عیب اور نقص کی بات ہو یا نہ ہو؛ لہذا انسان کو لوگوں کے احوال کے تعلق سے خاموش رہنا چاہیے۔
ہاں اگر اس کو بیان کرنے سے مسلمانوں کا فائدہ ہو، یا کسی برائی کا ازالہ ہو تو جائز ہے۔ چغل خوری کے متعدد اسباب ہوسکتے ہیں:
1-منقول عنہ کے حق میں برائی کی نیت
2- منقول الیہ سے محبت کا اظہار
3- فضول باتوں میں مشغول ہو کر لطف اندوز ہونا، یہ تینوں طریقے اسلام میں حرام ہیں، چنانچہ اگر کسی شخص سے کوئی کسی قسم کی چغلی کرتا ہے تو اس شخص کو چاہیے کہ اس چغل خور کی تصدیق نہ کرے، کیونکہ چغل خور فاسق اور گواہی میں غیر معتبر ہوتا ہے۔
علامہ نووی علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں: لوگوں میں فساد ڈالنے کیلئے ایک کی بات دوسرے کو بتاناچغلی ہے۔کسی ضرورتِ شرعی کے بغیر چغلی کرناحرام ہے مثلاً جسے بات پہنچا رہا ہے نہ پہنچانے میں اسے نقصان ہوگاتو بات بتانا واجب ہے کیونکہ اب یہ چغلی نہیں خیر خواہی ہوگی۔
افسوس! آج ہمارے معاشرے میں یہ مرض بھی عام ہے۔بدقسمتی سے بعض لوگوں میں یہ مرض اتنی ترقی پا چکا ہوتا ہے کہ لاکھ کوشش کے باوجود اس کا علاج نہیں ہوپاتا۔ اس قسم کے لوگ جب تک اپنی لگائی ہوئی آگ سے کسی کا نشیمن جلتے ہوئے نہ دیکھ لیں انہیں کسی کروٹ چین نہیں آتا اورنہ ہی یہ ایک معرکہ سر کرنے کے بعد دوسرے میدان کی طرف بڑھ جانے میں تاخیر کرتے ہیں۔
ایسوں کی خدمت میں گزارش ہے کہ چغل خوری کی مذمت میں رحمن عزوجل اوراس کے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کے فرامین ملاحظہ کریں اور چغل خوری کے نتیجے میں ہونے والے نقصانات سے بچنے کے لئے اپنی آنکھیں بند ہونے سے پہلے کامل توبہ کی سعادت حاصل کر لیں۔
اورہرایسے کی بات نہ نا جو بڑا قسمیں کھانے والا ذلیل بہت طعنے دینے والا بہت ادھر کی ادھر لگاتا پھر نے والا۔
حضرتِ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رحمتِ عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: غیبت اورچغلی ایمان کو اس طرح قطع کر دیتی ہیں جیسے چرواہا درخت کو کاٹ دیتاہے۔
حضرتِ سیدتنا اسماء بنت یزید رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے بد ترین بندے وہ ہیں جو لوگوں میں چغلی کھاتے پھرتے ہیں اور دوستوں کے درمیان جدائی ڈالتے ہیں
حضرتِ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ:میرے نزدیک تم میں سب سے پسندیدہ لوگ وہ ہیں جو تم میں بہترین اخلاق والے نرم دل،لوگوں سے محبت کرنے والے اور جن سے لوگ محبت کرتے ہونگے اور تم میں میرے نزدیک سب سے ناپسند یدہ لوگ وہ چغل خور ہیں جو دوستو ں کے درمیان تفرقہ ڈالتے اور پاک دامن لوگو ں میں عیب ڈھونڈتے ہونگے۔
حضرتِ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے سرورِ کونین صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ چغل خور جنت میں نہیں جائے گا۔
قارئین:ہم آپ کو ایک حکایت بتاتے ہیں۔ذراغور کیجئے گا کہ چغل خور کا انجام کیاہے؟
ایک شخص بازار میں غلام خریدنے گیا۔ اسے غلام پسند آگیا، بیچنے والے نے کہا کہ اس غلام میں کوئی عیب نہیں ہے بس یہ ہے کہ اس میں چغلی کی عادت ہے۔ خریدار راضی ہو گیا اور غلام خرید کر گھر لے آیا۔ ابھی کچھ ہی دن ہوئے تھے کہ غلام کی چغل خوری کی عادت نے یہ گل کھلایا کہ اس نے اس شخص کی بیوی سے تنہائی میں جا کر کہا کہ تمہارا شوہر تمہیں پسند نہیں کرتااور اب اس کا ارادہ باندی رکھنے کا ہے۔
لہٰذا رات کو جب وہ سونے آئے تو استرے سے اس کے کچھ بال کاٹ کر مجھے دے دو تاکہ میں اس پر عملِ سحر کرا کر تم دونوں میں دوبارہ محبت کا انتظام کر سکوں۔ بیوی اس پر تیار ہو گئی اور اس نے استرے کا انتظام کر دیا۔
ادھر غلام نے کچھ اپنے آقا سے جا کر یوں بات بنائی کہ تمہاری بیوی نے کسی غیر مرد سے تعلقات قائم کر لیے ہیں اور اب وہ تمہیں راستہ سے ہٹا دینا چاہتی ہے۔ اس لیے ہوشیار رہنا…. رات کو جب وہ بیوی کے پاس گیا تو دیکھا کہ بیوی استرا لا رہی ہے۔ وہ سمجھ گیا کہ غلام نے جو خبر دی تھی وہ سچی تھی۔ اس لیے قبل اس کے کہ بیوی کچھ کہتی اس نے اسی استرے سے بیوی کا کام تمام کر دیا۔ جب بیوی کے گھر والوں کو اس واقعہ کا علم ہوا تو انہوں نے آ کر شوہر کو قتل کر دیا۔ اس طرح اچھے خاصے خاندانوں میں خونریزی کی نوبت آ گئی۔
دیکھا آپ نے کہ چغل خوری کا کیا انجام ہے۔
کسی دانا کا قول ہے: چغل خوری دلوں میں دشمنی پیدا کرتی ہے اور جس نے تمہاری چغلی کی بے شک اس نے تمہیں گالی دی اور جو تمہارے سامنے کسی کی چغلی کرتاہے وہ تمہاری بھی چغلی کر تا ہوگا چغل خورجس کے سامنے چغلی کر تا ہے اس کے لئے جھوٹ بولتاہے اور جس کی چغلی کرتاہے اس سے بد دیا نتی کرتا ہے۔
:اپنی زبان کی حفاظت کر،اس کے ذریعے کسی کوبھی تکلیف نہ دے، کہ جوشخص لوگوں پرعیب لگاتاہے،اس پربھی عیب لگائے جاتے ہیں۔
جی قارئین:پتاچلا!کہ چغل خوری کس قدر بری عادت ہے۔اور اس کا کس قدر برا انجام ہوتاہے۔
چغل خور!!یادرکھ لیں!ان کا انجام کچھ اچھانہیں!چغلی خورمحبتوں کا چور ہوتاہے۔۔۔۔۔۔۔۔مت اپنے معاشرے کو نفرتوں کا جہاں بنائیں!۔۔خدارا!ایسا نہ کریں ایسانہ کریں!فسادی اب تیری بربادی

جواب لکھیں

آپ کا ای میل شائع نہیں کیا جائے گا۔نشانذدہ خانہ ضروری ہے *

*